Arshad Mahmood Awan
پاکستان میں مالی وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر ہونے والی بحث عموماً اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا تناسب کیا ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں، حکومتیں اور مختلف مفاداتی حلقے زیادہ تر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قابلِ تقسیم محاصل میں کس حکومت کا حصہ زیادہ یا کم ہونا چاہیے۔ تاہم مالی وفاقیت کا اصل مقصد صرف وسائل کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات، مالی ذمہ داریوں، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی جوابدہی کے درمیان ایک ایسا متوازن نظام قائم کرنا ہے جو بہتر حکمرانی اور مؤثر عوامی خدمات کی ضمانت دے سکے۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ اسی بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کا مالی وفاقی نظام اگرچہ آئینی طور پر مضبوط ہوا ہے، لیکن عملی اعتبار سے ابھی تک نامکمل، غیر متوازن اور نتائج سے پوری طرح منسلک نہیں ہو سکا۔
اٹھارویں آئینی ترمیم اور مالی وفاقیت کا پس منظر
اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک بنیادی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے نہ صرف مشترکہ قانون سازی کی فہرست (کانکرنٹ لیجسلیٹو لسٹ) کا خاتمہ کیا گیا بلکہ تعلیم، صحت، زراعت، سماجی بہبود، ثقافت، ماحولیات اور متعدد دیگر شعبوں میں قانون سازی اور انتظامی اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔ ان وسیع اختیارات کی منتقلی کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ صوبوں کو ان ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ اسی مقصد کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ نمایاں طور پر بڑھایا گیا اور وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں آبادی کے علاوہ غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور آبادی کے پھیلاؤ جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اس اصلاح کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عوامی خدمات کی فراہمی کا اختیار حکومت کی اس سطح پر منتقل ہو جہاں شہریوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھا اور پورا کیا جا سکے۔
وسائل کی منتقلی ہوئی، مگر وفاقی اخراجات میں کمی نہ آ سکی
اگرچہ صوبوں کو زیادہ مالی وسائل منتقل کیے گئے، لیکن مالیاتی اصلاحات کا دوسرا اہم مرحلہ مکمل نہ ہو سکا۔ عالمی بینک کے مطابق دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی حکومتوں کی آمدنی، وفاقی منتقلیوں سمیت، مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، لیکن وفاقی حکومت کے اخراجات میں اس کے مطابق کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاق نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل تو کر دیا، مگر اپنی وزارتوں، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی ڈھانچے اور مالی ذمہ داریوں کو اسی تناسب سے محدود نہیں کیا۔ چنانچہ وفاق نسبتاً کم وسائل کے باوجود وسیع اخراجاتی ذمہ داریاں نبھاتا رہا، جس کے نتیجے میں مالیاتی دباؤ، بجٹ خسارے اور قرضوں میں اضافہ ہوتا گیا۔
نامکمل اختیارات کی منتقلی مالیاتی مسائل کی بنیادی وجہ
پاکستان کے مالیاتی مسائل کی اصل وجہ این ایف سی ایوارڈ کا فارمولہ نہیں بلکہ اختیارات اور ذمہ داریوں کی نامکمل منتقلی ہے۔ اگر وفاق ایسے شعبوں پر اخراجات جاری رکھے جو آئینی طور پر صوبوں کے سپرد کیے جا چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف صوبے بھی اپنی مالی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر قبول نہ کریں، تو اس نظام میں مالی بے ترتیبی، ادارہ جاتی تکرار اور جوابدہی کا فقدان پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ ایک کامیاب مالی وفاقی نظام میں ہر سطح کی حکومت کے اختیارات، مالی وسائل اور ذمہ داریوں کے درمیان واضح مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ جب یہ مطابقت موجود نہ ہو تو نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ عوام بھی یہ طے نہیں کر پاتے کہ کسی خدمت میں ناکامی کا ذمہ دار کون سا ادارہ ہے۔
صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور عوامی خدمات
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کو جو اضافی وسائل حاصل ہوئے، ان کے باوجود عوامی خدمات میں وہ نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتوں کے اخراجات کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن، انتظامی اخراجات اور دیگر جاری مصارف پر خرچ ہوتا رہا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی عوامی سہولتوں پر سرمایہ کاری نسبتاً محدود رہی۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، صاف پانی، صفائی، زرعی خدمات، شہری منصوبہ بندی اور مقامی انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اضافی مالی وسائل عوامی زندگی میں بہتری پیدا نہ کر سکیں تو مالی وفاقیت کے مقاصد کس حد تک حاصل ہوئے ہیں۔
صوبائی خودمختاری اور بلدیاتی نظام کا تعلق
مالی وفاقیت کا تصور صرف وفاق سے صوبوں تک وسائل کی منتقلی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا منطقی تسلسل بلدیاتی حکومتوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بیشتر صوبائی حکومتوں نے اختیارات اور وسائل کو صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رکھا، جبکہ اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کو مناسب مالی خودمختاری اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے گئے۔ نتیجتاً اختیارات کی مرکزیت وفاق سے نکل کر صوبوں میں منتقل تو ہوئی، مگر عوام کی دہلیز تک نہ پہنچ سکی۔ شہری اپنی روزمرہ زندگی میں این ایف سی ایوارڈ کے فیصد نہیں دیکھتے بلکہ وہ اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کے اسکول میں اساتذہ موجود ہیں یا نہیں، ہسپتال میں ادویات دستیاب ہیں یا نہیں، گلیاں صاف ہیں یا نہیں اور پینے کا صاف پانی فراہم ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر بلدیاتی ادارے مضبوط نہ ہوں تو مالی وفاقیت کا اصل مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
صوبائی محصولات کی کمزور بنیاد
مالی خودمختاری کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ صوبے اپنے محصولات میں اضافہ کریں۔ اگرچہ خدمات پر فروختی محصول، زرعی آمدنی پر ٹیکس، شہری جائیداد پر ٹیکس اور دیگر کئی محصولات صوبائی حکومتوں کے اختیار میں ہیں، لیکن ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اب بھی انتہائی محدود ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں، کیونکہ جن طبقات سے مؤثر ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے، وہ خود سیاسی طور پر طاقتور اور بااثر ہیں۔ نتیجتاً صوبائی حکومتیں اپنے محصولات میں اضافے کے بجائے وفاقی منتقلیوں پر زیادہ انحصار کرتی ہیں، جس سے مالی خودمختاری کمزور اور مالیاتی انحصار مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
مالی خودمختاری کے ساتھ مالی ذمہ داری بھی ناگزیر
حقیقی مالی وفاقیت صرف وسائل کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ مالی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ صوبوں کو نہ صرف اپنے محصولات میں اضافہ کرنا چاہیے بلکہ اخراجات کی ترجیحات، مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی جوابدہی کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ اگر کوئی صوبہ اپنی آمدنی کے بجائے مسلسل وفاقی منتقلیوں پر انحصار کرے تو وہ مکمل مالی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی طرح مالیاتی نظم و ضبط، ترقیاتی اخراجات میں توازن اور عوامی خدمات کی بہتری کے بغیر اضافی وسائل بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔
ٹیکس نظام میں تقسیم اور انتظامی پیچیدگیاں
وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس وصولی کے اختیارات کی تقسیم نے کاروباری برادری کے لیے متعدد عملی مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔ اشیا اور خدمات پر الگ الگ فروختی محصولات، مختلف قوانین، مختلف طریقہ ہائے کار، الگ رجسٹریشن اور الگ آڈٹ کے باعث کاروباری اداروں کو اضافی مالی اور انتظامی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک کامیاب وفاقی مالیاتی نظام میں متعدد ٹیکس ادارے موجود ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے درمیان قوانین، معلومات، ڈیجیٹل نظام، تعریفات اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں مکمل ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس شعبے میں ابھی بہت زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے لیے نئی سمت
آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو صرف وسائل کی تقسیم کا ایک نیا معاہدہ سمجھنے کے بجائے پاکستان کی مالی وفاقیت کو ازسرنو منظم کرنے کے ایک تاریخی موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ آئین کے آرٹیکل 160(3-الف) کے تحت صوبوں کا حصہ گزشتہ ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے وسائل میں کمی موجودہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے میں آبادی کے ساتھ ساتھ اخراجاتی ضروریات، محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت، محصولات کی وصولی کی کارکردگی، مالی نظم و ضبط، انسانی ترقی، عوامی خدمات کی فراہمی اور حکومتی کارکردگی کو بھی مؤثر طور پر شامل کیا جائے۔ اسی کے ساتھ بلدیاتی حکومتوں کے لیے ایک مستقل، شفاف اور آئینی طور پر محفوظ مالیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ اختیارات اور وسائل کی منتقلی عوام کی دہلیز تک پہنچ سکے۔
نتیجہ
پاکستان کی مالی وفاقیت اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صرف وسائل کی تقسیم پر بحث کافی نہیں رہی۔ آئندہ اصلاحات کا مرکز اختیارات، مالی وسائل، ادارہ جاتی ذمہ داری، محصولات کی استعداد، بلدیاتی خودمختاری اور عوامی جوابدہی ہونا چاہیے۔ جب تک وفاق، صوبے اور بلدیاتی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریوں، مالی وسائل اور کارکردگی کے درمیان واضح تعلق قائم نہیں کرتے، اس وقت تک مالی وفاقیت اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو اسی جامع نقطۂ نظر کے ساتھ تشکیل دینا پاکستان کی مضبوط معیشت، مؤثر حکمرانی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں نمایاں کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔









