پی ٹی آئی سربراہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں دو ہفتے کی توسیع، قریشی کو جیل بھیج دیا گیا

[post-views]
[post-views]

خصوصی عدالت نے بدھ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی، جو کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں ہے۔

اٹک جیل میں کیس کی ان کیمرہ سماعت کرنے والے خصوصی عدالت کے جج نے پی ٹی آئی کے سربراہ کی حاضری کو یقینی بنایا اوربعد ازاں کیس کی سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کردی جبکہ بعد از گرفتاری ضمانت کیس کی سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے آغاز پر پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے عدالت سے سابق وزیراعظم کے جیل میں ٹرائل سے متعلق وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے اور اسے کھلی عدالت میں چلانے کی بھی استدعا کی۔

خصوصی عدالت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک کے دفتر میں قائم کی گئی۔ حکام کے مطابق سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جیل کے اندر کی گئی۔ منگل کو توشہ خانہ کیس میں عمران کو ضمانت مل گئی تھی لیکن ایف آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف درج سائفر کیس میں انہیں جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا۔

اس سے قبل کیس کی کارروائی کے لیےجج سخت سکیورٹی میں اسلام آباد سے اٹک جیل پہنچے اور عمران خان کو 13 ستمبر تک 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عمران خان کی گیارہ وکلا پر مشتمل قانونی ٹیم بھی اٹک پہنچ گئی ۔قانونی ٹیم میں ایڈووکیٹ سلطان صفدر، ایڈوکیٹ پنجوتھا اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ جیل کے اندر عدالت کا قیام اور پھر کارروائی کا انعقاد سراسر غیر آئینی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

وکلا نے عمران کی جسمانی حالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جسمانی طور پر تندرست ہیں اور مذہبی اور تاریخ کی کتابیں پڑھ رہے ہیں تاہم انہیں جیل مینوئل کے مطابق سہولیات نہیں دی جارہی ہیں ۔ وکلا نے مزید کہا کہ بدھ کو ہونے والی واحد اچھی پیش رفت یہ تھی کہ عمران کو وائٹ پیپر اور قلم دیا گیا۔ وکلا نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کے پی کے حالیہ انتخابات کے بارے میں عمران خان کو بتایا گیا تو وہ خوش ہوئے اور عمران خان نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی کے لیے ثابت قدم رہنے کے لیے اپنا پیغام عوام تک پہنچائیں۔

دریں اثناء بدھ کے روز اسلام آباد کی ایک عدالت نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ مدعا علیہان کی جانب سے درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ خصوصی عدالت کے جج نے کیس کی سماعت کی جس میں ایف آئی اے نے ملزم کو پیش کیا۔ کارروائی کے دوران ایف آئی اے کےوکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تفتیشی مقاصد کے لیے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ تاہم وکیل صفائی نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ عدالت نے بعد ازاں ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos