پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک کیوں کمزور ہو رہا ہے؟

[post-views]
[post-views]


طاہر مقصود

پنجاب، جو ہمیشہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سب سے مضبوط سیاسی گڑھ رہا ہے، آج بڑھتے ہوئے سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس صورتِ حال کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن ایک بنیادی وجہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ صوبے میں ایسا طرزِ حکمرانی فروغ پا چکا ہے جس میں منتخب سیاسی قیادت کا کردار کمزور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ انتظامی افسر شاہی فیصلہ سازی کے مرکز میں آتی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں عملی طور پر حکومت وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بجائے چیف سیکریٹری، انتظامی سیکریٹریوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک معمولی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ہے جس نے حکمران جماعت کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کے سیاسی کردار کو محدود کر دیا ہے۔ اس کے اثرات اب مسلم لیگ (ن) کی انتخابی پوزیشن پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں موجود ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باعث نہ میئر موجود ہیں، نہ بلدیاتی کونسلیں اور نہ ہی ایسے مقامی منتخب نمائندے جو عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکیں۔ ان کی جگہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز انتظامی اختیارات استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ ایک جمہوری نظام میں یہ اختیارات مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں۔ نتیجتاً عام شہری کے پاس اپنی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر سیاسی نمائندہ موجود نہیں۔ صوبائی اسمبلی کے ارکان اور مقامی سیاسی شخصیات، جو کبھی عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے تھے، اب نسبتاً غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں، جن کا مقصد انتظامیہ کا احتساب کرنا ہے، اب تک ایسا مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں جو افسر شاہی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کر سکے۔ اسی طرح پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں بھی انتظامی اخراجات اور فیصلوں پر مؤثر نگرانی قائم کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتیں۔ بعض مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کا انتظامیہ پر اعتماد اور ان کی سرپرستی کا تاثر بھی اس صورتحال کو تقویت دیتا ہے، جس کی وجہ سے منتخب نمائندوں کے لیے انتظامی فیصلوں کو چیلنج کرنا یا جوابدہی کا مطالبہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب سیاست دان یہ محسوس کرنے لگیں کہ نظام ان کے ذریعے نہیں بلکہ ان سے بالاتر ہو کر چل رہا ہے تو ان کی سیاسی سرگرمی اور وابستگی متاثر ہونا فطری امر ہے۔

سیاسی اہمیت میں یہ کمی خود ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن جب اسے موجودہ سیاسی مقابلے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین انتخابی خطرہ بن جاتی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت اور پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل عوامی کشش نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے روایتی ووٹ بینک پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی جماعت کو اپنے کارکنوں، مقامی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کی بھرپور حمایت اور سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہی لوگ خود کو نظر انداز شدہ محسوس کریں اور اپنے حلقوں میں کوئی مؤثر کردار ادا نہ کر سکیں تو ان کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔ کچھ لوگ متبادل سیاسی راستے اختیار کر لیتے ہیں جبکہ کچھ سیاست سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ یوں جماعتی ڈھانچہ آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے گرد ایک ایسا حکومتی حلقہ تشکیل پا چکا ہے جس میں ماہرین، غیر منتخب مشیران اور سینئر سرکاری افسران کا کردار زیادہ نمایاں ہے۔ روایتی سیاسی قیادت، جس نے کئی دہائیوں میں جماعت کی بنیاد مضبوط کی، خود کو اس حلقے سے دور محسوس کرتی ہے۔ بعض مبصرین مریم اورنگزیب جیسے افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی اسی رجحان کی علامت قرار دیتے ہیں۔ چاہے یہ تاثر مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، اگر پارٹی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے تو اس کے سیاسی نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی توجہ ترقیاتی منصوبوں، انتظامی اصلاحات اور حکومتی کارکردگی پر مرکوز ہے، جو یقیناً اہم عوامل ہیں۔ سڑکیں، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کسی بھی حکومت کی کامیابی کے اہم پیمانے ہوتے ہیں۔ لیکن سیاست صرف ترقیاتی منصوبوں سے زندہ نہیں رہتی۔ سیاست عوامی تعلقات، سیاسی وابستگی اور اس احساس سے مضبوط ہوتی ہے کہ عوام اور کارکنان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کی سیاسی شرکت معنی رکھتی ہے۔ اگر تمام خدمات صرف انتظامی مشینری کے ذریعے فراہم کی جائیں اور سیاسی کارکن خود کو غیر متعلق محسوس کریں تو اس سے وقتی تعریف تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی وفاداری پیدا نہیں ہوتی۔

مسلم لیگ (ن) کے لیے پنجاب صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ اس کی قومی سیاست کی بنیاد ہے۔ اگر پنجاب میں جماعت کمزور ہوتی ہے تو وفاقی سطح پر اس کی سیاسی طاقت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کئی سیاسی حلقے موجودہ صورتحال کو جماعت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کو دوبارہ مضبوطی سے سنبھالے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے، مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کو اختیارات دیے جائیں، پارلیمانی کمیٹیوں کو مؤثر بنایا جائے اور فیصلہ سازی کے عمل میں سیاسی کارکنوں اور منتخب ارکان کو فعال کردار دیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکمرانی کی ذمہ داری مستقل طور پر افسر شاہی کے سپرد کرنے کے بجائے منتخب سیاسی قیادت اپنے آئینی کردار کو پوری طرح ادا کرے۔

کوئی بھی سیاسی جماعت اگر اپنے حکومتی کردار کو مکمل طور پر انتظامی ڈھانچے کے حوالے کر دے تو وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو خود کمزور کرتی ہے۔ پنجاب میں آئندہ انتخابات صرف انتظامی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں جیتے جا سکتے۔ کامیابی کا انحصار ان سیاسی تعلقات، کارکنوں کے اعتماد اور عوامی روابط پر ہوگا جنہیں مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مضبوط بنانا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]