نائن الیون نے عالمی نظام کو کیسے تقسیم کردیا؟

[post-views]
[post-views]

میڈرڈ — 11 ستمبر 2001 کو عالمی نظام کی سمت بدل گئی۔ امریکا سرد جنگ کے بعد اپنی طاقت کے عروج پر تھا، ولادیمیر پوتن روس میں اپنی صدارت کے ابتدائی برسوں میں تھے اور چین ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر سامنے آرہا تھا۔ القاعدہ کے حملوں نے ان تمام قوتوں کو جنم نہیں دیا جنہوں نے بعد میں دنیا کو تبدیل کیا، لیکن ان حملوں نے بڑی طاقتوں کے وقت، وسائل اور سیاسی توجہ کے استعمال کی سمت بنیادی طور پر بدل دی۔

امریکا کے لیے نائن الیون نے دہشت گردی کو محض قومی سلامتی کے کئی مسائل میں سے ایک مسئلے کے بجائے خارجہ پالیسی کا مرکزی محور بنا دیا۔ چند ہی ہفتوں میں واشنگٹن نے افغانستان پر حملہ کیا، طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور ایک ایسی عالمی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ شروع کردی جو آنے والی دو دہائیوں تک امریکی خارجہ پالیسی پر غالب رہی۔ شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی دفاع کی شق استعمال کی۔ مختلف خطوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پھیلیں، جبکہ انٹیلی جنس، نگرانی اور داخلی سلامتی کے اداروں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

ابتدائی امریکی ردعمل کو دنیا کے بڑے حصے کی حمایت اور ہمدردی حاصل تھی، لیکن 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی۔ عراق نے نائن الیون کے حملے نہیں کیے تھے، جبکہ حملے کا بنیادی جواز یعنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ بھی درست ثابت نہ ہوسکا۔ جس جنگ سے امریکی طاقت کا اظہار مقصود تھا، وہ ایک طویل تنازع میں تبدیل ہوگئی جس نے امریکا کے بے پناہ فوجی، مالی اور سیاسی وسائل استعمال کیے۔ افغانستان میں بھی ابتدائی تیز رفتار فوجی کارروائی دو دہائیوں پر محیط جنگ میں بدل گئی، جس کا اختتام 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی پر ہوا۔

اس کا نتیجہ ایک واضح تضاد کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکا بدستور دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رہا، لیکن نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں نے اس طاقت کی حدود بھی نمایاں کردیں۔ واشنگٹن حکومتیں تو تیزی سے گرا سکتا تھا، لیکن مستحکم سیاسی نظام قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے، بڑی تعداد زخمی ہوئی، جبکہ افغانستان اور عراق کے عوام کو اس سے کہیں زیادہ بھاری انسانی قیمت ادا کرنا پڑی۔

تاہم ایک نقصان ایسا بھی تھا جسے صرف مالی اخراجات یا انسانی جانوں میں نہیں ناپا جاسکتا: تزویراتی توجہ کا نقصان۔

جب واشنگٹن دہشت گردی، شورش اور مشرق وسطیٰ و افغانستان میں سیاسی نظام کی تعمیر میں مصروف تھا، اسی دوران دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا تھا۔ چین تیزی سے دولت مند، تکنیکی طور پر زیادہ ترقی یافتہ اور عالمی معیشت سے زیادہ گہرائی کے ساتھ منسلک ہورہا تھا۔ دسمبر 2001 میں چین عالمی تجارتی تنظیم کا رکن بنا اور اس کے بعد کی دو دہائیوں میں اپنی معاشی طاقت، عالمی اثر و رسوخ اور فوجی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دیتا رہا۔ نائن الیون کے بعد کے ابتدائی دور میں واشنگٹن بھی چین کو ایک براہِ راست بڑی طاقت کے حریف کے بجائے زیادہ تر تعاون اور معاشی روابط کے تناظر میں دیکھتا رہا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نائن الیون چین کے عروج کا سبب تھا۔ چین کی معاشی تبدیلی اس سے پہلے ہی شروع ہوچکی تھی۔ البتہ ان حملوں نے امریکی ترجیحات عین اس وقت تبدیل کردیں جب چین اپنی مستقبل کی عالمی طاقت کے لیے معاشی اور تکنیکی بنیادیں مضبوط کررہا تھا۔ امریکا نے برسوں افغانستان، عراق اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی، جبکہ بیجنگ معاشی ترقی، تجارت، بنیادی ڈھانچے، صنعتی صلاحیت اور فوجی جدیدکاری میں آگے بڑھتا رہا۔

روس کا راستہ اس سے مختلف تھا۔

نائن الیون کے فوراً بعد پوتن نے امریکا کے ساتھ تعاون کا ایک موقع دیکھا۔ ماسکو افغانستان کے بارے میں وسیع تجربہ رکھتا تھا اور شمالی اتحاد کے ساتھ اس کے تعلقات بھی موجود تھے۔ روس نے طالبان کے خلاف امریکی کارروائی کے بعض پہلوؤں کی حمایت کی۔ اس وقت پوتن مغرب کے ساتھ بہتر معاشی اور سیاسی تعلقات کے خواہاں تھے اور انسدادِ دہشت گردی کو ایک ایسے شعبے کے طور پر دیکھتے تھے جہاں روس اور امریکا کے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوسکتے تھے۔

یوں مختصر عرصے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ نائن الیون سرد جنگ کے سابق حریفوں کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتا ہے۔

