مصنوعی ذہانت اور لبرل جمہوریت کا بحران: ہمارے مستقبل کے فیصلے کون کرے گا؟

[post-views]
[post-views]

نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات ڈیرون ایسیموگلو کے خیالات کی روشنی میں ایک تجزیاتی تحریر

مصنوعی ذہانت محض ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی قوت بنتی جا رہی ہے جو معیشت، روزگار، سیاسی اداروں اور شہریوں و ریاست کے باہمی تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس تبدیلی کے اثرات صرف ان ممالک اور کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے جہاں یہ ٹیکنالوجی تیار ہو رہی ہے، بلکہ دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے۔ تاہم، ایک بنیادی سوال ابھی تک پوری طرح زیرِ بحث نہیں آیا: اس تبدیلی کی سمت کا فیصلہ کون کرے گا اور اس کے پیچھے کن مفادات کو ترجیح دی جائے گی؟

عالمی اقتصادی فورم کے پوڈکاسٹ ریڈیو ڈیووس میں ہونے والی ایک گفتگو کے دوران نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈیرون ایسیموگلو نے اسی حوالے سے ایک اہم جمہوری سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کا عمل تیزی سے چند طاقتور کمپنیوں، بالخصوص امریکا اور چین، میں مرتکز ہوتا جا رہا ہے۔ ان کمپنیوں کے فیصلے دنیا کے اربوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، حالانکہ ان میں سے بیشتر کو اس مستقبل کی تشکیل سے متعلق مباحث میں کوئی مؤثر نمائندگی حاصل نہیں۔

ایسیموگلو کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو صرف بڑی کمپنیوں کے سربراہان یا چند طاقتور اداروں کے مفادات کے تابع نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگرچہ نجی کمپنیاں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی تیاری، استعمال اور معاشی زندگی میں اس کے کردار سے متعلق فیصلوں میں عوامی اور جمہوری شرکت ضروری ہے۔ معاشرے کے مستقبل کو صرف ان لوگوں کی نجی ملکیت نہیں بنایا جا سکتا جو طاقتور ٹیکنالوجی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

یہ سوال ایک بڑے بحران سے بھی جڑا ہوا ہے: لبرل جمہوریت کی کمزوری اور ان معاشی و سماجی بنیادوں کا زوال جنہوں نے ماضی میں اسے مستحکم رکھا۔

جمہوری معاہدہ اور اس کی کمزوری

لبرل جمہوریت انسانی تاریخ کی اہم ترین ادارہ جاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ یہ انفرادی آزادیوں کو سیاسی شرکت اور ایسے ریاستی اداروں کے ساتھ جوڑتی ہے جو لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور زندگی کے مقاصد حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ آزادیِ اظہار، آزادیِ اجتماع اور مذہبی آزادی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن آزادی کا تصور صرف ان حقوق تک محدود نہیں۔ اس کے لیے تعلیم، بنیادی ڈھانچے، معاشی تحفظ اور ایسے حالات میں ریاستی معاونت بھی ضروری ہے جب کوئی فرد معذوری یا روزگار سے محرومی کے باعث اپنے خاندان کی کفالت نہ کر سکے۔

اس تصور میں جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں، بلکہ ایسے اداروں کی تشکیل بھی ہے جن کے ذریعے شہری عوامی زندگی میں حصہ لے سکیں، اجتماعی فیصلوں پر اثرانداز ہوں اور معاشی ترقی کے فوائد میں اپنا حصہ حاصل کریں۔

ایسیموگلو کے مطابق یہ تاریخی کامیابی آج دباؤ کا شکار ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں نظام کے خلاف تحریکیں اور جذبات مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ روایتی جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ خطرہ صرف سیاسی عدم استحکام کا نہیں، بلکہ ایسے طرزِ حکمرانی کی طرف واپسی کا بھی ہے جہاں انفرادی آزادیاں محدود ہوں، جمہوری شرکت کمزور پڑ جائے، اختیارات من مانے انداز میں استعمال ہوں اور قانون کے سامنے برابری کا اصول متاثر ہو۔

ایسیموگلو کے تجزیے کے مطابق اس بحران کی جڑیں تقریباً پانچ دہائیاں پیچھے، صنعتی معیشت سے بعد از صنعتی معیشت کی طرف منتقلی میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اس تبدیلی میں برقیاتی ٹیکنالوجی اور عالمگیریت نے بنیادی کردار ادا کیا۔

صنعتی دور کے بڑے حصے میں کاروباری سرگرمیوں کی توسیع اور محنت کشوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کے درمیان نسبتاً براہِ راست تعلق موجود تھا۔ کاروبار کو پیداوار بڑھانے کے لیے زیادہ کارکن درکار ہوتے تھے، جبکہ منظم مزدور تحریکیں اور مضبوط مزدور انجمنیں بہتر اجرت اور کام کے حالات کے لیے مذاکرات کرتی تھیں۔ اس طرح کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے کمپنیوں اور ملازمین دونوں کو فائدہ پہنچنے کے امکانات پیدا ہوتے تھے۔

یہ تعلق مکمل طور پر مثالی نہیں تھا، لیکن اس نے ایک وسیع معاشی و سماجی معاہدے کو تقویت دی: معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ سکتے ہیں۔

برقیاتی ٹیکنالوجی کے ظہور نے اس معاہدے کی شرائط بدل دیں۔

ٹیکنالوجی، خودکاری اور روزگار کی بدلتی ہوئی نوعیت

برقیاتی ٹیکنالوجی نے نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور مخصوص مہارت رکھنے والے افراد کو زیادہ مواقع فراہم کیے، خصوصاً ایسے افراد کو جو انتظامی، دفتری اور معلوماتی اعداد و شمار سے متعلق کام انجام دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف، خودکاری نے کاروباری اداروں کو یہ صلاحیت بھی دی کہ وہ مشینوں اور خودکار نظاموں کے ذریعے ایسے کام انجام دیں جو پہلے انسان کرتے تھے۔

اس تبدیلی کے اثرات صرف بعض ملازمتوں کے خاتمے تک محدود نہیں۔ خودکاری معاشی طاقت کی تقسیم کو بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ اس سے بعض شعبوں میں انسانی محنت کی طلب کم ہو سکتی ہے، جبکہ مخصوص مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی ملکیت رکھنے والوں کی معاشی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں اضافے کا زیادہ تر فائدہ کمپنیوں اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے محدود طبقے تک پہنچے تو معاشی ترقی کے باوجود آبادی کے بڑے حصے کے معیارِ زندگی میں اسی تناسب سے بہتری نہیں آئے گی۔

لہٰذا اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس مقصد کے لیے اور کن ترجیحات کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔ برقیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پیداوار بڑھانے، نئے مواقع پیدا کرنے اور انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کا استعمال انسانی محنت کی معاونت کے لیے ہوگا یا زیادہ تر اسے ختم کرنے کے لیے؟

ایسیموگلو کے تجزیے میں ایسی ٹیکنالوجی کے درمیان فرق اہم ہے جو کارکنوں کی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے اور ایسی ٹیکنالوجی کے درمیان جو بنیادی طور پر ان کی جگہ لے لیتی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی صلاحیتوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے تو پیداوار میں اضافے کے ساتھ کارکنوں کا کردار بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر بنیادی مقصد انسانی محنت کی جگہ مشینوں اور خودکار نظاموں کو لانا ہو تو پیداوار بڑھنے کے باوجود روزگار کے مواقع اور کارکنوں کی سودے بازی کی طاقت کمزور ہو سکتی ہے۔

اسی لیے عوامی پالیسی میں یہ سوال مرکزی اہمیت رکھتا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی پیداوار بڑھا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس کے فوائد اور اخراجات معاشرے میں کس طرح تقسیم ہوں گے۔

معاشی عدم مساوات سے جمہوری بحران تک

روزگار کی بدلتی ہوئی نوعیت نے معاشرے میں ایک وسیع سماجی تقسیم کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسیموگلو کے مطابق کارکنوں، منتظمین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کے رہن سہن، سماجی روابط اور رہائشی علاقوں میں بڑھتا ہوا فرق ان طبقات کے درمیان فاصلے کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ مشترکہ کام کی جگہوں اور محلوں میں کمی نے ان سماجی تعلقات کو کمزور کیا ہے جو ماضی میں مختلف معاشی طبقات کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے تھے۔

امریکا کی صنعتی تاریخ سے دی گئی ایک مثال اس تبدیلی کو واضح کرتی ہے۔ ایسیموگلو اوہائیو کی ایک صنعتی آبادی کا حوالہ دیتے ہیں جہاں ایک کارخانے کے کارکن، دفتری ملازمین اور منتظمین ایک ہی علاقے میں رہتے تھے اور ان کے بچے ایک ہی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مشترکہ سماجی ماحول کم ہوتا گیا اور معاشی و تعلیمی فرق نے مختلف رہائشی اور سماجی طبقات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔

یہ تقسیم اس لیے اہم ہے کہ جمہوریت صرف رسمی سیاسی اداروں سے قائم نہیں رہتی۔ اسے سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات کے احساس کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسیموگلو اس تبدیلی کو سیاسی جماعتوں کے بدلتے ہوئے ووٹ بینک سے بھی جوڑتے ہیں۔ کئی صنعتی جمہوریتوں میں مرکز سے بائیں جانب کی سیاسی جماعتیں تاریخی طور پر محنت کش طبقے کی حمایت حاصل کرتی رہی ہیں۔ فلاحی ریاست، مزدوروں کے حقوق اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں بھی ان جماعتوں کا اہم کردار رہا ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ان کی حمایت بڑے شہری مراکز میں رہنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات کی طرف منتقل ہوتی گئی، جبکہ محنت کش طبقے کے بعض حصے مرکز سے دائیں جانب اور سخت گیر دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں کی طرف مائل ہوئے۔

اس سیاسی تبدیلی نے لبرل جمہوریت کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کیا ہے۔ جب معاشی طبقات سماجی طور پر ایک دوسرے سے دور ہو جائیں اور سیاسی جماعتیں آبادی کے بعض حصوں سے اپنا تعلق کھو دیں تو جمہوری اداروں کے لیے معاشرے کے وسیع تر مفادات کی نمائندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ یوں معاشی عدم مساوات صرف آمدنی کی تقسیم کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ ایک سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

مصنوعی ذہانت معاشرے کی خدمت کرے، جمہوری اختیار کی جگہ نہ لے

مصنوعی ذہانت کے بارے میں جاری بحث ان تمام مسائل کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد انسانی محنت کی جگہ لینا، معاشی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنا اور محدود کمپنیوں کے اثرورسوخ میں اضافہ کرنا ہو تو موجودہ عدم مساوات مزید گہری ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر اسے کارکنوں کی صلاحیتیں بڑھانے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور علم تک رسائی وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ زیادہ جامع معیشت کی تشکیل میں مدد دے سکتی ہے۔

اس فرق کا تعین صرف ٹیکنالوجی نہیں کرے گی، بلکہ اس کا انحصار ادارہ جاتی فیصلوں، عوامی پالیسی اور فیصلہ سازی کے اختیار کی تقسیم پر ہوگا۔

اسی لیے مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں جمہوری شرکت سے متعلق ایسیموگلو کا مؤقف غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکا اور چین سے باہر رہنے والے تقریباً چھ ارب انسان بھی ان ٹیکنالوجی سے متعلق فیصلوں کے اثرات کا سامنا کریں گے، لیکن ان کمپنیوں اور اداروں پر ان کا اثرورسوخ محدود ہے جو اس تبدیلی کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ان کے معاشی مستقبل کو ثانوی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔

جمہوری حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ضابطے اور پالیسیاں تشکیل دیں جو عوامی مفادات کا تحفظ کریں، جدت کی حوصلہ افزائی کریں اور ٹیکنالوجی کو معاشی طاقت کے ارتکاز کا ذریعہ بننے سے روکیں۔ اس کے لیے روزگار، تعلیم، معلومات، منصفانہ مسابقت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے احتساب پر سنجیدہ عوامی بحث ضروری ہے۔ ایسے اداروں کی بھی ضرورت ہے جو ان شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کر سکیں جن کی آواز عموماً ٹیکنالوجی کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں شامل نہیں ہوتی۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بحث خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ مستقبل کا روزگار، معاشی سرگرمیوں کی ساخت اور ٹیکنالوجی تک رسائی ان فیصلوں سے متاثر ہوگی جو قومی سرحدوں سے باہر کیے جا رہے ہیں۔ جو ممالک ان مباحث میں مؤثر کردار ادا نہیں کریں گے، انہیں دوسروں کی معاشی ترجیحات کے مطابق تیار کی گئی ٹیکنالوجی کے محض صارف بننے کا خطرہ لاحق ہوگا۔

پاکستان کو مصنوعی ذہانت کو صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ معاشی پالیسی، ادارہ جاتی استعداد اور جمہوری حکمرانی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مقصد ٹیکنالوجی کی تبدیلی کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ اسے سمجھنے، اس کے اثرات کو منظم کرنے اور اس کے فوائد کو چند کمپنیوں اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد تک محدود رہنے سے بچانے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

اس کے لیے تعلیم اور مہارتوں میں سرمایہ کاری، مضبوط عوامی اداروں، پارلیمان میں باخبر بحث اور ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کارکنوں کو ٹیکنالوجی کی ترقی میں شریک سمجھیں، نہ کہ محض ایسے اخراجات جنہیں کم کیا جانا چاہیے۔ جدت، روزگار اور معاشی مواقع کے باہمی تعلق پر بھی وسیع عوامی مکالمہ ضروری ہے۔

ایسیموگلو کے تجزیے کا بڑا سبق یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی خودبخود سماجی ترقی کی ضمانت نہیں بنتی۔ اسی طرح معاشی نمو لازماً سیاسی استحکام یا مشترکہ خوشحالی پیدا نہیں کرتی۔ ان نتائج کا انحصار ان اداروں پر ہوتا ہے جن کے ذریعے معاشی اور سیاسی طاقت کو منظم کیا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت انسان کے کام کرنے اور زندگی گزارنے کے طریقوں کو تبدیل کر سکتی ہے، لیکن اس تبدیلی کی سمت کا تعین اب بھی ایک اجتماعی اور عوامی فیصلہ ہونا چاہیے۔ کوئی جمہوری معاشرہ یہ اختیار مکمل طور پر بڑی کمپنیوں کے حوالے نہیں کر سکتا، جس طرح معاشی ترقی کو شہریوں کی فلاح و بہبود سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف اس کے تخلیق کاروں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان لوگوں کی آواز بھی اس کی تشکیل میں شامل ہونی چاہیے جن کی زندگیوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مشینیں کتنی ذہین ہو جائیں گی، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار تبدیلی کے دوران جمہوری، شمولیتی اور جواب دہ رہ سکیں گے؟

یہ تجزیاتی تحریر نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈیرون ایسیموگلو کے عالمی اقتصادی فورم کے پوڈکاسٹ ریڈیو ڈیووس میں اظہارِ خیال اور ان کی کتاب ’’لبرل جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘ میں پیش کردہ خیالات سے ماخوذ ہے۔

ریپبلک پالیسی | حکمرانی، ادارے اور عوامی پالیسی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]