Premium Content

بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

غزہ جنگ بندی کی تجویز پر مصر اور قطر کو حماس کی جانب سے جواب موصول ہو گیا

Print Friendly, PDF & Email

مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مصر اور قطر کو فلسطینی گروپوں حماس اور اسلامی جہاد کی جانب سے حالیہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کی تجویز کے بارے میں جواب موصول ہو گیا ہے۔

وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ جواب کو پڑھیں گے اور اگلے اقدامات پر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں گے۔

مصر اور قطر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ان کی مشترکہ ثالثی کی کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

پیر کے روز، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے بیان کردہ غزہ جنگ بندی کی تجویز کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی۔

بائیڈن نے31 مئی کو کہا کہ اسرائیل نے تین مرحلوں پر مشتمل ایک ڈیل پیش کی ہے جو غزہ میں کشیدگی کو ختم کرے گی اور ساحلی علاقے میں قید یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنائے گی۔ اس منصوبے میں جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں حماس اور اسلامی جہاد نے کہا کہ تحریکوں کے ایک مشترکہ وفد نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کے دوران فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کا ردعمل قطری حکام کو پہنچایا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جواب مصری حکام کو بھی بھیجا گیا ہے۔

بیان کے مطابق، جواب فلسطینی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، غزہ کے خلاف جاری جارحیت کو مکمل طور پر روکنے اور پوری غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیتا ہےجبکہ اسرائیل عارضی طور پر جنگ بندی پر اصرار کرتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلن کن نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ان کی ملاقات کے دوران صدر بائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پر اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

حماس اور اسلامی جہاد کے وفد نے غزہ کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت انداز میں مشغول ہونےکے لیے اپنی تیاری کا اظہار کیا۔

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کو غزہ پر اس کے مسلسل وحشیانہ حملوں کے درمیان بین الاقوامی مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

مقامی صحت کے حکام کے مطابق، غزہ میں اب تک تقریباً 37,200 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اور 84،800 سے زیادہ زخمی ہیں۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos