وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور پاکستان کو فوری طور پر تعمیر نو اور بحالی کے لیے 16 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث ہونے والے نقصان کے ازالے اور مدد کے لیے کانفرنس جاری ہے۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/pakistan-ki-mazbani-main-mausmiyati-tabdeeliyoun/
وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، پاکستان میں سیلاب نے متاثرین کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا جس سے غذائی قلت نے جنم لیا، تعمیر نو کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے۔
مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/salab-mutasreen-k-liye-almi-conference-wazire-azam/
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی، سیلاب سے مکانات، تعلیمی ادارے، زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین کو دوبارہ بحال کر کے اچھا مستقبل دینا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے، فریم ورک پر کام کرنے کے لیے 16.3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔








