سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ فیصلے میں ایک ایسے بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا ہے جسے کسی وضاحت کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ضابطۂ کارروائی کا مقصد “انسانی دکھ درد کو آواز دینا ہے، اسے خاموش کرنا نہیں۔” یہ صرف ایک مقدمے کے بارے میں رائے نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ اس فیصلے نے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ اگر عدالتی کارروائی کے قواعد انصاف کے راستے میں رکاوٹ بن جائیں تو قانون اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
ہر مہذب معاشرے میں قانون اور انصاف ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ضابطے اور قواعد اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ عدالتی کارروائی منصفانہ، شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو۔ لیکن جب یہی ضابطے انصاف سے زیادہ اہم سمجھے جانے لگیں تو ان کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ عدالتوں کا کام لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے، نہ کہ رسمی کارروائیوں کے ذریعے ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا۔
زیرِ سماعت مقدمہ اس مسئلے کی واضح مثال ہے۔ استغاثہ کی ایک گواہ نے محسوس کیا کہ عدالت میں دیا گیا اس کا بیان درست انداز میں تحریر نہیں کیا گیا۔ بیان میں مبینہ جرم کی تاریخ بھی غلط درج ہو گئی تھی۔ ایسی غلطی معمولی نہیں ہوتی کیونکہ فوجداری مقدمات میں تاریخ، وقت اور حالات شواہد کی اہم بنیاد ہوتے ہیں۔ گواہ نے درخواست کی کہ عدالت دستیاب ویڈیو ریکارڈنگ دیکھ کر اس کے بیان کی درستگی کی تصدیق کرے اور غلطیوں کو درست کرے۔ ضابطۂ فوجداری میں عدالت کو اس مقصد کے لیے مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔
اس کے باوجود ٹرائل کورٹ اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ دونوں عدالتوں نے یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ آیا تحریری ریکارڈ واقعی گواہ کے اصل بیان کی درست عکاسی کرتا ہے یا نہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالتِ عظمیٰ نے دونوں فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیا، انہیں کالعدم کیا اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ ویڈیو ریکارڈنگ کی جانچ کر کے اگر کوئی غلطی موجود ہو تو اسے درست کیا جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ یہ کارروائی پندرہ ورکنگ دنوں کے اندر مکمل کی جائے تاکہ مقدمہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔
اس فیصلے کی اہمیت اس لیے نہیں کہ اس نے کوئی نیا قانونی اصول متعارف کرایا ہے بلکہ اس لیے کہ اس نے انصاف کے ایک پرانے اور بنیادی تصور کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ عدالتوں کو قانونی اختیارات اسی لیے دیے جاتے ہیں کہ اگر کارروائی کے دوران انسانی غلطی ہو جائے تو اسے بروقت درست کیا جا سکے۔ چونکہ عدالتی ریکارڈ بھی انسان تیار کرتے ہیں، اس لیے غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک مؤثر نظامِ انصاف وہی ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور انہیں درست کرنے کا حوصلہ رکھے۔
فوجداری مقدمات میں گواہوں کے بیانات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر بیان غلط درج ہو جائے تو پورا مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے۔ عدالت کے فیصلے تحریری غلطیوں پر نہیں بلکہ اصل حقائق پر مبنی ہونے چاہییں۔ اگر واضح غلطی کو صرف اس لیے برقرار رکھا جائے کہ ضابطے کی ایک رسمی تشریح ایسا کرنے سے روکتی ہے تو انصاف کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
دنیا کے تمام معتبر نظامِ انصاف میں ایک معروف اصول موجود ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ عوام عدالتوں پر صرف فیصلوں کی بنیاد پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس بات کو بھی دیکھتے ہیں کہ مقدمات کی سماعت کس انداز سے کی جا رہی ہے۔ اگر لوگ یہ محسوس کریں کہ عدالتیں واضح غلطیوں کو بھی درست کرنے سے گریز کر رہی ہیں تو ان کا اعتماد کمزور ہونا لازمی ہے۔
پاکستان کا عدالتی نظام کئی دیرینہ مسائل سے دوچار ہے۔ مقدمات کے فیصلوں میں طویل تاخیر، زیرِ التوا مقدمات کی بڑی تعداد، مختلف عدالتوں میں قانون کے غیر یکساں استعمال اور احتساب سے متعلق عوامی خدشات آج بھی موجود ہیں۔ برسوں تک چلنے والے مقدمات میں گواہوں کی یادداشت متاثر ہوتی ہے، شواہد کمزور پڑ جاتے ہیں، متاثرین انصاف سے مایوس ہو جاتے ہیں اور ملزمان بھی مسلسل غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایسی صورت حال قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہے۔
زیرِ التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد عدالتوں پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، لیکن انتظامی سہولت کبھی بھی انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے مقدمے کو پوری توجہ، غیر جانبداری اور قانونی دیانت داری کے ساتھ سنا جائے۔ عدالتی نظام کی اصل طاقت صرف آئینی آزادی نہیں بلکہ روزمرہ کی عدالتی کارروائی میں انصاف کے عملی اظہار سے پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں بہت سے جج اپنی ذمہ داریاں دیانت، آزادی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف عوامی جائزوں میں عدالتی نظام پر اعتماد کو اب بھی کمزور قرار دیا جاتا ہے۔ عوام تاخیر، پیچیدگی، شفافیت اور جوابدہی کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان خدشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے دور کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اسی لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ قانونی اختیارات صرف کتابوں کی زینت نہیں بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ اگر کسی واضح غلطی کو درست کرنے کا اختیار موجود ہو تو عدالت کو محض رسمی دشواری کی وجہ سے اس اختیار کے استعمال سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا رویہ انصاف اور عوامی اعتماد دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عدالت کی جانب سے پندرہ ورکنگ دنوں میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی قابلِ تحسین ہے۔ انصاف میں تاخیر خود ایک بڑی ناانصافی سمجھی جاتی ہے۔ رفتار اور درستگی دونوں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک مؤثر عدالتی نظام کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔ متاثرین، گواہان، ملزمان اور پورا معاشرہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ مقدمات بروقت اور منصفانہ انداز میں نمٹائے جائیں۔
آئین نے عدلیہ کو بنیادی حقوق کے تحفظ، آئین کی تشریح اور ریاستی اختیارات کو قانون کے دائرے میں رکھنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کے لیے صرف قانونی مہارت کافی نہیں بلکہ انصاف پسندی، دیانت، شفافیت اور انسان دوستی بھی ضروری ہے۔ ہر جج کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کا مقصد انسان کی عزت، آزادی اور حقوق کا تحفظ ہے۔
آخرکار قانون انسانوں کے لیے بنایا جاتا ہے، انسان قانون کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ ضابطۂ کارروائی انصاف کو منظم ضرور کرتا ہے مگر وہ کبھی انصاف کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جب بھی رسمی کارروائیاں انصاف کے راستے میں حائل ہونے لگیں تو عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل مقصد کو سامنے رکھیں۔ سپریم کورٹ نے یہی بنیادی حقیقت دوبارہ یاد دلائی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ ملک کی تمام عدالتیں اسی اصول کو اپنی روزمرہ کی عدالتی کارروائی کا مستقل حصہ بنائیں تاکہ ہر شہری یہ محسوس کر سکے کہ عدالت اس کے لیے ہے، نہ کہ وہ عدالت کے ضابطوں کا محض ایک بے جان حصہ ہے۔









