تہران: پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر منگل کے روز پاکستانی حکام کے ایک وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے، جہاں وہ اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستانی فوجی سربراہ کے حالیہ مہینوں کے دوران تہران کے متعدد دورے ہو چکے ہیں، جن کا بنیادی مقصد علاقائی کشیدگی میں کمی، فوجی محاذ آرائی کا خاتمہ اور تنازعے کے مذاکراتی حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس سے قبل 24 اگست کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ قبول تصفیے تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں اس سے قبل جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، جسے اسلام آباد یادداشت کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد اس معاہدے پر پیش رفت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تازہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ تنازعے کے دوران مشکل مراحل اور پیچیدہ حالات کے باوجود اسلام آباد نے امن کی کوششیں کبھی ترک نہیں کیں۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے ان کی سفارتی کوششوں کو سراہا تھا۔
وزیر داخلہ نے 18 جون کو طے پانے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا بھی حوالہ دیا، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن کے مقام پر ایک سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور قطر نے کیا تھا۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر کتب فروش اداروں پر دستیاب ہیں۔









