کراچی – پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ایک شخص کی واپسی‘ کی وجہ سے ملک کا آئین، انتخابات اور جمہوریت رک گئی تھی – وہ بظاہر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کا حوالہ دے رہے تھے۔
نواز شریف العزیزیہ کرپشن کیس میں 2019 میں طبی بنیادوں پر اپنی سات سال قید کی سزا کے وسط میں لاہور ہائی کورٹ سےچار ہفتوں کے لیے ضمانت پر لندن چلے گئے تھے۔ ان چار سالوں کے دوران، انہیں العزیزیہ اور ایون فیلڈ بدعنوانی کے مقدمات میں کارروائی سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔
نواز شریف اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں اور 21 اکتوبر کو دبئی کے راستے وطن واپس آئیں گے۔مسلم لیگ ن کے مطابق نواز شریف مینار پاکستان پہنچنے پر عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔
گزشتہ روز کراچی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ پچھلی حکومت کے 16 ماہ کے دور نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ لندن سے ملک نہیں چلایا جا سکتا، سب کا عوام کے درمیان جسمانی طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
بلاول نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرے۔
بلاول نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو انتخابات میں 90 دن سے زائد تاخیر برداشت کرنی پڑی تو ہمیں امید ہے کہ تمام جمہوری جماعتیں پی پی پی کے انتخابی شیڈول کے فوری اعلان کے مطالبے کے پیچھے کھڑی ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات میں تاخیر ووٹ کی عزت کا مظاہرہ نہیں بلکہ اس کی بے عزتی ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین نے پاکستان کی ترقی میں ہر کسی کو اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت پر مزید زور دیا اور نفرت کی سیاست کی مذمت کی۔
بلاول نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ملک گیر انتخابی مہم شروع کرے گی جس کا واحد مقصد انتخابی تاریخ کی وکالت کرنا اور عوام کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دینا ہے کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ پوری قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون غلط تھا اور کون صحیح ۔
پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار ہے۔ پی پی پی رہنما نے ریلی کے دوران یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پارٹی اپنی عوامی رابطہ مہم شروع کر رہی ہے، جو ای سی پی سے الیکشن کی تاریخ جاری کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ عوام کو ووٹ کا حق استعمال کرنے دیں۔ انہیں عوام کا مطالبہ ماننا پڑے گا ۔
سابق وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ جماعتوں کو گزرے ہوئے معاملات کو گزرنے دینا ہوگا ۔ آج پاکستان کو نئی سیاست اور نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ ہمیں 90 کی دہائی کا پاکستان چاہیے، 2017 کا نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو جگہ دی جائے تاکہ وہ توقعات کے مطابق کام کر سکے۔








