پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ کی حقیقت: شخصیت سے بڑھ کر اصولوں کی سیاست

[post-views]
[post-views]

Editorial

پاکستان تحریک انصاف کو عام انتخابات 2024 میں حاصل ہونے والی عوامی حمایت کو محض ایک جماعتی ووٹ یا تنظیمی مقبولیت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس حمایت کے پس منظر میں کئی اہم سیاسی اور سماجی رجحانات کارفرما تھے۔ ان میں آئین کی بالادستی کا مطالبہ، جمہوری عمل پر اعتماد، میرٹ کی حکمرانی کی خواہش، قانون کی حکمرانی پر یقین اور برسراقتدار قوتوں کے خلاف عوامی ردعمل شامل تھے۔ یہ تمام عوامل کسی ایک شخصیت یا سیاسی جماعت سے وابستگی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں ایک ایسا تعلیم یافتہ، شہری اور جمہوریت پسند طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے جو شخصیات کے بجائے اصولوں کو ترجیح دیتا ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ طبقہ ہر دور میں اسی سیاسی قوت کی حمایت کرتا رہا ہے جسے وہ آئینی حکمرانی، جمہوری اقدار، شفاف طرزِ حکومت اور میرٹ کی نمائندہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ تصور کرنا درست نہیں ہوگا کہ 2024 میں ملنے والا ہر ووٹ موجودہ قیادت، تنظیم یا ہر امیدوار کے لیے دائمی وفاداری کی علامت ہے۔ بعد ازاں ہونے والے ضمنی انتخابات نے بھی یہ ظاہر کیا کہ اس حمایت کا بڑا حصہ عمران خان کی ذاتی مقبولیت سے وابستہ ہے، نہ کہ لازماً جماعت کے ہر امیدوار یا موجودہ پارلیمانی قیادت سے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو ایک بنیادی حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ پاکستانی ووٹر نہ تو جامد ہے اور نہ ہی اندھی وابستگی کا حامل۔ ووٹر وقت، حالات اور کارکردگی کے مطابق اپنے فیصلے تبدیل کرتا ہے۔ ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شفاف حکمرانی اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے۔ اگر یہی طبقہ یہ محسوس کرنے لگے کہ جماعت اپنے بنیادی نظریاتی اصولوں سے انحراف کر رہی ہے، امیدواروں کے انتخاب میں میرٹ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، داخلی جمہوریت کمزور ہو رہی ہے یا نمائندگی کے معیار میں کمی آ رہی ہے تو اس کی سیاسی حمایت برقرار رہنے کی کوئی ضمانت نہیں۔

یہ تاثر بھی روز بروز مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ پارلیمانی قیادت ابھی تک وہ عوامی مقبولیت، سیاسی وزن اور اخلاقی اعتماد حاصل نہیں کر سکی جو عمران خان کی شخصیت کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہی ووٹر جو جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ موجودہ پارلیمانی چہروں کو دوبارہ ووٹ دیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت میں تدریجی کمی بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی اعتماد ہمیشہ کارکردگی اور سیاسی رویوں سے وابستہ رہتا ہے، محض ماضی کی مقبولیت سے نہیں۔

جمہوریت میں کوئی بھی ووٹ مستقل نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت عوامی اعتماد پر ہمیشہ کے لیے اجارہ داری قائم رکھ سکتی ہے۔ عوامی اعتماد صرف اس صورت برقرار رہتا ہے جب سیاسی جماعتیں مؤثر کارکردگی، میرٹ، داخلی جمہوریت، شفاف احتساب، مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور حقیقی عوامی نمائندگی کو اپنی سیاست کا محور بنائیں۔ اصولوں سے انحراف، کمزور قیادت، ناقص امیدواروں کا انتخاب اور تنظیمی جمود بالآخر ہر جماعت کے سیاسی سرمائے کو کمزور کر دیتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیے بھی یہی بنیادی سبق ہے کہ اگر وہ مستقبل میں اپنی عوامی حمایت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے شخصیت پرستی سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی سیاست، آئینی بالادستی، داخلی اصلاحات، میرٹ پر مبنی امیدواروں کے انتخاب، پارلیمانی استعداد اور مؤثر عوامی نمائندگی کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ عوامی اعتماد کا اصل سرچشمہ شخصیات نہیں بلکہ اصول، کارکردگی اور جمہوری طرزِ عمل ہوتے ہیں، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر پائیدار سیاسی کامیابی استوار کی جا سکتی ہے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت تمام مقبول ترین کتب پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]