سی ایس ایس: پاکستان کی سب سے مہنگی لاٹری

[post-views]
Civil service examination 2023
[post-views]

ندیم الحق

پاکستان ہر سال 250 کے قریب بیوروکریٹس کے انتخاب کے لیے تقریباً 11 ارب روپے خرچ کرتا ہے اور اسے میرٹ کا نام دیتا ہے۔ یہ امتحان دراصل یہ جانچتا ہے کہ کون کتنے برس تک اپنی آمدنی، وقت اور پیشہ ورانہ زندگی قربان کر سکتا ہے۔ پھر کامیاب امیدواروں کو زندگی بھر اختیارات اور مراعات سے نواز دیا جاتا ہے، نہ کہ معیشت کی تعمیر میں کردار ادا کرنے پر۔

ہر سال فروری میں پاکستان ایک لاٹری کا اہتمام کرتا ہے۔ اس لاٹری کا ٹکٹ روپے میں نہیں بلکہ نوجوان گریجویٹس کی زندگی کے بہترین اور قیمتی برسوں کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس سال 43,189 امیدواروں نے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان کے پہلے مرحلے میں شرکت کی۔ ان میں سے شاید 250 کے قریب امیدوار افسر بن سکیں گے۔

ہم اسے میرٹ کہتے ہیں۔ اس کے لیے زیادہ درست اصطلاح وسائل کا ضیاع ہے۔ میرے محتاط تخمینے کے مطابق، سی ایس ایس کی تیاری اور انتخاب کا یہ پورا عمل ہر سال تقریباً 11 ارب روپے خرچ کر دیتا ہے۔ اس طرح ہر منتخب افسر پر تقریباً 4 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یعنی ایک بیوروکریٹ کے انتخاب پر ایک عام گریجویٹ کی پچاس سال سے زیادہ کی آمدنی کے برابر وسائل صرف ہو جاتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ اتنے کم امیدوار کامیاب کیوں ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ نوجوان اس قطار میں کیوں لگتے ہیں، اور آخر یہ امتحان ان میں کس صلاحیت کی پیمائش کرتا ہے؟

کامیابی کے امکانات

پہلے پرچے میں شرکت کرنے والے کسی امیدوار کے افسر بننے کا امکان تقریباً 0.6 فیصد ہے۔

ماخذ: ایف پی ایس سی کی جانب سے سی ایس ایس 2026ء کے تحریری امتحان کے نتائج کا اعلامیہ، 31 اگست 2026ء؛ افسران کی تعداد کا تخمینہ سی ایس ایس 2025ء کے حتمی نتائج کی بنیاد پر۔

ابتدائی کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل امتحان (ایم سی کیو ٹیسٹ) کا مقصد غیر سنجیدہ امیدواروں کو الگ کرنا ہے، لیکن اس میں شرکت کرنے والوں میں سے تقریباً 85 فیصد کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ مرحلہ تقریباً کسی کو باہر نہیں کرتا۔ اس کے بجائے امیدواروں کے لیے ایک اضافی فیس، ایک مزید امتحان اور کوچنگ اکیڈمیوں کی ایک پوری مارکیٹ پیدا کرتا ہے۔

اس سال تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح صرف 2.74 فیصد رہی۔ یہ شرح اس بات سے زیادہ تبدیل نہیں ہوتی کہ امتحان میں 13 ہزار امیدوار شریک ہوں یا 18 ہزار۔ کامیابی کی حد کے قریب ہزاروں امیدواروں کے نمبر ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں، جبکہ مضمون نویسی اور خلاصہ نویسی کے پرچوں کی موضوعی جانچ زیادہ تر ناکامیوں کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس حد کے قریب امیدواروں کی حتمی پوزیشن میں اتفاقی عوامل کا کردار بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔

امتحان کے نتائج میں یہی غیر یقینی صورتِ حال امیدواروں کی قطار کو طویل کرتی ہے۔ اگر امتحان امیدوار کی صلاحیت کو درست طور پر ظاہر کرتا تو کمزور امیدوار اپنے نتائج دیکھ کر مقابلے سے الگ ہو جاتے۔ لیکن جب امتحان کے نتائج غیر یقینی ہوں تو ہر امیدوار کو لگتا ہے کہ وہ کامیابی کے قریب ہے۔ چنانچہ 21 سے 30 سال کی عمر کے دوران بار بار کوشش کرنا اسے ایک معقول فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔ ہر امتحانی دور میں پرچے سے لے کر حتمی تقرری تک تقریباً 15 ماہ لگ جاتے ہیں۔

ایف پی ایس سی یہ معلومات شائع نہیں کرتا کہ امیدوار اوسطاً کتنی کوششیں کرتے ہیں، کس عمر میں کامیاب ہوتے ہیں اور تیاری پر کتنے سال صرف کرتے ہیں۔

اس لاٹری کی قیمت

فرض کریں کہ تحریری امتحان میں شریک تقریباً 17 ہزار امیدواروں میں سے نصف مکمل وقت تیاری کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر امتحانی دور میں تقریباً 8,500 افراد کی ایک سال کی پیداواری صلاحیت معاشی سرگرمی سے باہر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2,500 ایسے امیدوار بھی ہیں جو تیاری تو کرتے ہیں لیکن تحریری امتحان تک نہیں پہنچ پاتے۔

اگر ہر امیدوار کے ضائع ہونے والے ایک سال کی معاشی قدر ایک محتاط گریجویٹ آمدنی، یعنی ماہانہ 70 ہزار روپے، اور اکیڈمیوں کی فیسوں اور بڑے شہروں میں رہائش کے اخراجات کو ملا کر تقریباً 10 لاکھ روپے شمار کی جائے اور پھر اس رقم کو منتخب ہونے والے تقریباً 250 افسران پر تقسیم کیا جائے تو اس لاٹری کی لاگت سامنے آتی ہے۔

مصنف کا تخمینہ: ایف پی ایس سی کے 2026ء کے اعداد و شمار، گریجویٹ کی ماہانہ متبادل آمدنی 70 ہزار روپے اور شائع شدہ اکیڈمی فیسوں کی بنیاد پر۔

اس تخمینے کے کم ترین منظرنامے میں بھی ہر افسر کے انتخاب پر ایک گریجویٹ کی بیس سال کی آمدنی کے برابر وسائل خرچ ہوتے ہیں۔

اختیارات کی کشش کیا ہے؟

این کرگر اور گورڈن ٹلاک نے واضح کیا تھا کہ جب لوگ کسی معاشی فائدے یا خصوصی رعایت کے حصول کے لیے مقابلہ کرتے ہیں تو وہ اس کوشش پر وسائل خرچ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس فائدے کی معاشی قدر ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ اس تصور کو الٹ کر دیکھا جائے تو سی ایس ایس کے امیدواروں کی طویل قطار ہمیں اس عہدے کی اصل کشش کا اشارہ دیتی ہے۔

اگر کوئی امیدوار تقریباً 25 لاکھ روپے خرچ کرکے افسر بننے کا مجموعی امکان چار فیصد سمجھتا ہے تو اس کے نزدیک اس عہدے کی قدر چھ کروڑ روپے سے زیادہ ہونی چاہیے۔

مصنف کا تخمینہ؛ ابتدائی بنیادی تنخواہ کے لیے وفاقی بی پی ایس 2026ء کا نوٹیفکیشن۔

سرکاری تنخواہ اس کشش کی وضاحت نہیں کرتی۔ 2026ء کے تنخواہی اسکیل کے مطابق بی پی ایس 17 کی ابتدائی بنیادی تنخواہ 54,140 روپے ماہانہ ہے، جو یہاں استعمال کی گئی ایک عام گریجویٹ کی متوقع ماہانہ آمدنی سے بھی کم ہے۔

اس عہدے کی اصل کشش کہیں اور ہے: ملازمت کا ایسا تحفظ جو نجی شعبے میں کم ہی دستیاب ہوتا ہے؛ سرکاری گھر، گاڑیاں اور عملہ؛ افسران کے لیے مخصوص پلاٹ؛ تبادلوں، اجازت ناموں، اراضی کے ریکارڈ اور پولیس کے معاملات میں صوابدیدی اختیارات؛ ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اداروں کے بورڈز میں عہدے؛ خاندان اور سماجی حلقوں میں حیثیت؛ اور بعض صورتوں میں ایسے مالی فوائد جن کا ذکر کسی تنخواہی پرچی میں نہیں ہوتا۔

ان میں سے تقریباً ہر سہولت معاشرے کے دوسرے افراد سے وسائل لے کر عہدے پر فائز شخص کو منتقل کرتی ہے۔

جو ملک پیداوار کے مقابلے میں اختیار کو زیادہ قیمت دیتا ہے، وہاں لوگ پیداوار کے بجائے اختیار حاصل کرنے کے لیے زیادہ قطاریں لگائیں گے۔

وہ معاشی نقصانات جو حساب میں شامل نہیں

اس نظام کا پہلا نقصان باصلاحیت افراد کی غلط سمت میں تقسیم ہے۔ مرفی، شلیفر اور وشنے نے واضح کیا کہ باصلاحیت افراد اپنی صلاحیتیں وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں انہیں زیادہ فائدہ نظر آتا ہے۔ اس بات کا تعین معاشرے کے قواعد کرتے ہیں کہ یہ فائدہ نئی معاشی قدر پیدا کرنے سے حاصل ہوگا یا پہلے سے موجود وسائل اور اختیارات پر قبضہ کرکے۔

جہاں نئی پیداوار اور کاروبار کے مقابلے میں مراعات اور اختیارات حاصل کرنا زیادہ فائدہ مند ہو، وہاں ذہین ترین افراد بھی پیداواری سرگرمیوں کے بجائے مراعات کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس سے معیشت کو دوہرا نقصان پہنچتا ہے: ایک طرف وہ پیداوار پیدا نہیں ہوتی جو یہ افراد کسی دوسرے شعبے میں کام کرکے پیدا کر سکتے تھے، اور دوسری طرف وہ ان لوگوں سے وسائل حاصل کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں جو حقیقی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔

سی ایس ایس بھی ایسا ہی ایک ادارہ جاتی نظام ہے۔ یہ ہر سال نوجوانوں کی بہترین صلاحیتوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، لیکن انہیں نئی صنعتیں قائم کرنے، کاروبار پیدا کرنے یا معاشی ترقی میں حصہ لینے کے بجائے اختیارات، اجازت ناموں اور وسائل کی تقسیم کا اختیار حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اس کے نقصانات صرف کامیاب ہونے والوں تک محدود نہیں رہتے۔ ناکام امیدوار بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ امتحان کی تیاری کے دوران وہ مخصوص موضوعات، منتخب جوابات اور امتحانی تکنیک میں مہارت حاصل کرتے ہیں، لیکن نجی شعبے کے آجر عموماً ان مہارتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ کئی امیدوار 29 سال کی عمر میں اپنے سی وی میں کئی سال کا تعلیمی و پیشہ ورانہ خلا لیے مقابلے سے باہر آتے ہیں، جس کے اثرات ان کی آئندہ آمدنی پر طویل عرصے تک رہتے ہیں۔

بہت سی خواتین کے لیے بھی یہ تیاری ایک ایسے معاشرے میں روزگار کی منڈی سے باہر رہنے کا قابلِ قبول راستہ بن جاتی ہے جہاں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت پہلے ہی دنیا کی کم ترین شرحوں میں شامل ہے۔

اسی دوران اکیڈمیوں کی ایک پوری صنعت وجود میں آ چکی ہے، جس کی بنیادی پیداوار امتحانی تکنیک ہے اور جس کا کاروباری ماڈل اس یقین پر قائم ہے کہ امیدوار کامیابی کے بہت قریب ہیں۔

آخر یہ امتحان کس چیز کی پیمائش کرتا ہے؟

سی ایس ایس کا موجودہ ڈھانچا 1854ء میں لارڈ میکالے کی اس رپورٹ سے جڑا ہوا ہے جو انڈین سول سروس کے لیے مرتب کی گئی تھی۔ اس نظام کا بنیادی تصور یہ تھا کہ عمومی معلومات اور مضمون نویسی کی بنیاد پر ایسے عمومی صلاحیتوں کے حامل افراد منتخب کیے جائیں جنہیں زندگی بھر ملازمت کا تحفظ حاصل ہو۔

آج بھی امتحان کا بڑا حصہ امیدوار کی حقیقی صلاحیت کے بجائے اس کی تیاری کے لیے دستیاب وسائل کی پیمائش کرتا ہے۔ یعنی کون کئی سال تک آمدنی کے بغیر گزارہ کر سکتا ہے، کس کے پاس مہنگی اکیڈمیوں اور بڑے شہروں میں رہائش کے وسائل ہیں اور کون اپنے خاندان کی مالی مدد کے بغیر طویل عرصے تک امتحان کی تیاری جاری رکھ سکتا ہے۔

2025ء میں ابتدائی 30 کامیاب امیدواروں میں سے 23 کا تعلق پنجاب سے تھا۔

اس کے بعد تقریباً 25 سال کی عمر میں ایک امتحانی نتیجہ امیدوار کے لیے 35 سالہ ملازمت کا راستہ طے کر دیتا ہے۔ اس نظام میں نہ مؤثر طور پر دیگر شعبوں سے ماہر افراد کو شامل کرنے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت سے فارغ کرنے کا کوئی مضبوط طریقۂ کار۔

یہ مستقل ملازمت ہی اس امتحانی نتیجے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔

آخری مرحلہ: ایک کمرہ، مگر کوئی واضح معیار نہیں

تحریری امتحان کے بارہ پرچوں کے بعد حتمی فیصلہ ایک انٹرویو کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ زبانی امتحان کے 1,500 میں سے 300 نمبر ہوتے ہیں۔ 100 سے کم نمبر حاصل کرنے والا امیدوار نااہل قرار پاتا ہے۔

انٹرویو بورڈ امیدوار کے اخلاقی کردار اور عہدے کے لیے موزونیت کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ نفسیاتی جانچ کو بھی اسی 300 نمبروں میں شامل کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے الگ نمبر مقرر نہیں ہوتے۔

تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نمبر جب ایک دوسرے کے قریب ہوں تو زبانی امتحان میں 200 نمبروں کا فرق یہ طے کر سکتا ہے کہ کسی امیدوار کو ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس ملے گی یا آڈٹ کا شعبہ۔

لیکن اس مرحلے کے لیے کوئی شائع شدہ جانچ کا معیار موجود نہیں۔ نہ انٹرویو کی ریکارڈنگ ہوتی ہے، نہ آزادانہ طور پر دوسرے ممتحن سے جانچ کرائی جاتی ہے، نہ مؤثر اپیل کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی حاصل کردہ نمبروں کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جاتی ہے۔

یوں برسوں کی تیاری اور امتحانی عمل کے بعد، جسے معروضیت کے نام پر ترتیب دیا گیا ہے، سب سے قیمتی فیصلہ اس مرحلے پر چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی پیمائش اور جانچ سب سے مشکل ہے۔

اصلاح کا راستہ

حل یہ نہیں کہ امتحان کو مزید مشکل یا آسان بنا دیا جائے۔ اصل ضرورت اس عہدے سے وابستہ غیر معمولی مراعات اور اختیارات کو محدود کرنے اور انتخاب کے عمل کو شفاف بنانے کی ہے۔

اول: مراعات اور اختیارات کی کشش کم کی جائے۔ دیگر شعبوں سے ماہر افراد کی براہِ راست بھرتی، مخصوص مہارتوں کے حامل افسران کے لیے معاہداتی ملازمت، کارکردگی سے منسلک تنخواہ اور ناقص کارکردگی پر ملازمت ختم کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے۔ سرکاری مراعات کی مالی قدر واضح کی جائے اور افسران کے لیے مخصوص پلاٹ اسکیمیں ختم کی جائیں۔ جب عہدے سے حاصل ہونے والے فوائد عام مارکیٹ کی آمدنی کے قریب ہوں گے تو امیدواروں کی غیر معمولی قطار خود بخود مختصر ہو جائے گی۔

دوم: انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے۔ پہلے ایک ایسا معیار مقرر کیا جائے جو امیدوار کی بنیادی قابلیت کو جانچ سکے۔ اس معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کیا جائے۔ اس طرح مزید ایک سال کی رٹّے پر مبنی تیاری امیدوار کے انتخاب کے امکانات میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی۔

سوم: امتحان کو ملازمت کی حقیقی ضروریات سے جوڑا جائے۔ مقداری تجزیے، عملی پالیسی مسائل اور کیس اسٹڈیز پر مبنی سوالات شامل کیے جائیں۔ مضمون نویسی کے پرچوں کی جانچ دو ایسے ممتحنوں سے کرائی جائے جنہیں امیدوار کی شناخت معلوم نہ ہو۔ زبانی امتحان منظم، ریکارڈ شدہ اور شائع شدہ معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

چہارم: انتخابی اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ ہر امیدوار کی کوششوں کی تعداد، کامیابی کے وقت عمر، زبانی امتحان کے نمبر اور کامیابی کی حد کے قریب امیدواروں کے نمبروں کی مکمل تفصیل شائع کی جائے۔

جب تک یہ اصلاحات نہیں ہوتیں، پاکستان اپنی سب سے مہنگی لاٹری جاری رکھے گا اور اس کے نتائج کو میرٹ کا نام دیتا رہے گا۔

ریپبلک پالیسی کی کتاب ’’فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ آف گورنمنٹ اِن پاکستان‘‘ بھی انتظامی اختیارات، ادارہ جاتی جواب دہی اور حکومتی نظام کی کارکردگی جیسے بنیادی سوالات کا جائزہ لیتی ہے۔ ان موضوعات کو مزید تفصیل سے سمجھنے کے لیے اپنی کاپی آج ہی حاصل کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]