غزہ کی جنگ کے بعد سلامتی کا مخمصہ: زمین پر فوج کون اتارے گا؟

[post-views]
[post-views]

امن معاہدہ سفارت کار تیار کر سکتے ہیں، حکومتیں اس کی توثیق کر سکتی ہیں اور بین الاقوامی ادارے اسے باضابطہ شکل دے سکتے ہیں۔ لیکن اس معاہدے پر عملی طور پر عمل درآمد کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ اس کے لیے ایسی ریاستوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے اہلکار زمین پر تعینات کرنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور سلامتی کے خطرات قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔

غزہ کے لیے جنگ کے بعد کے سلامتی کے نظام کی تشکیل میں یہی مسئلہ تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے۔

مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس (آئی ایس ایف)، جسے غزہ کے وسیع تر عبوری انتظام کے تحت کام کرنا ہے، کی ذمہ داریاں محض روایتی جنگ بندی کی نگرانی تک محدود نہیں ہوں گی۔ اس کے متوقع کردار میں شہریوں کا تحفظ، انسانی امدادی سرگرمیوں میں معاونت، فلسطینی پولیس کی استعدادِ کار کی بحالی میں مدد اور ہتھیاروں اور عسکری تنصیبات کو ختم کرنے کے عمل میں معاونت شامل ہے۔

اب اصل مشکل ایسی فورس کا خاکہ تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسی حکومتوں کو آمادہ کرنا ہے جو اسے مؤثر بنانے کے لیے اپنے فوجی فراہم کرنے کو تیار ہوں۔

امن کی نگرانی یا امن کا نفاذ؟

یہ فرق پورے مسئلے کی بنیاد ہے۔

انسانی امداد لے جانے والے قافلوں کی حفاظت، جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینی پولیس کی تربیت میں معاونت ایسے کام ہیں جنہیں حکومتیں نسبتاً آسانی سے استحکامی یا انسانی ذمہ داریوں کے طور پر پیش کر سکتی ہیں۔ لیکن غیر عسکری بنانے کے عمل میں حصہ لینا کہیں زیادہ حساس معاملہ ہے۔

مجوزہ مینڈیٹ میں عسکری تنصیبات کو ختم کرنے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر غیر مؤثر بنانے میں معاونت شامل ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی انخلا کو بھی اس عمل میں قابلِ تصدیق پیش رفت سے منسلک کیا گیا ہے۔

اس صورتِ حال میں بین الاقوامی فوجیوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں ان سے صرف طے شدہ امن برقرار رکھنے کے بجائے کسی متنازع شق کے عملی نفاذ میں مدد دینے کی توقع کی جائے۔

فوجی فراہم کرنے والی ممکنہ ریاستوں کے لیے یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ انہیں صرف یہ فیصلہ نہیں کرنا کہ ان کی افواج یہ ذمہ داری انجام دے سکتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر فریقین کے درمیان تعاون ختم ہو جائے تو کیا وہ اس کے سیاسی اور سلامتی سے متعلق نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انڈونیشیا کا معاملہ مینڈیٹ کا مسئلہ واضح کرتا ہے

انڈونیشیا کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ بڑی تعداد میں فوجی فراہم کرنے کی آمادگی کے باوجود ان کے کردار پر نمایاں پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

جکارتہ نے ابتدا میں ہزاروں اہلکار فراہم کرنے پر غور کیا تھا۔ تاہم اس نے اپنے ممکنہ کردار کو انسانی اور غیر جنگی نوعیت کا قرار دیا، فلسطینی رضامندی کو ضروری قرار دیا اور واضح کیا کہ اس کے فوجی کسی فریق کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔ بعدازاں وسیع تر علاقائی کشیدگی اور عملی انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کے باعث تعیناتی روک دی گئی۔

اس مثال سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: محض یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کسی ملک نے کتنے فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ وہ فوجی کن عملی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یوں کوئی استحکامی فورس کاغذ پر بہت بڑی دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اگر مختلف ممالک کے دستے مختلف اور محدود مینڈیٹ کے تحت کام کریں تو عملی میدان میں اس کی صلاحیت محدود رہ سکتی ہے۔

عرب ممالک کی شرکت کیوں اہم اور مشکل ہے؟

بڑی عرب ریاستوں کی جانب سے نمایاں فوجی دستوں کی عدم دستیابی ایک اور اہم مسئلہ ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور قطر سمیت خطے کی حکومتوں نے غزہ کی سیاسی منتقلی کے مختلف پہلوؤں کی حمایت کی ہے۔ تاہم سفارتی حمایت، مالی معاونت اور ادارہ جاتی تعاون اب تک بڑی تعداد میں فوجی زمین پر بھیجنے کی آمادگی میں تبدیل نہیں ہوا۔

اس سیاسی ہچکچاہٹ کی وجوہات قابلِ فہم ہیں۔

عرب فوجیوں کو اسرائیلی افواج اور مسلح فلسطینی گروہوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔ اگر غیر عسکری بنانے کا عمل طاقت کے استعمال تک پہنچ گیا تو شریک عرب حکومتوں پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ ان کے فوجی امن برقرار رکھنے اور فلسطینیوں کے تحفظ کے بجائے باہر سے تشکیل دیے گئے سیاسی بندوبست کو نافذ کر رہے ہیں۔

