ریپبلک پالیسی | گورننس۔ ادارے۔ عوامی پالیسی۔
ملک نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری تو کی، لیکن اسے صارفین تک پہنچانے کے لیے اسی معیار کا نظامِ ترسیل تعمیر نہیں کیا۔ نتیجتاً ایک مہنگا تضاد پیدا ہو گیا ہے: اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے، طلب پوری نہیں ہو رہی اور نسبتاً سستی بجلی صارفین تک نہیں پہنچ پا رہی۔
پاکستان میں بجلی کے بحران پر بحث طویل عرصے سے ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: ملک کو مزید کتنی بجلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے؟ حکومتوں نے اس سوال کے جواب میں بجلی گھر تعمیر کیے، پیداواری معاہدے کیے اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا۔ اس کے باوجود بجلی کی بلند قیمتیں، فراہمی کی رکاوٹیں اور بجلی کی دستیابی اور صارفین تک اس کی ترسیل کے درمیان مسلسل فرق برقرار ہے۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا پاکستان نے ایسا بجلی کا نظام تعمیر کیا ہے جو اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق بجلی کو مؤثر انداز میں ملک کے مختلف حصوں تک پہنچا سکے؟
موجودہ بحث میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار ایک سنگین ساختی عدم توازن کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت تقریباً 44,000 میگاواٹ ہے، جبکہ نظامِ ترسیل کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت تقریباً 26,000 میگاواٹ بتائی جاتی ہے۔ اگر ان دونوں اعداد و شمار سے مراد قابلِ استعمال نظامی صلاحیت کے تقابلی پیمانے ہیں تو ان کے درمیان فرق خاصا بڑا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کے ساتھ اسے ملک بھر میں منتقل کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو اسی تناسب سے ترقی نہیں دی گئی۔
بجلی کی پیداوار اور کھپت کی جغرافیائی تقسیم اس مسئلے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ تقریباً 56 فیصد پیداواری صلاحیت ملک کے شمال میں اور 43 فیصد جنوب میں واقع ہے۔ اس کے برعکس بجلی کی طلب کا مرکز مختلف ہے: تقریباً 77 فیصد کھپت شمال میں ہوتی ہے، جبکہ جنوب میں یہ شرح 23 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
قومی توانائی منصوبہ بندی میں اس عدم توازن کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔ بجلی کا نظام صرف پیداواری صلاحیت کو سامنے رکھ کر تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بجلی کہاں پیدا ہو رہی ہے، کہاں استعمال ہونی ہے، ترسیلی نظام کتنی بجلی منتقل کر سکتا ہے اور مختلف علاقوں کے درمیان بجلی پہنچانے پر کتنی لاگت آتی ہے۔ پاکستان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کو ایک مربوط منصوبہ بندی میں مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
اس کے معاشی اثرات خاص طور پر اہم ہیں۔ جنوب میں بجلی کی اضافی پیداوار کی لاگت تقریباً 16 روپے فی یونٹ بتائی جاتی ہے، جبکہ شمال میں یہ لاگت 35 روپے فی یونٹ کے قریب ہے۔ اس فرق میں ایک واضح معاشی موقع موجود ہے: نسبتاً سستی بجلی جنوبی پیداواری مراکز سے ان شمالی علاقوں تک پہنچائی جائے جہاں طلب زیادہ ہے۔
لیکن ترسیلی نظام ہمیشہ بجلی کے مطلوبہ بہاؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نتیجتاً ملک نسبتاً سستی بجلی سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتا، جبکہ صارفین کو بلند قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ تھر کے کوئلے اور جنوبی علاقوں میں قائم جوہری بجلی گھروں سمیت توانائی کے منصوبے بھی اپنا پورا قومی فائدہ اسی وقت دے سکتے ہیں جب قومی گرڈ ان کی پیدا کردہ بجلی کو بڑے مراکزِ کھپت تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یہ محض انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی منصوبہ بندی کی ناکامی ہے۔ جب کوئی ملک ترسیلی نظام میں متناسب سرمایہ کاری کیے بغیر بجلی کی پیداوار بڑھاتا ہے تو ایسے مہنگے اثاثے وجود میں آ سکتے ہیں جنہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس عدم توازن کی قیمت بالآخر بجلی کے نرخوں، کیپیسٹی پیمنٹس، صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں اور گھریلو و کاروباری صارفین پر اضافی مالی بوجھ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
بجلی کی جغرافیائی تقسیم اور منصوبہ بندی کی ناکامی
شمال اور جنوب کے درمیان یہ فرق پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے طریقۂ کار میں ایک بڑی کمزوری بھی ظاہر کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے منصوبوں، ترسیلی راہداریوں اور کھپت کے رجحانات کو اکثر الگ الگ منصوبہ بندی کے موضوعات سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ہی مربوط نظام کے مختلف حصے ہیں۔
کسی بجلی گھر کی معاشی افادیت محدود رہ جاتی ہے اگر اس کی پیدا کردہ بجلی صارفین تک نہ پہنچ سکے۔ اسی طرح مستقبل کی طلب، پیداواری مراکز اور توانائی کے ذرائع میں متوقع تبدیلیوں کے قابلِ اعتماد اندازوں کے بغیر ترسیلی لائنوں کی مؤثر منصوبہ بندی ممکن نہیں۔
جنوب میں تھر کے کوئلے اور جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے بعد اس باہمی رابطے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ضروری ہے کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ترسیلی بنیادی ڈھانچہ بھی ترقی کرے، نہ کہ سرمایہ کاری کے فیصلے کیے جانے کے کئی سال بعد اس کی ضرورت محسوس ہو۔
اس کے ساتھ بجلی تک رسائی کا ایک وسیع تر سوال بھی موجود ہے۔ نصب شدہ پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے کے باوجود اطلاعات کے مطابق آبادی کے بعض بڑے حصے کو اب بھی بجلی تک رسائی حاصل نہیں۔ ملک کی 20 سے 30 فیصد آبادی کے بجلی کی سہولت سے محروم ہونے کے اندازے کی موجودہ سرکاری اعداد و شمار سے تصدیق ضروری ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود پالیسی تضاد توجہ کا مستحق ہے: قومی سطح پر بجلی کی پیداواری صلاحیت کے اعداد و شمار ان آبادیوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے جن کا بجلی کے نیٹ ورک سے رابطہ ہی موجود نہیں۔
اس لیے توانائی پالیسی میں تین الگ مقاصد کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے: بجلی پیدا کرنا، اسے مؤثر انداز میں منتقل کرنا اور گھروں و کاروباری اداروں کو اس تک حقیقی رسائی فراہم کرنا۔ پہلے مقصد میں کامیابی باقی دونوں مقاصد کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
فرسودہ گرڈ اخراجات میں مزید اضافہ کرتا ہے
موجودہ مسئلہ ترسیلی نظام کی حالت سے بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ بجلی کے نیٹ ورک کے لیے صرف مناسب صلاحیت کا حامل ہونا کافی نہیں؛ اس کا قابلِ اعتماد اور مؤثر انداز میں کام کرنا بھی ضروری ہے۔ پرانا ہوتا ہوا سامان، تکنیکی رکاوٹیں، نظام پر بڑھتا دباؤ اور ناکافی سرمایہ کاری بجلی کے نقصانات میں اضافہ کر سکتی ہے اور دستیاب پیداوار کے مؤثر استعمال کو محدود کر سکتی ہے۔
ترسیلی نقصانات کی تقریباً 2.5 فیصد شرح کا پیش کردہ تخمینہ مسئلے کے ایک اور پہلو کی نشان دہی کرتا ہے۔ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہونے والی بجلی کا ہر یونٹ پہلے ہی پیداواری لاگت برداشت کر چکا ہوتا ہے، لیکن اس سے آخری صارف کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ان نقصانات میں کمی کے لیے جدید آلات، گرڈ کے بہتر انتظام، باقاعدہ دیکھ بھال اور نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔
پاکستان اب ترسیل کو توانائی پالیسی کا ثانوی حصہ سمجھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جو بجلی کی پیداوار میں کی گئی سرمایہ کاری کو معاشی سرگرمیوں اور عوامی رسائی سے جوڑتا ہے۔
قومی توانائی حکمتِ عملی کا نیا رخ
اس مسئلے کا حل محض مزید بجلی گھر تعمیر کرنا یا تمام سرمایہ کاری کسی ایک خطے میں منتقل کر دینا نہیں۔ پاکستان کو ایسی مربوط قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں پیداوار، ترسیل، تقسیم اور بجلی تک رسائی کو ایک ہی منصوبہ بندی کے فریم ورک میں رکھا جائے۔
اول، ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کو بجلی کی طلب کی جغرافیائی تقسیم اور مستقبل میں متوقع پیداوار کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔ ملک کو شمال اور جنوب کے درمیان مضبوط ترسیلی راہداریوں کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ یہ قابلِ اعتماد جائزہ بھی لیا جانا چاہیے کہ کم لاگت والے پیداواری مراکز سے بجلی بڑے مراکزِ کھپت تک پہنچانے کے لیے کتنی صلاحیت درکار ہے۔
دوم، موجودہ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کو ترجیح دینا ہوگی۔ گرڈ اسٹیشنوں، ترسیلی لائنوں، گرڈ مینجمنٹ سسٹم اور دیگر اہم آلات کی بہتری سے موجودہ اثاثوں کا بہتر استعمال ممکن ہے اور تکنیکی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
سوم، بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبوں کی منظوری کو ترسیلی نظام کی تیاری سے مشروط کیا جانا چاہیے۔ کسی نئے بجلی گھر کی منصوبہ بندی یا اس سے بجلی خریدنے کا معاہدہ کرنے سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس کی پیدا کردہ بجلی قومی گرڈ میں کس طرح شامل ہوگی اور صارفین تک کیسے پہنچے گی۔ یہی اصول قابلِ تجدید توانائی کے بڑے منصوبوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے، تاکہ ان کی پیداوار اور جغرافیائی محلِ وقوع کو گرڈ کی مربوط ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا جا سکے۔
چہارم، توانائی کے شعبے کی منصوبہ بندی میں شفافیت بڑھانا ضروری ہے۔ نیپرا، این ٹی ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو علاقائی سطح پر بجلی کی پیداوار، طلب، ترسیلی رکاوٹوں، بجلی کی پیداوار میں کمی یا اسے گرڈ میں شامل نہ کر پانے، پیداوار کی اضافی لاگت اور نظامی نقصانات سے متعلق اعداد و شمار عوام کے لیے دستیاب بنانے چاہییں۔ قابلِ اعتماد اور تقابلی معلومات کے بغیر نہ پالیسی ساز اور نہ ہی شہری بجلی کے نظام کی کارکردگی کا درست جائزہ لے سکتے ہیں۔
پنجم، توانائی کی منصوبہ بندی کو اس بنیاد پر جانچا جانا چاہیے کہ صارفین کو کتنی سستی، قابلِ اعتماد اور قابلِ رسائی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ قومی پیداواری صلاحیت میں کتنے میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کا بجلی کا بحران عوامی پالیسی کا ایک بنیادی سبق سامنے لاتا ہے: بنیادی ڈھانچے کی افادیت کا انحصار اس نظام پر ہوتا ہے جو اس کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ کسی ملک کے پاس بجلی گھر، ایندھن کے وسائل اور تکنیکی مہارت موجود ہو سکتی ہے، لیکن ناقص رابطہ کاری ان تمام وسائل کو معیشت کے لیے مؤثر بنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس لیے بنیادی چیلنج صرف مزید بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسا قومی گرڈ تعمیر کرنا ہے جو جہاں ضرورت ہو وہاں سستی بجلی پہنچا سکے۔ جب تک پاکستان اس بنیادی عدم توازن کو درست نہیں کرتا، محض پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ اس کے توانائی کے شعبے کے تضادات دور نہیں کر سکے گا۔
ایک مؤثر بجلی کے نظام کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنی بجلی پیدا کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس بجلی کو ضرورت مند لوگوں اور کاروباری اداروں تک کتنی مؤثر اور کم لاگت سے پہنچاتا ہے۔
ریپبلک پالیسی | گورننس۔ ادارے۔ عوامی پالیسی۔









