Premium Content

ایک خط جو پوسٹ ہونے سے رہ گیا (حصہ دوم)

Print Friendly, PDF & Email

مصنف :              محمدنصراللہ

سنہرا رنگ تمھارے بالوں پربہت سجتا تھا۔ آنکھوں کی طرح تمھاری باتیں بھی بہت گہری تھیں۔ تم بولتے ہوئے اچھی لگتی تھیں۔ سنتے ہوئے اور زیادہ۔ تمھیں کہانی سنانا آتی تھی۔ تم ہنکارا بھرنا جانتی تھی۔تم زندہ دل تھی۔تمھیں زندگی سے محبت تھی۔تمھیں یاد ہو گا ایک روز میں نے تم سے پوچھا تھا، تمھیں اس دنیا میں کیا کیا پسند آیا؟ تو تمھارا جواب کتنا طویل ہو گیا تھا۔ کیا کچھ پسند نہیں تھا تمھیں: ڈھلتا سورج، ریل کی سیٹی، گہرے دریا، ہوا میں جلتا بجھتا چراغ، سفید لباس، گیلی مٹی کی خوشبو، تنہائی، اندھیرا، سکوت، اگر بتیاں، گلاب کے پھول۔ تمھاری عمر کی لڑکیوں کو یہ سب کچھ کہاں پسند ہوتا ہے!کاش تمھیں چائے، سگریٹ، کافی، شاعری، موسیقی، رقص،کتابوں، میلوں، رنگوں، چاندنی راتوں، پھولوں، تتلیوں،پرانی چیزوں، سکوں،سیپیوں، چرخوں، دیوں، لالٹینوں،خیموں، صحرا کی شاموں، گھنٹیوں کی آوازوں اور اونٹوں کی لمبی قطاروں کے سوا اور کچھ پسند نہ ہوتا۔تم سے گلہ کرنا ہے کہ تم نے اپنی پسند میں کسی بھی انسان کا نام نہیں لکھا تھا۔ مجھے اس بات کا دکھ نہیں ہواتھا کہ تمھیں کسی حد تک جانتا تھا۔یہ الگ بات کہ تم نے جاننے کا دعوی نہیں کرنے دیا۔تمھیں لکڑی کے پل اور خط بھی پسند تھے نا۔ اسی لیے یہ خط لکھ رہا ہوں کہ کوئی راستہ تو ہو جس پر چل کے تم تک پہنچا جا سکے۔ یہ خط لکھنے کا خیال بھی اسی خط کو پڑھ کر آیا جس میں تم نے اپنی پسندیدہ چیزوں کے نام لکھے تھے۔تم سے ملنے کے بعد لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ کوئی خلا ہوتا تو لکھ کر اسے پر کرتا۔ محبت کی روشنی سے بھر گیا تھا میں۔

Read More: https://republicpolicy.com/ek-khat-jo-post-hony-sy-reh-gia/

  اب بھی تمھاری عافیت کے لیے دعائیں کرتا ہوں؛ پھر بھی نہ جانے کیوں الٹے سیدھے خواب آتے ہیں۔ صبح اٹھتا ہوں تو اندر سے آواز آتی ہے، تم وہاں خوش نہیں ہو۔ سارا دن چپ چپ سی رہتی ہو۔اندر ہی اندر گھلتی رہتی ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو کسی دن اباجی کے پاس چلی جانا۔ انھیں میرا سلام کہنا۔میرے حوالے سے اپنا ذکر کرنا۔ وہ خوش ہوں گے۔ اپنی اداسی کا اظہارکرو گی تو اداس ہو جائیں گے۔ انھیں گرے پڑوں کو اٹھانا آتا ہے۔ وہی ہیں جنھوں نے مجھے ایسے انسان سے ملوایا جس کے دل میں پوری دنیا دھڑکتی تھی۔وہ تمھیں جہنم میں ملیں گے۔ ایسا نہیں کہ وہ وہیں گئے ہوں گے۔ جنت میں جاکرانھوں نے وہاں جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہو گا۔ وہ سچے آوارہ گرد تھے۔مستقل طور پر جنت میں کیسے رہ پائے ہوں گے۔ جہنمیوں کے پچھتاوے سننے لازمی گئے ہوں گے۔ان کا کتھارسس کر رہے ہوں گے۔انھیں محبت سے بھر رہے ہوں گے۔یہاں بھی انھوں نے یہی کچھ کیا۔ اکثر کہتے تھے: بیٹا آگ جہنم میں نہیں ہوتی۔ سینوں میں ذخیرہ کر کے یہاں سے وہاں لے جائی جاتی ہے۔

انھیں پیغام دینا کہ میں نے ان کا ناول اشاعت کے لیے بھیج دیا ہے۔ عنقریب چھپ جائے گا۔ ان کی تصویر اب بھی میرے اسٹڈی روم میں ہے۔ دیوار سے اتار لی ہے۔ دیکھنے میں دور پڑتی تھی۔ نیا فریم کروا کے نظروں کے زیادہ قریب کرلی ہے اس لیے کہ دور کی  نظرکمزورہوگئی ہے۔ باتوں باتوں میں انھیں یہ بات بھی بتانا کہ ان کی ایک تصویر میں نے اپنے بٹوے میں بھی رکھ لی ہے۔کاش یہ باتیں تم ان تک پہنچا پاؤ۔ کاش وہ جان سکیں کہ میں ان کو کس قدر یاد کرتا ہوں۔

Read More: https://republicpolicy.com/baithak-kitni-zaroori-hai/

 یہاں کے باسی بڑے متجسس ہیں تم لوگوں کے بارے میں کہ اتنے عرصے سے کس حال میں ہو؟ ہو بھی یا نہیں؟ ہو تو کہاں ہو؟ سارا دن کیا کرتے ہو؟ بور تو نہیں ہوتے ہو؟ رہتے ہو تو کن کے ساتھ رہتے ہو؟ کیا کھاتے کیا پیتے ہو؟ہم جو طرح طرح کے کھانے ہر جمعرات کو بھیجتے ہیں وہ مزے مزے کے کھانے اوریہاں سے جانے والے تمھیں وہاں مل پاتے ہیں یا راستے ہی میں رہ جاتے ہیں؟ وہاں بھی رشتے بنتے ٹوٹتے بکھرتے ہیں یا نہیں؟ ہمیں یاد کرنے کے قابل سمجھتے ہو یا وہاں پہنچ کر سب کچھ بھول بھال جاتے ہو؟

ہم لوگ تو بہت یاد کرتے ہیں تمھیں۔ دیکھ لو اب بھی کاغذ کی کشتی پر بیٹھے کاغذی لوگ اندھے سمندر میں جدھر چاہ رہے ہیں اپنی کشتی موڑے جا رہے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تم لوگوں کے چپو تمھارے ہاتھوں میں ہیں یا وہاں بھی تمھاری کشتی کا ملاح وہی ہے جس کا جب جی چاہے کسی کی کشتی ڈبودے، جب جی چاہے پار لگا دے؟ ہمیں ملحد نہ سمجھ لینا۔ہم جاننے کی خواہش رکھنے والے ہیں۔ بھولے ہوئے سالک ہیں مگر بھولے ہی نہیں رہنا چاہتے۔ راستے کی تلاش میں ہیں جسے طے کر کے اطمینان سے مرسکیں۔ہم نے زندہ رہنا سیکھ لیا ہے۔ روٹی کپڑا مکان ہمارا مسئلہ نہیں رہا۔ ہمارے بھڑولے گندم سے بھرے ہیں۔ الماریوں میں اضافی سوٹ لٹکانے کی جگہ نہیں ہے۔ مکان صدیوں رہنے کے قابل ہیں۔ اپنے سوا بھی کئیوں کا پیٹ پال سکتے ہیں۔ہمارے پاس خدائی اختیارات ہیں۔ خدائی اختیارات کیا ہم ہی خدا ہیں۔ جس خدا کی کچھ لوگ اب بھی بات کرتے ہیں اسے انھوں نے خود پیدا کرلیا ہے۔بہرحال حق جو بھی ہو تم سے کیا چھپانا، ہم بڑے بے بس خدا ہیں۔ ہم مرجاتے ہیں۔ ہمیں کوئی مار دیتا ہے یا اپنی موت آپ ہی؟ ہم کیوں مرجاتے ہیں؟ہم مرنے کے خیال کو ذہن میں رکھ کر کیسے جی سکیں؟اور اندھے گڑھے کو ذہن سے نکال کربھی کیسے؟ ایسی ہی باتیں ہیں جو تم سے جاننا چاہتے ہیں۔ تمھیں علم ہو گیا ہو تو ان سوالات کے جواب ضرور لکھنا۔ ہم بے چینی سے منتظر ہیں۔

 چاہتا ہوں تمھارا کسی نہ کسی طرح جی لگ جائے وہاں۔ ان جواب طلب مسئلوں کی کھوج کے بہانے ہی سہی۔ گھومو پھرو گی، کسی کے پاس آؤ جاؤ گی تو وقت قدرے آسانی سے کٹ جائے گا۔ یونہی چپ چاپ اکیلی کونے میں بیٹھی سارا سارا دن ہمیں یاد کرتی رہو گی تو ہمارے آنے تک کیسے رہ پاؤ گی۔یوں کرنا کسی روز بڑے بھائی جان کے پاس بھی چلی جانا۔ ان سے ملاقات کے لیے بھی تمھیں نرک ہی کا رخ کرنا پڑے گا۔ وہ بت ساز تھے۔انھیں کہنا کہ ان کی بنائی گئی مورتیاں فرصت کے لمحوں میں گھنٹوں دیکھتا ہوں۔ یہ بھی کہنا کہ پرانے رشتوں کے ساتھ نئے راستوں پر کیے گئے سفر کبھی نہیں بھولتے۔ اکٹھے سر کی گئی مہم جوئیاں مرتے دم تک یاد رہتی ہیں۔ جنت میں پلٹ کے ان بزرگ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرناجن کا ذکر تم سے اکثر کیا کرتا تھا۔دیکھواب تم انھیں ڈھونڈ پاتی ہو یا نہیں۔ان کا مل جانا تمھارے لیے بڑے نصیب کی بات ہو گی۔ ان کی ایک دو نشانیاں بتائے دیتا ہوں۔ وہ عالم ہو میں ہوں گے۔ ان کی چپ سننے والوں کا مجمع لگا ہوگا ان کے اردگرد تم بھی کچھ دیر کے لیے بیٹھ جانا وہاں۔ تمھیں سکوت پسند ہے نا، اس لیے۔۔۔ جنت ہی میں تمھیں ہماراوہ چہیتا بھی مل سکتا ہے۔وہ تم سے بڑے ادب سے پیش آئے گا۔ اس سے جتنا بھی خوش ہو جانا، میری طرف سے یہ شکوہ کرنا نہ بھول جانا کہ  وہ دھوکے باز نکلا۔ اپنا عادی بنا کر کمزور کرگیا۔ اسے کہنا کہ اگلا جنم ملے تو کسی کے اتنا قریب مت ہونا۔ حویلیاں اجڑ جاتی ہیں۔ اسے کہنا تم سادہ انسان تھے۔ جوان ہو کر بھی بوڑھے زمانوں کا سایہ تھا تم پر۔ تمھارے جیسے بس تم ہی تھے۔بتاؤ اب میں تمھیں کہاں سے ڈھونڈوں؟      جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos