سوئیڈن کی مسجد کے سامنے قرآن پاک کی بے حرمتی کے تناظر میں تمام مذاہب کے احترام سے متعلق پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش قرارداد پر آج ووٹنگ کاامکان ہے تاہم امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں قرآن کریم کی بے حرمتی سمیت مذہبی منافرت کی ہرقسم کی مذمت کی گئی ہے اورزور دیا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ایسے قوانین بنائے جائیں تا کہ بے حرمتی کے واقعات میں ملوث عناصر کوسزا دی جائے۔ منافرت، دشمنی اور تشدد پر اکسانے والوں سے بھی نمٹا جائے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی کونسل کے سربراہ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مختلف ممالک کے قوانین میں خامیوں کی نشاندہی کریں۔
گزشتہ روزسوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس چیف والکرٹرک نےبحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر قرآن نذرِآتش کرنے جیسے واقعات اشتعال انگیزی اورتقسیم پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش لگتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ عہدیدار نے مذہبی رواداری اوراحترا م کی تکریم پر زوردیا جہاں رکن ممالک نے سویڈن کے دارالحکومت میں حال ہی میں 28 جون کو قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے ردعمل میں اجلاس منعقد کیا تھا۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے ویڈیو لنک پرخطاب میں کہا کہ قرآن کریم کی بےحرمتی اس تصور کے ساتھ کی گئی کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ رائے کے اظہارکی آزادی ناگزیر ہے مگر منافرت پرمبنی تقریر کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔
فرانس کے سفیرنے کہا کہ انسانی حقوق لوگوں کا تحفظ کرتے ہیں، مذاہب، عقائد یا ان کی علامتوں کا نہیں، اقوام متحدہ یا کسی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ بتائے کہ کیا چیز مقدس ہے۔
برطانوی سفیر نے کہا کہ یہ واضح کرنا مشکل ہے کہ کہاں آزادی اظہار ناقابل قبول ہو جاتا ہے جبکہ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا اس مسودے کیخلاف ووٹ دے گا۔







