اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے سزا سنائے جانے میں ”طریقہ کار کی خرابیوں“ کو تسلیم کیا، لیکن سزا معطلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے کا کہا۔
چیف جسٹس آف عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے میں نقائص ہیں، لیکن ہم اس مرحلے پر مداخلت نہیں کریں گے۔ بلکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتائج کا انتظار کریں۔
چیف جسٹس، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 342 کے تحت ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے عمران خان نے دفاعی گواہ پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے 2 اگست کو یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی تھی کہ گواہ تنازعہ سے متعلق نہیں ہے۔ بنچ نے ریمارکس دیے کی کریمنل کیس میں حق دفاع لازمی ہوتا ہےجو کہ عمران خان کو ٹرائل کورٹ نے نہیں دیا۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وکیل امجد پرویز سے جب پوچھا گیا کہ کیا درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے اٹھائے گئے نکات درست ہیں تو وکیل نے کھلے دل سے درخواست گزار کے دعووں کی سچائی کو تسلیم کیا۔
سپریم کورٹ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے ۔








