منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تازہ حملوں اور سعودی عرب کی مشرقی مغربی پائپ لائن کی مسلسل بندش نے عالمی رسد سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا، جبکہ خلیج میں جہاز رانی کی صورتحال بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.37 ڈالر، یعنی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 107.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.53 ڈالر، یعنی 1.51 فیصد بڑھ کر 102.92 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔
تیل کی منڈی پر تازہ دباؤ جمعہ کو سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے بعد بڑھا۔ ریاض نے ان حملوں کا الزام عراق میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر عائد کیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرقی مغربی پائپ لائن متاثر ہوئی، جو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے سعودی تیل کی برآمد کے لیے ایک اہم متبادل راستہ ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق تیل کے تاجر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے ہر نئے حملے کو عالمی رسد کے لیے ایک اضافی خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ساتھ ہی منڈی اس امکان پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ مشرقی مغربی پائپ لائن یا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کب معمول پر آسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ہفتے کے اختتام پر اجناس لے جانے والے جہازوں کی یومیہ آمدورفت 10 سے بھی کم رہ گئی، جبکہ گزشتہ 10 روز کی اوسط 14 جہاز یومیہ تھی۔
اس کمی نے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا میں تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔
اگر سعودی عرب اپنی مشرقی مغربی پائپ لائن جلد بحال نہ کرسکا تو عالمی تیل منڈی پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ سعودی تیل کے خریداروں اور تاجروں کے مطابق پائپ لائن کی بندش برقرار رہنے کی صورت میں سعودی عرب کے پاس برآمد کے لیے دستیاب تیل چند دنوں میں کم ہونا شروع ہوسکتا ہے۔
پائپ لائن کی طویل بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً چار فیصد متاثر ہوسکتا ہے، جس سے پہلے ہی بلند سطح پر موجود خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔









