امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے تحت مذاکرات کا دوسرا دور اتوار کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ایک ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر رہا ہے جس کی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر کے برابر ہو سکتی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جوہری تنازع کا حل تلاش کرنا ہے۔ مذاکرات میں تین صفحات پر مشتمل ابتدائی مسودے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت امریکا ایران کے منجمد 20 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں ایران کو افزودہ جوہری کا بڑا ذخیرہ ترک کرنا ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں امریکا کی جانب سے 6 ارب ڈالر خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے جاری کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے منجمد اثاثوں میں 27 ارب ڈالر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جسے امریکا نے مسترد کر دیا۔ اسی طرح امریکا نے ایران کے تمام جوہری مواد کو اپنے ملک منتقل کرنے کی شرط رکھی، جسے تہران نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب ایران نے ملک کے اندر محدود سطح پر یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ طبی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹر برقرار رکھنے کی اجازت پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ امریکا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ ایران کی تمام جوہری تنصیبات زمین کے اوپر رہیں، تاکہ نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔








