سندھ طاس معاہدے کو معطلی نہیں، تعاون کی ضرورت ہے

[post-views]
[post-views]

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کے فیصلے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ غیر جانب دار ماہر کے عمل اور بعد ازاں دی ہیگ کی ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ 1960 کا یہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا۔ پاکستان نے ان فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ بھارت نے انہیں مسترد کردیا ہے۔

اس صورتحال نے ایک عجیب تضاد پیدا کردیا ہے: معاہدہ قانونی طور پر برقرار ہے، لیکن عملی طور پر اس کا نظام مسلسل غیر مؤثر ہوتا جارہا ہے۔

معاہدے پر عمل درآمد کا بنیادی دوطرفہ ادارہ، مستقل انڈس کمیشن، 2022 کے بعد سے اپنا باضابطہ سالانہ اجلاس منعقد نہیں کرسکا۔ معاہدے کے تحت دونوں کمشنروں کو رابطے، معلومات کے تبادلے اور تعاون کے لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ ملنا ہوتا ہے۔ باقاعدہ رابطہ نہ ہونے سے تکنیکی اختلافات کا حل مزید مشکل ہوگیا ہے۔

بھارت کے 2025 میں معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اعلان سے پہلے ہی اس پر اختلافات بڑھ رہے تھے۔ نئی دہلی نے 2023 اور 2024 میں معاہدے میں تبدیلی کے لیے پاکستان کو نوٹس جاری کیے، جبکہ پاکستان نے مغربی دریاؤں پر بھارت کے بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات اٹھائے اور معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے رجوع کیا۔ ان اختلافات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا زیادہ تعمیری راستہ ہوسکتا تھا۔

معاہدے کی اپنی حدود بھی ہیں۔ چھ دریاؤں کی تقسیم نے بعض اوقات دونوں ممالک کو پورے دریائی نظام کے مشترکہ انتظام کے بجائے پانی کو متصادم قومی مفادات کے تناظر میں دیکھنے کی طرف مائل کیا ہے۔ تاہم ایسے وقت میں جب بھارت موجودہ معاہدے کے تحت مکمل تعاون کے لیے تیار نہیں، پاکستان کے لیے اس پر دوبارہ مذاکرات سے محتاط رہنا قابل فہم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ معاہدے کے اندر مزید تعاون کی گنجائش پہلے سے موجود ہے۔ آرٹیکل سات دونوں ممالک کے دریاؤں کی بہترین ترقی میں ’’مشترکہ مفاد‘‘ کو تسلیم کرتا ہے اور باہمی رضامندی سے مزید تعاون کی اجازت دیتا ہے۔ اس شق کو زیرِ زمین پانی کے انتظام، پانی کے معیار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن کا 1960 میں معاہدہ طے کرتے وقت مکمل اندازہ نہیں تھا۔

بھارت اور پاکستان بنیادی معاہدے کو دوبارہ کھولے بغیر اس کے ساتھ اضافی تکنیکی طریقۂ کار اور باہمی مفاہمت کے انتظامات بھی طے کرسکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ 1960 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ایک نامکمل مگر پائیدار نظام فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اکیسویں صدی میں دریائے سندھ کے طاس کو درپیش ماحولیاتی حالات اس دور سے بہت مختلف ہیں جب یہ معاہدہ طے پایا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی سندھ طاس کو تبدیل کررہی ہے۔ بارشوں کے انداز اور برف و گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں تبدیلی سیلاب اور پانی کی قلت دونوں کے خطرات بڑھا رہی ہے۔ تازہ پانی اور مٹی کے بہاؤ میں کمی نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو بھی شدید ماحولیاتی دباؤ سے دوچار کردیا ہے۔

ان مسائل پر تعاون کے لیے دونوں ممالک کو پہلے اپنے تمام سیاسی تنازعات حل کرنے کی ضرورت نہیں۔ موسمیاتی نگرانی، گلیشیئرز کا مشاہدہ، سیلاب کی پیش گوئی اور آبی معلومات کا بہتر تبادلہ ایسے عملی شعبے ہیں جن میں تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

فوری ترجیح معاہدے کے ادارہ جاتی نظام کی بحالی ہونی چاہیے۔ مستقل انڈس کمیشن کے باقاعدہ اجلاس دوبارہ شروع کیے جائیں، معلومات کے معمول کے تبادلے اور معائنوں کو بحال کیا جائے۔ اس کے بعد دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں معاہدے کو زیادہ مؤثر اور طویل مدت تک پائیدار بنانے پر بات کرسکتے ہیں۔

بھارت کو بھی سندھ طاس کے معاملے کو محض بالائی دریا کنارے کی ریاست اور زیریں جانب واقع پاکستان کے تعلق کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ دریائے سندھ تبت سے نکلتا ہے اور اس کا دریائی و ماحولیاتی نظام سرحدوں سے ماورا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ایک مشترکہ اور بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار دریائی طاس کا حصہ ہیں، جس کی ماحولیاتی خرابی بالآخر دونوں کو متاثر کرے گی۔

عالمی برادری، بشمول امریکا، کو اسلام آباد اور نئی دہلی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اس معاہدے کے نظام کو محفوظ رکھیں اور پانی کے تعاون کو وسیع تر سکیورٹی کشیدگی کی نذر نہ ہونے دیں۔ کسی الگ سیاسی یا سکیورٹی تنازع میں پانی کے معاہدے کو دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا ان چند دوطرفہ ادارہ جاتی انتظامات میں سے ایک کو کمزور کرسکتا ہے جو دونوں جوہری ہمسایوں کے درمیان بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں کے باوجود قائم رہے ہیں۔

آگے بڑھنے کا راستہ نہ یکطرفہ معطلی ہے اور نہ ہی فوری طور پر پورے معاہدے کو دوبارہ لکھنا۔ اولین ترجیح تعاون کی بحالی، معاہدے کے ادارہ جاتی نظام کو فعال کرنا اور اسے بتدریج اکیسویں صدی کی موسمیاتی اور ماحولیاتی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنا ہونی چاہیے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]