پاکستان میں بیوروکریسی اپنے مقاصد کیسے حاصل کر لیتی ہے؟

[post-views]
[post-views]

طارق محمود اعوان

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیوروکریسی کو پورے نظامِ فیصلہ سازی پر اثر و رسوخ حاصل ہے۔ جب بھی بیوروکریسی کوئی سمری کابینہ میں پیش کرتی ہے تو عموماً وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو بآسانی قائل کر لیتی ہے اور سمری منظور ہو جاتی ہے۔ اس طرح بیوروکریسی کی تجویز کردہ پالیسی حکومتی پالیسی بن جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ سمیت کابینہ کے ارکان نہ تو سمری کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی متعلقہ معاملات کا مکمل ریکارڈ ان کے سامنے ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ بیوروکریسی کی فراہم کردہ معلومات اور مؤقف پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اگر کابینہ کسی معاملے پر اختلافی نوٹ دے دے تو بیوروکریسی عدالتی کارروائی کے ذریعے اپنا مؤقف آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ جب معاملات عدالتوں میں پہنچتے ہیں تو بیوروکریسی اپنے ادارہ جاتی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی اور انتظامی ذرائع بھی استعمال کرتی ہے۔

قانون سازی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ بیوروکریسی وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کابینہ کو قائل کرکے اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقننہ قانون سازی کے عمل میں اپنا آزادانہ اور مؤثر کردار ادا کرنے سے محروم رہ جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے سے تیار شدہ مسودۂ قانون پارلیمان یا صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے، اور وہ تقریباً اسی شکل میں منظور ہوتا ہے جس میں بیوروکریسی نے اسے تیار کیا ہوتا ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی رکاوٹ پیش آئے تو بیوروکریسی عدالتی فورمز سے رجوع کرکے اپنے ادارہ جاتی مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اگر سیاست دان یا عدلیہ بھی اس کے مؤقف سے اتفاق نہ کریں تو بیوروکریسی اپنے ادارہ جاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ریاست کے دیگر طاقت ور اداروں کے ساتھ تعلقات اور ان پر اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتی ہے۔

یوں بیوروکریسی سیاست دانوں، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنے ادارہ جاتی مفادات کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے۔ کبھی ایک ادارے کے ذریعے دوسرے ادارے پر اثر انداز ہوتی ہے اور کبھی کسی دوسرے ادارے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس پورے عمل میں تین بڑے فریق، یعنی سیاست دان، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ، مختلف معاملات میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں، جبکہ بیوروکریسی ان کے باہمی تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ادارہ جاتی مفادات کو آگے بڑھاتی رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نہ تو کسی منتخب سیاسی حکومت نے بیوروکریسی کی بالادستی کو مستقل طور پر چیلنج کیا، نہ فوجی حکومتیں اس ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لا سکیں اور نہ ہی عدلیہ انتظامی بالادستی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جب بھی کسی ایک فریق نے اس نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، بیوروکریسی نے کسی دوسرے فریق کے ذریعے اپنے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کی۔

میں نے اس بنیادی تصور کو اپنی کتاب دی بیوروکریٹک کو میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

یہ کتاب واضح کرتی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ محض بیوروکریسی کے انتظامی اختیارات نہیں بلکہ ریاستی فیصلہ سازی پر اس کی ادارہ جاتی بالادستی ہے۔ اس میں تجزیہ کیا گیا ہے کہ بیوروکریسی کس طرح اسٹیبلشمنٹ، سیاست دانوں اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کی صورتِ حال میں لے آتی ہے، یا ان کے باہمی تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کو آگے بڑھاتی اور ریاستی نظام پر اپنی بالادستی برقرار رکھتی ہے۔

دی بیوروکریٹک کو

دستیاب ہے:

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک

رابطہ: +92 341 4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]