عوامی وسائل کو انتخابی مہم کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

پنجاب کے عوام کے وسائل سے خریدی گئی دس بسوں کو آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے قبل وہاں منتقل کیے جانے کی اطلاعات نہایت تشویش ناک ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ عوامی امانت، آئینی ذمہ داری اور سیاسی اخلاقیات سے متعلق ایک اہم سوال ہے۔ سرکاری وسائل کسی سیاسی جماعت یا حکمران شخصیت کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ وہ عوام کی امانت ہوتے ہیں جنہیں صرف قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔

اگر یہ اقدام انتخابات سے فوراً پہلے کیا گیا تو اس کے وقت اور مقصد پر غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں احتسابی ادارے فوری طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے، کیا اس فیصلے کی حقیقی انتظامی ضرورت موجود تھی، اور کیا عوامی وسائل کو کسی انتخابی فائدے کے لیے استعمال تو نہیں کیا گیا۔ یہی ادارہ جاتی احتساب جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف تین بسوں کا نہیں بلکہ ریاستی وسائل کے سیاسی استعمال کا ہے۔ جب طاقتور حکمران قانون سے بالاتر محسوس ہونے لگیں اور ادارے خاموش رہیں تو قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے۔ عوامی احتساب اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب ہر منصب پر فائز شخص یکساں طور پر قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر عوامی خاموشی ہے۔ سرکاری وسائل کے اصل مالک عوام ہیں، اور اگر عوام ہی ایسے معاملات پر آواز بلند نہ کریں تو ادارے بھی کمزور پڑتے جاتے ہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔

پاکستان میں مضبوط جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور حقیقی عوامی احتساب اسی وقت ممکن ہے جب ریاستی وسائل کو انتخابی مہم کا ذریعہ بنانے کی ہر کوشش کو روکا جائے، آئینی حدود کا احترام کیا جائے، اور ہر طاقتور فرد کو بھی قانون کے برابر جواب دہ بنایا جائے۔ یہی طرزِ عمل عوامی اعتماد کی بحالی اور جمہوری استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]