اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کی ایم پی او کے تحت نظربندی معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے صدر پرویز الٰہی کی ایم پی او کے سیکشن 3 کے تحت نظر بندی کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی ایجنسی کی جانب سے ممکنہ گرفتاری یا احتیاطی حراست کے خلاف حکم امتناعی کے ساتھ رہا کیا جائے۔

تاہم، اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے چند گھنٹے بعد، اسلام آباد پولیس کی ایک ٹیم نے، پنجاب پولیس کی مدد سے، ایف سی سی انڈر پاس کے قریب ایک سفید ایس یو وی کو روکا جس میں پرویز الٰہی وکیل سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ اپنے گھر جا رہے تھے۔

پولیس اہلکاروں نے پرویز الٰہی کو بغیر لائسنس پلیٹ والی سفید کار میں منتقل کیا تھا۔ گاڑی اسے اسلام آباد لے گئی۔ گرفتاری کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق، پرویزالٰہی کو ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

ایم پی او کا سیکشن 3 حکومت کو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پرویز الہی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی نظر بندی کا حکم معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کو بھی نوٹس جاری کیا جنہوں نےپرویز الٰہی کو حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

مزید برآں عدالت نےپرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت تک کسی قسم کا بیان جاری نہ کریں۔ بعد ازاں سماعت منگل (12 ستمبر) تک ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے دوران پرویز الٰہی کے وکیل سردار عبدالرازق خان نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل گزشتہ تین ماہ سے جیل میں ہیں اور سوال کیا کہ وہ امن عامہ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں پی ٹی آئی رہنما کی نظر بندی کا حکم بھی بلند آواز میں پڑھ کر سنایا۔

وکیل نے کہا کہ پرویز الٰہی نے چار ماہ میں کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے رہا کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد حراست میں لیا تھا۔ اس موقع پر جسٹس جہانگیری نے پوچھا کہ کیاپرویز الٰہی نے کوئی ریلی نکالی یا کوئی تشدد کیا جس پر وکیل نے نفی میں جواب دیا۔

وکیل نے پھر نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی کے شہریار آفریدی کے خلاف ایسا حکم جاری کرنے پر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos