امریکی خارجہ پالیسی کے جریدے فارن افیئرز میں شائع ہونے والے نیٹ سوانسن (Nate Swanson) کے مضمون کے تناظر میں، گزشتہ پچاس سالوں سے ایران ہر امریکی صدر (کارٹر، ریگن، اوباما اور ٹرمپ) کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بنا رہا ہے۔ ٹرمپ کی فروری کی فوجی کارروائی اور موجودہ شدید اقتصادی ناکہ بندی بھی واشنگٹن کے روایتی انداز کی عکاسی کرتی ہے، لیکن یہ حکمتِ عملی ناکامی سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔
امریکی پالیسی کی ناکامی کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:
- عسکری دباؤ کا محدود اثر: ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سخت امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں اور نقصان کو برداشت کرنے کے بعد بھی اپنے ڈرون اور میزائل نظام کو فعال رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، واشنگٹن میں زمینی فوج بھیجنے کی ہمت نہیں ہے، جس سے تہران کو اندازہ ہو گیا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے رژیم کی تبدیلی (Regime Change) ناممکن ہے۔
- جنگِ طویل (War of Attrition) اور تہران کا صبر: ایران امریکی عوام کی نسبت معاشی اور گھریلو مشکلات برداشت کرنے کی زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تیل کے سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے امریکی انتظامیہ پر اندرونی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
- تنگۂ ہرمز (Strait of Hormuz) کا مؤثر کارڈ: ایران کے پاس تنگۂ ہرمز کو بند کرنے اور خلیج کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ایسا مضبوط کارڈ موجود ہے جس سے وہ عالمی اور امریکی معیشت کو براہِ راست نقصان پہنچا سکتا ہے۔
- اقتصادی پابندیوں کی غیر موثریت: کارٹر سے لے کر موجودہ دور تک عائد کردہ سخت ترین معاشی پابندیاں ایرانی معیشت کو نقصان تو پہنچاتی ہیں، لیکن تہران کو اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکیں۔
امریکی ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ (Maximum Pressure) کی یہ حکمتِ عملی تہران کے سامنے بے اثر ثابت ہو رہی ہے اور واشنگٹن کے پاس مستقبل کے لیے مؤثر پالیسی کے اختیارات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔









