مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے جوہری ہتھیاروں کا ماڈل کیوں ناکافی ہے؟

[post-views]
[post-views]

امریکہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جوہری دور کی تاریخ سے نامکمل سبق حاصل کر رہا ہے

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں اس کے ممکنہ خطرات اور حکومتی نگرانی کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے کے لیے اکثر جوہری ہتھیاروں کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان، قومی سلامتی کے حکام اور محققین کا ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قائم کیے گئے عالمی ادارے اور معاہدے مصنوعی ذہانت کی نگرانی میں بھی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔

ایلون مسک مصنوعی ذہانت کو جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا موازنہ حساس جوہری مواد سے کیا ہے، جبکہ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی جیسے ادارے کی مثال دیتے رہے ہیں۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی دونوں ٹیکنالوجیوں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کر چکے ہیں۔

یہ موازنہ بعض حوالوں سے قابلِ فہم ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت دونوں انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ان کے غلط استعمال سے سنگین خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ دونوں ٹیکنالوجیاں عالمی طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ ان میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کو مزید شدید بنا سکتی ہے۔

تاہم فارن افیئرز میں شائع ہونے والے تجزیے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کا نظام مصنوعی ذہانت کے لیے تیار شدہ نمونہ نہیں بن سکتا۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کی تاریخ اس کی عمومی شہرت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت اپنی ساخت، تیاری، تجارتی استعمال اور خطرناک صلاحیتوں کی شناخت کے اعتبار سے جوہری ٹیکنالوجی سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کا نظام بظاہر جتنا کامیاب نظر آتا ہے، حقیقت اتنی سادہ نہیں

مصنوعی ذہانت کے لیے بین الاقوامی ضابطہ سازی کی متعدد تجاویز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والے اداروں اور معاہدوں سے متاثر ہیں۔

بعض محققین مصنوعی ذہانت کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے ملتا جلتا انتظام تجویز کرتے ہیں، جس کے تحت جدید کمپیوٹنگ آلات تک رسائی ان ممالک کو دی جائے جو متفقہ حفاظتی اور قانونی تقاضے پورے کریں۔

دوسرے ماہرین ایک ایسے بین الاقوامی ادارے کے قیام کے حامی ہیں جسے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانچ اور نگرانی کے اختیارات حاصل ہوں۔

ایک تیسرا نقطۂ نظر سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان قائم ہونے والے اسلحہ کنٹرول کے طریقوں کو امریکہ اور چین کی مصنوعی ذہانت کی مسابقت پر لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ان تجاویز کے پس منظر میں جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے نظام کی تاریخی کامیابیوں کا تصور موجود ہے۔

1953 میں امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے ’’ایٹمز فار پیس‘‘ کا منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کو فروغ دینا اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنا تھا۔

بعد ازاں 1970 میں جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ نافذ ہوا، جس کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی معائنے اور تصدیق کے انتظامات قائم کیے گئے۔

امریکہ اور سوویت یونین نے براہِ راست رابطے کے ذرائع بھی قائم کیے، جوہری تجربات محدود کرنے کے معاہدے کیے اور ایسے اقدامات اختیار کیے جن کا مقصد خطرناک تصادم کے امکانات کم کرنا تھا۔

آج دنیا کے نو ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد کسی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوئے۔

لیکن اس صورتِ حال کو صرف بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کئی ممالک نے سیاسی دباؤ، سلامتی کی ضمانتوں، معاشی مشکلات یا داخلی سیاسی تبدیلیوں کے باعث جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے منصوبے ترک کیے۔

جنوبی کوریا اور تائیوان نے امریکی دباؤ کے بعد اپنے ابتدائی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام ختم کیے۔ لیبیا نے امریکہ اور برطانیہ کے مسلسل دباؤ اور سفارتی رابطوں کے نتیجے میں اپنا پروگرام ترک کیا۔

سویڈن اور سوئٹزرلینڈ نے جزوی طور پر زیادہ مالی اخراجات کے باعث جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ چھوڑا، جبکہ ارجنٹائن اور برازیل میں جمہوری تبدیلیوں نے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی تعاون کی طرف موڑ دیا۔

جنوبی افریقہ نے نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے دوران اپنی داخلی اور خارجی ترجیحات میں تبدیلی کے نتیجے میں اپنا جوہری اسلحہ ختم کیا۔