اگر اس دوران جانی نقصان ہوا تو سیاسی حساسیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب، عرب ممالک کی نمایاں شرکت اس فورس کو وہ علاقائی قبولیت فراہم کر سکتی ہے جو زیادہ تر دور دراز ممالک پر مشتمل فورس کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوگی۔

یوں جن ممالک کی شرکت آئی ایس ایف کے سیاسی جواز کو مضبوط بنا سکتی ہے، انہی کو اس میں شامل ہونے سے سب سے زیادہ سیاسی خطرات بھی لاحق ہیں۔

چھوٹے ممالک مدد کر سکتے ہیں، مگر مکمل حل نہیں

اسرائیل فلسطین تنازع سے نسبتاً کم براہِ راست تعلق رکھنے والے ممالک کے لیے فورس میں شمولیت سیاسی طور پر قدرے آسان ہو سکتی ہے۔

کوسوو نے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ماہرین سمیت خصوصی اہلکار فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ البانیہ نے فورس کے کمانڈ ڈھانچے میں اہلکار دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مراکش کی حیثیت مختلف ہے کیونکہ وہ ایک عرب اور مسلم اکثریتی ملک ہونے کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی رکھتا ہے۔

ایسی شراکت اہم ہے۔ تکنیکی ماہرین، طبی عملہ، منصوبہ ساز اور کمانڈ افسران فورس کو ضروری صلاحیتیں فراہم کر سکتے ہیں اور اس کی بین الاقوامی نمائندگی وسیع کر سکتے ہیں۔

لیکن اگر آئی ایس ایف کو پورے غزہ میں سلامتی برقرار رکھنی ہے تو محدود تعداد میں ماہرین ہزاروں فوجیوں پر مشتمل بڑی فورس کا مستقل متبادل نہیں بن سکتے۔

اس لیے فوجیوں کی تعداد، ان کی صلاحیت اور فورس کے سیاسی جواز کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔

اقدامات کی ترتیب کا مسئلہ

ایک زیادہ پیچیدہ سوال یہ ہے کہ سیاسی اور سلامتی کے اقدامات کس ترتیب سے آگے بڑھیں گے۔

اسرائیلی انخلا کو غیر عسکری بنانے کے عمل میں پیش رفت سے جوڑا گیا ہے، جبکہ غیر عسکری بنانے کے عمل کا نفاذ خود اسرائیلی انخلا اور وسیع تر سیاسی منصوبے کے دیگر اقدامات سے منسلک ہے۔ بین الاقوامی استحکامی فورس کو اسی عبوری مرحلے میں سلامتی فراہم کرنا ہے۔

یہ ایک دائرہ نما مسئلہ پیدا کرتا ہے۔

حکومتیں اپنے فوجی اس وقت بھیجنے کو ترجیح دے سکتی ہیں جب خاطر خواہ سیاسی پیش رفت ہو چکی ہو اور ان کے اہلکاروں کو درپیش خطرات کم ہو گئے ہوں۔ لیکن ایسی سیاسی پیش رفت کے لیے پہلے ہی ایک قابلِ اعتماد بین الاقوامی فورس کی موجودگی ضروری ہو سکتی ہے تاکہ سلامتی اور اعتماد فراہم کیا جا سکے۔

یوں آئی ایس ایف کو فوجی حاصل کرنے کے لیے سیاسی پیش رفت درکار ہے، جبکہ سیاسی عمل کو محفوظ طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے خود آئی ایس ایف کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اصل امتحان سیاسی اعتماد کا ہے

فوجی فراہم کرنے کے معاملے کو محض افرادی قوت کی کمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

آئی ایس ایف میں شامل ممالک کی نوعیت دراصل اس بات کا اظہار ہوگی کہ حکومتیں غزہ کے مجوزہ سیاسی عبوری عمل پر کتنا اعتماد کرتی ہیں۔ انسانی امداد فراہم کرنا یا سفارت کاری کی حمایت کرنا ایک سطح کی وابستگی ہے، لیکن جنگ کے بعد غیر یقینی ماحول میں اپنے فوجی بھیجنا بالکل مختلف درجے کا فیصلہ ہے۔

غزہ کے جنگ کے بعد کے نظام کا ادارہ جاتی خاکہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن کاغذ پر قائم ادارے خود سلامتی فراہم نہیں کر سکتے۔

استحکامی فورس کو قابلِ اعتماد بنانے کے لیے شریک حکومتوں کو اس کے مینڈیٹ، فوجی کارروائی کے قواعد، فلسطینی اداروں کے ساتھ تعلق، اسرائیلی انخلا سے اس کے ربط اور غیر عسکری بنانے کے عمل میں مزاحمت کی صورت میں اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں زیادہ وضاحت درکار ہوگی۔

آخرکار غزہ کے جنگ کے بعد کے منصوبے کو درپیش بنیادی چیلنج یہی ہے: تمام سیاسی اختلافات حل ہونے سے پہلے امن منصوبہ طے کیا جا سکتا ہے، لیکن اس امن کو زمین پر محفوظ بنانے والے فوجی غیر واضح ذمہ داریوں کے سہارے کام نہیں کر سکتے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]