وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعے کو کہا ہے کہ حکومت وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے والوں کو ہر ممکن طریقے سے روکے گی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
وزیر داخلہ کا بیان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج کی کال کے بعد سامنے آیا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے عوام کو متحرک کرنے کی غرض سے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ ان اقدامات میں کارکنوں کی نظربندی کی درخواستیں، کنٹینرز کا انتظام، اضافی نفری کی طلبی اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے سامان کی خریداری شامل تھی۔
عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ
پریس کانفرنس کے آغاز میں محسن نقوی نے بتایا کہ احتجاج کی کال اور امن و امان کی صورت حال پر غور کے لیے ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تمام صوبوں اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں وفاقی دارالحکومت یا کسی دوسرے صوبے میں توڑ پھوڑ اور بدامنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیر داخلہ کے مطابق اگر کوئی سڑکوں پر نکل کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے گا تو حکومت پہلے اس کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مارچ کرنے والوں کو ہر ممکن طریقے سے روکے گی اور اس فیصلے سے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ماضی کے احتجاجی مظاہروں میں اسلحہ استعمال ہوا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی سے متعلق واضح ہدایات دی جا رہی ہیں اور اگر ان پر گولی چلائی گئی تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔
انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے شہروں اور صوبوں میں احتجاج کرے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے میں زبردستی داخل ہونے کے منصوبوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کے مطابق اسلام آباد کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسی مقصد کے لیے احتجاجی مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے سیاسی مقاصد کے لیے پُرامن احتجاج اور اسلحہ بردار افراد کے ذریعے پُرتشدد کارروائیوں میں فرق کرتے ہوئے کہا کہ اگر مارچ کے دوران ایک بھی جان ضائع ہوئی تو اس کے منتظمین کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف میں اب بھی کچھ سمجھ دار آوازیں موجود ہیں اور امید ہے کہ وہ احتجاج کے فیصلے پر نظرثانی کریں گی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پارلیمان میں بارہا حزبِ اختلاف کو تمام معاملات پر مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاملات پُرتشدد ہجوم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
محسن نقوی نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مستعد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنیادی حقوق سے متعلق فیصلہ
جمعے کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بننے والی کوئی بھی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
عدالت نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے ذمہ دار سرکاری عہدیداروں کو بھی اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ پُرامن اجتماع کا حق اس انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔
کوہاٹ حملے پر خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
کوہاٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو متحرک کرنے، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے اور چندہ جمع کرنے کی حکمتِ عملی بنانے کے بجائے دہشت گردی کے مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق ایسے واقعات کے بعد ایک طرف لانگ مارچ کی کال دینا اور دوسری طرف شہدا کی لاشیں اٹھانا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو لانگ مارچ کی مہمات کے لیے دکھائے جانے والے جذبے کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔
اس سے قبل جمعے کو کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب بارود سے بھری گاڑی میں دھماکے سے کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
حکام کے مطابق حملے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
سینئر پولیس اور ضلعی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد دہشت گرد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور پولیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔









