بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مولانا ہدایت الرحمن کی گوادر کو وفاقی کنٹرول میں دینے کی مخالفت

[post-views]
[post-views]

جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گوادر کو وفاقی انتظامیہ کے تحت دینے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اوپر سے مسلط کیے گئے فیصلوں پر شدید عوامی اور سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔

گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے گوادر کو وفاق کے زیرِ کنٹرول لانے یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کے حوالے سے جاری بحث کو عوامی ردعمل جانچنے کا ایک طریقہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اسمبلیاں موجود ہونے کے باوجود ملک میں عملاً آمریت قائم ہے جہاں قومی امور پارلیمنٹ کے بجائے ڈائریکٹ فیصلے کر کے چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے علاقے میں قائم سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو تحفظ کے بجائے عوام کی تذلیل کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ایک دن کے لیے بھی بلوچستان کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو وہ تمام غیر ضروری پوسٹیں ختم کر دیں گے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے واضح کیا کہ پارلیمانی اتفاقِ رائے سے نئے اضلاع کا قیام تو قبول ہو سکتا ہے مگر گوادر کو وفاق کے کنٹرول میں دینا ایک سازش ہے جس کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی اور جماعت اسلامی گلی محلوں سے لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک عوام کے حقوق کے لیے اپنی پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]