اس کے برعکس بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا نے بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام کے باوجود جوہری ہتھیار حاصل کیے۔

اس تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام ہمیشہ سیاسی حالات اور طاقتور ممالک کی جانب سے پابندیاں نافذ کرانے کی آمادگی پر بھی منحصر رہی ہے۔

بعض مواقع پر جوہری تباہی محض اتفاق سے ٹلی

1945 کے بعد جوہری جنگ نہ ہونے کو اکثر اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جوہری مزاحمت اور اسلحہ کنٹرول کے انتظامات مؤثر رہے ہیں۔

تاہم تاریخی تحقیقات سے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں غلطیوں، رابطوں کی ناکامی اور غیر متوقع حالات نے جوہری طاقتوں کو تباہ کن تصادم کے قریب پہنچا دیا۔

اکتوبر 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے دوران امریکہ اور سوویت یونین براہِ راست جوہری تصادم کے قریب پہنچ گئے تھے۔

امریکی فوجی منصوبہ ساز کیوبا پر حملے پر غور کر رہے تھے، حالانکہ انہیں وہاں سوویت جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور تعداد کا مکمل علم نہیں تھا۔

ایک سوویت آبدوز امریکی بحری افواج کے خلاف جوہری تارپیڈو استعمال کرنے کے قریب پہنچ گئی تھی، جبکہ ایک امریکی جاسوس طیارے کے سوویت فضائی حدود میں داخل ہونے سے ایک اور خطرناک صورتِ حال پیدا ہوئی۔

ان میں سے کئی واقعات امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور سوویت رہنما نکیتا خروشیف کے براہِ راست علم کے بغیر پیش آئے۔

بعد کی دہائیوں میں بھی جوہری حملوں سے متعلق انتباہی نظاموں میں خرابیاں اور غلط اطلاعات سامنے آئیں۔

نومبر 1979 میں امریکی انتباہی نظام نے ایک تربیتی ریکارڈنگ کو سوویت یونین کے بڑے حملے کی علامت سمجھ لیا۔

ستمبر 1983 میں سوویت افسر اسٹینسلاو پیٹروف نے امریکی میزائل حملے کی اطلاع کو درست طور پر نظام کی خرابی قرار دیا۔

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کے ادارے تباہ کن غلطیوں کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے تھے۔

تجزیے کے مطابق مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ سازی کرنے والوں کو جوہری تاریخ میں اتفاقی حالات کے کردار کو بھی سمجھنا چاہیے۔ صرف اداروں اور معاہدوں کو جوہری جنگ نہ ہونے کی مکمل وجہ سمجھنا ایک نامکمل تاریخی نتیجہ ہوگا۔

موجودہ جوہری نظام خود دباؤ کا شکار ہے

جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کا عالمی نظام اس وقت نئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

امریکہ اور روس کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے والے اہم معاہدے ختم ہو چکے ہیں یا غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔

یوکرین میں روس کی جنگ اور امریکی سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال نے بعض یورپی ممالک میں متبادل جوہری انتظامات کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے۔

چین اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ اس پر امریکہ اور روس کے درمیان قائم ہونے والے دوطرفہ اسلحہ کنٹرول جیسے انتظامات لاگو نہیں ہوتے۔

مشرقی ایشیا میں شمالی کوریا اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث جنوبی کوریا اور جاپان میں بھی جوہری مزاحمت کے بارے میں بحث بڑھ رہی ہے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو جوہری ہتھیار رکھنے والے اور ان سے محروم ممالک کے درمیان اختلافات کا بھی سامنا ہے۔

معاہدے کے تحت جوہری طاقتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نیک نیتی سے جوہری تخفیفِ اسلحہ کے لیے کوشش کریں گی۔ تاہم حالیہ رجحانات میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے اور انہیں جدید بنانے کے اقدامات نمایاں رہے ہیں۔

تخفیفِ اسلحہ کی سست رفتار سے مایوس ہو کر 90 سے زیادہ ممالک نے جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے ایک الگ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

جوہری طاقتوں اور ان کے اتحادیوں نے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ موجودہ سلامتی کے حالات کا مناسب حل پیش نہیں کرتا۔

یہ تمام تبدیلیاں جوہری نظام کو ایک ایسے مستحکم نمونے کے طور پر پیش کرنے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں جسے مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے براہِ راست اختیار کیا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت کی نگرانی جوہری مواد کی طرح نہیں کی جا سکتی

جوہری ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ایک بنیادی فرق ان کی تیاری کے مراحل کا سراغ لگانے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے لیے بالخصوص یورینیم اور پلوٹونیم جیسے مخصوص مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی پیداوار مہنگی ہوتی ہے اور اس کے لیے خصوصی صنعتی تنصیبات درکار ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی معائنہ کار ان مواد کی نگرانی کر سکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور یہ جانچ سکتے ہیں کہ کوئی پروگرام ہتھیاروں کی تیاری کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔

مصنوعی ذہانت بھی جدید سیمی کنڈکٹرز، صنعتی آلات اور بڑے ڈیٹا مراکز جیسے طبعی ڈھانچے پر انحصار کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑے تربیتی مراکز بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور ان کی موجودگی کا سراغ ان کے طبعی حجم اور توانائی کی ضروریات سے لگایا جا سکتا ہے۔

اس لیے جدید کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی حکومتوں کے لیے ایک ممکنہ انتظامی ذریعہ بن سکتی ہے۔

تاہم کمپیوٹنگ کی مقدار مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کا اتنا قابلِ اعتماد پیمانہ نہیں جتنا جوہری مواد ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت کا ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے نظام بہتر الگورتھم، سافٹ ویئر اور تربیتی طریقوں کے ذریعے زیادہ طاقتور بن سکتے ہیں۔

جو ماڈل آج تیار کرنے کے لیے بے پناہ کمپیوٹنگ وسائل مانگتا ہے، ممکن ہے مستقبل میں اسے بہت کم وسائل کے ساتھ تیار کیا جا سکے۔

اسی طرح بڑے ماڈلز کی صلاحیتیں چھوٹے نظاموں میں منتقل کی جا سکتی ہیں، جبکہ استعمال کے دوران اضافی کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرکے کسی نظام کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

اس لیے جدید چپس تک رسائی محدود کرنے سے ترقی کی رفتار کم ہو سکتی ہے، اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور نگرانی آسان ہو سکتی ہے، لیکن اس سے مکمل طور پر معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ خطرناک مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں کس کے پاس موجود ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی نقل تیار کرکے انہیں دنیا بھر میں منتقل کیا جا سکتا ہے

مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی تربیت مکمل ہونے کے بعد ایک اور اہم مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کے بنیادی عددی پیرامیٹرز، جنہیں ماڈل ویٹس کہا جاتا ہے، اس ڈیٹا مرکز سے الگ کرکے نقل، منتقل، تبدیل اور استعمال کیے جا سکتے ہیں جہاں اصل ماڈل تیار کیا گیا تھا۔

بعض کمپنیاں وسیع استعمال اور جدت کو فروغ دینے کے لیے یہ پیرامیٹرز خود عام کر دیتی ہیں۔

اس کے بعد دوسرے ادارے یا افراد ان نظاموں کو ایسے مقاصد کے لیے تبدیل کر سکتے ہیں جن کا اصل تیار کنندگان نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

ایک ہی عمومی مصنوعی ذہانت کا نظام طبی معلومات کے تجزیے، سافٹ ویئر کی تیاری، سائبر سلامتی کی تحقیق اور ممکنہ طور پر خطرناک تکنیکی سرگرمیوں میں مدد دے سکتا ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی دنیا میں اس کی کوئی قریبی مثال موجود نہیں کہ ایک طاقتور صلاحیت کو عام کر دیا جائے اور بے شمار آزاد ادارے یا افراد اسے اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کرکے مزید بہتر بنا سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے روایتی طریقے مصنوعی ذہانت کے لیے کم موزوں ہیں۔

حکومتیں جدید چپس کی فراہمی محدود کرنے کے باوجود یہ معلوم کرنے سے قاصر رہ سکتی ہیں کہ کسی ماڈل کے بنیادی پیرامیٹرز کہاں منتقل ہوئے اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

نجی کمپنیوں کی بالادستی حکومتی نگرانی کو مزید پیچیدہ بناتی ہے

جوہری ہتھیاروں کے پروگرام تاریخی طور پر حکومتوں کے وسیع کنٹرول میں رہے ہیں۔

جوہری اسلحہ تیار کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ریاستی اداروں، منظم فوجی ڈھانچے اور خصوصی سائنسی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی کا راستہ اس سے مختلف رہا ہے۔

اس کی تیاری میں نجی کمپنیوں، آزاد محققین اور تجارتی تجربہ گاہوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

یہ ادارے سرمایہ کاری، منڈی میں حصے اور تکنیکی برتری کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی ترقی کی رفتار اکثر حکومتوں کی ضابطہ سازی سے زیادہ ہوتی ہے۔

جوہری اسلحہ کنٹرول کا معاہدہ حکومتوں کو ان کے زیرِ اختیار ہتھیاروں اور تنصیبات کے بارے میں جواب دہ بنا سکتا ہے۔

اس کے برعکس مصنوعی ذہانت سے متعلق کسی بین الاقوامی معاہدے کو ایسی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کرنا ہوگا جن کے تجارتی مفادات اور تکنیکی صلاحیتوں سے خود ان کی حکومتیں بھی مکمل طور پر واقف نہ ہوں۔

معاہدوں پر عمل درآمد کی تصدیق بھی مشکل ہوگی۔

جوہری معاہدوں میں وارہیڈز، میزائلوں اور دیگر طبعی آلات کی واضح شناخت ممکن ہوتی ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کی نگرانی میں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ کس چیز کو جانچا جائے۔

کیا نگرانی کمپیوٹنگ وسائل کی ہوگی، ماڈل کی صلاحیتوں کی، تربیتی طریقوں کی، استعمال کے حالات کی یا بیرونی آلات تک رسائی کی؟

ان بنیادی سوالات پر مشترکہ تعریفیں طے کیے بغیر مؤثر بین الاقوامی نگرانی کا نظام قائم کرنا مشکل ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کے خطرات کو واضح کرنے والا کوئی تاریخی سانحہ موجود نہیں

جوہری ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت کے ظہور کے سیاسی حالات بھی مختلف ہیں۔

اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے جوہری ہتھیاروں کی تباہ کن صلاحیت کا فوری اور واضح مظاہرہ کیا۔

بعد کے جوہری تجربات نے بھی ان ہتھیاروں کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھائی۔

مصنوعی ذہانت کے معاملے میں ابھی تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانب سے حفاظتی پابندیوں کو نظرانداز کرنے یا بیرونی ماحول تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی اطلاعات نے ماہرین اور پالیسی سازوں میں تشویش پیدا کی ہے۔

تاہم ان واقعات کے نتائج اب تک محدود رہے ہیں اور ان کے وسیع تر مضمرات پر بحث جاری ہے۔

ممکنہ تباہ کن خطرات میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال، بڑے سائبر حملے، بنیادی سہولتوں میں خلل اور انتہائی ترقی یافتہ نظاموں پر مؤثر انسانی اختیار کا ختم ہونا شامل ہیں۔

ان خطرات کو عوام کے سامنے واضح کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کی تباہ کن صلاحیت کا مظاہرہ ابھی جوہری ہتھیاروں کی پہلی جنگی کارروائی جیسی سطح پر نہیں ہوا۔

اس کے برعکس ملازمتوں پر اثرات، نوجوانوں پر مصنوعی ذہانت سے گفتگو کرنے والے نظاموں کے ممکنہ نتائج اور ڈیٹا مراکز کے مقامی اخراجات جیسے فوری مسائل نے زیادہ عوامی اور سیاسی توجہ حاصل کی ہے۔

پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی بڑے سانحے کا انتظار کیے بغیر پائیدار حفاظتی انتظامات قائم کریں۔

مصنوعی ذہانت کی نگرانی میں تیاری اور استعمال دونوں کو شامل کرنا ہوگا

تجزیے کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ضابطہ سازی کو صرف کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

حکومتوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ماڈلز کیسے تیار کیے جاتے ہیں، ان کی جانچ کیسے ہوتی ہے، ان کی صلاحیتوں کا جائزہ کون لیتا ہے اور انہیں کن حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو حفاظتی جانچ کے طریقے ظاہر کرنے، سنگین واقعات کی اطلاع دینے اور آزادانہ جائزوں کی اجازت دینے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔

ضابطہ سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مخصوص شعبوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ایک عمومی نظام معمول کے دفتری کاموں میں استعمال ہونے پر نسبتاً محدود خطرات پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہی نظام بنیادی قومی سہولتوں، حیاتیاتی تحقیق یا سائبر سلامتی جیسے حساس شعبوں میں مختلف نوعیت کے خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔

اس لیے حفاظتی تقاضوں کا تعین ہر استعمال کے ممکنہ نتائج کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ تمام مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو یکساں خطرناک سمجھ کر۔

خصوصاً مصنوعی حیاتیات اور جارحانہ سائبر کارروائیوں سے متعلق جدید صلاحیتیں سخت نگرانی کی متقاضی قرار دی گئی ہیں۔

واشنگٹن کو مصنوعی ذہانت کے لیے مستقل قانونی اور ادارہ جاتی نظام درکار ہے

تجزیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس مصنوعی ذہانت کی مؤثر نگرانی کے لیے پہلے ہی متعدد قانونی اور انتظامی ذرائع موجود ہیں۔

برآمدی پابندیوں کے ذریعے حساس ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کی جا سکتی ہے۔

دفاعی پیداوار کے قانون کے تحت وفاقی حکومت بعض حالات میں کمپنیوں سے اہم معلومات طلب کر سکتی ہے۔

اسی طرح وفاقی ادارے اپنی خریداری کی پالیسیوں میں شفافیت اور آزادانہ حفاظتی جانچ کی شرائط شامل کر سکتے ہیں۔

بنیادی مسئلہ ان اختیارات کے استعمال کے لیے مستقل اور واضح نظام کی عدم موجودگی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ وسیع ضابطہ سازی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ ضرورت سے زیادہ نگرانی امریکی جدت کی رفتار کم کر سکتی ہے اور چین کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

اس کے باوجود انتظامیہ نے بعض کمپنیوں کے معاملات میں برآمدی پابندیوں اور دیگر انتظامی اقدامات کے ذریعے مداخلت بھی کی ہے۔

تجزیے کے مطابق اس نوعیت کے غیر مستقل فیصلے کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ عوام کو یکساں حفاظتی ضمانتیں بھی فراہم نہیں کرتے۔

وفاقی قانون سازوں نے بعض مخصوص خطرات سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ کیلیفورنیا، الینوائے اور نیویارک جیسی ریاستوں نے شفافیت، سنگین واقعات کی اطلاع اور آزادانہ جانچ کے تقاضوں پر کام کیا ہے۔

تاہم تجزیے کے مطابق امریکہ میں اب تک مصنوعی ذہانت کے لیے ایسا جامع نگران نظام قائم نہیں ہوا جو ہوابازی یا جوہری توانائی جیسے حساس شعبوں میں موجود انتظامات سے مماثلت رکھتا ہو۔

کانگریس کو واضح کرنا ہوگا کہ جدید مصنوعی ذہانت کی نگرانی کس ادارے کی ذمہ داری ہوگی، کمپنیوں کو کون سی معلومات فراہم کرنا ہوں گی اور نگران حکام کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے۔

بین الاقوامی تعاون سے پہلے داخلی جواب دہی ضروری ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ مذاکرات دونوں بڑی مصنوعی ذہانت کی طاقتوں کو تعاون کے مشترکہ شعبے تلاش کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

تاہم بین الاقوامی معاہدے داخلی ضابطہ سازی کی کمزوریوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔

امریکہ کو پہلے اپنی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی نگرانی کے لیے واضح ذمہ داریاں اور مستقل انتظامات قائم کرنا ہوں گے۔

ایک مربوط قومی نظام کے بغیر واشنگٹن کے لیے قابلِ اعتماد بین الاقوامی وعدے کرنا یا ان پر عمل درآمد کی تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

جوہری تاریخ سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے لیے بھی بعینہٖ وہی ادارے قائم کیے جائیں۔

اصل سبق یہ ہے کہ طاقتور ٹیکنالوجیوں کی نگرانی کے انتظامات ان کی حقیقی خصوصیات، خطرات اور سیاسی حالات کے مطابق تیار ہونے چاہییں۔

جوہری ہتھیار اور مصنوعی ذہانت دونوں عالمی سلامتی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے خطرات پر قابو پانے کے طریقے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔

تجزیے کا اختتامی مؤقف یہ ہے کہ پالیسی سازوں کو جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں سے سیکھنا چاہیے، لیکن مصنوعی ذہانت کے لیے ایسا مخصوص قانونی اور ادارہ جاتی نظام تشکیل دینا ہوگا جو اس ٹیکنالوجی کی منفرد نوعیت سے مطابقت رکھتا ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]