لیکن یہ موقع زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم کی توسیع، وسطی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی، عراق جنگ، سابق سوویت ریاستوں میں سیاسی تحریکوں اور یورپی سلامتی کے وسیع تر نظام سے متعلق اختلافات نے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان فاصلے دوبارہ بڑھا دیے۔ روس نے بتدریج مغرب کے خلاف زیادہ سخت اور تصادم پر مبنی پالیسی اختیار کی، جس کا اظہار 2014 میں کریمیا پر قبضے اور بعد میں یوکرین پر مکمل فوجی حملے کی صورت میں ہوا۔

یہاں بھی نائن الیون کو امریکا اور روس کے بگڑتے تعلقات کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان اختلافات کی جڑیں کہیں زیادہ گہری تھیں۔ تاہم نائن الیون کے بعد کا دور اس لیے اہم تھا کہ اس نے امریکی ترجیحات تبدیل کردیں۔ واشنگٹن کی طویل توجہ مشرق وسطیٰ پر مرکوز رہی، جبکہ اسی عرصے میں روس نے اپنے گرد و نواح میں دوبارہ طاقت کا اظہار شروع کیا اور چین امریکا کے حقیقی تزویراتی حریف کے طور پر ابھرا۔ اسی لیے عراق اور افغانستان کی جنگوں کو صرف مہنگے فوجی تنازعات نہیں بلکہ یورپ اور ایشیا میں بدلتے عالمی طاقت کے توازن سے توجہ ہٹانے والی بڑی تزویراتی مصروفیات بھی سمجھا جاتا ہے۔

نائن الیون کے حملوں نے یوں ایسے نتائج پیدا کیے جن پر خود القاعدہ کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

اس کا مقصد امریکا کو نقصان پہنچانا تھا، لیکن امریکی ردعمل نے پورے بین الاقوامی نظام کی سمت تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔

ان جنگوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں نے القاعدہ کی مرکزی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا اور دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا۔ اسامہ بن لادن 2011 میں مارا گیا، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی نگرانی سخت ہوئی، انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوا اور حکومتوں نے انتہا پسند نیٹ ورکس کی نگرانی کے زیادہ جدید طریقے اختیار کیے۔ اس کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ القاعدہ زیادہ غیر مرکزی ہوگئی، عراق پر حملے اور وہاں پیدا ہونے والی بدامنی نے القاعدہ عراق اور بعد ازاں داعش کے ابھرنے کے لیے حالات پیدا کیے، جبکہ انتہا پسند تنظیموں نے ختم ہونے کے بجائے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیا۔

اسی دوران عالمی نظام 1990 کی دہائی میں موجود غیر معمولی امریکی بالادستی سے بتدریج دور ہوتا گیا۔

چین واشنگٹن کا سب سے اہم طویل مدتی تزویراتی حریف بن گیا۔ روس ایک مرتبہ پھر مغرب کے لیے بڑا فوجی حریف بن کر سامنے آیا۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعات حل نہ ہوسکے۔ عراق اور افغانستان کے تجربات کے بعد خود امریکی معاشرے میں بھی بڑے پیمانے پر بیرونی فوجی مداخلت کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ گئے۔

نائن الیون نے ایک اور دیرپا تبدیلی بھی پیدا کی۔ قومی سلامتی اور عام شہری زندگی کے درمیان حد پہلے کی نسبت کم واضح ہوگئی۔ ہوائی اڈوں کے نظام بدل گئے، نگرانی میں اضافہ ہوا، حکومتوں نے انسدادِ دہشت گردی کے نئے اختیارات حاصل کیے اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ ڈرون نگرانی اور جنگ کے اہم ذرائع بن گئے، جبکہ وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل معلومات جدید سلامتی کے نظام کا حصہ بنتی چلی گئیں۔

پچیس برس بعد صورت حال میں ایک نمایاں تاریخی ستم ظریفی دکھائی دیتی ہے۔ عالمی سیاست ایک بار پھر انہی سوالات کی طرف لوٹ آئی ہے جو نائن الیون کے بعد کچھ عرصے کے لیے پس منظر میں چلے گئے تھے: بڑی طاقتوں کی مسابقت، فوجی بازدارندگی، جوہری ہتھیار، علاقائی جنگیں، صنعتی صلاحیت اور اہم ٹیکنالوجی پر کنٹرول۔ دہشت گردی بدستور ایک خطرہ ہے، لیکن امریکا کی قومی سلامتی کے مرکزی مسائل میں روس اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت دوبارہ نمایاں ہوچکی ہے۔

اس پوری تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ نائن الیون کے بعد پیش آنے والا ہر واقعہ انہی حملوں کا لازمی نتیجہ تھا۔ تاریخ کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ چین ممکنہ طور پر اپنی ترقی جاری رکھتا، روس اپنے علاقائی اور عالمی عزائم کی پیروی کرتا اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات بھی کسی نہ کسی صورت برقرار رہتے۔

اصل سبق یہ ہے کہ بڑی طاقتیں بڑے بحرانوں کا جواب کیسے دیتی ہیں۔

القاعدہ کے پاس امریکی معاشی یا فوجی طاقت کے مقابلے کی کوئی صلاحیت نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس کے حملوں نے دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کو اپنی خارجہ پالیسی ازسرِنو ترتیب دینے، دو طویل جنگیں لڑنے اور انسدادِ دہشت گردی پر غیر معمولی وسائل خرچ کرنے پر مجبور کردیا۔ ان میں سے بعض اقدامات نے امریکا کو زیادہ محفوظ بنایا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا۔ لیکن بعض فیصلوں نے امریکا پر بھاری اخراجات عائد کیے، اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور عالمی نظام میں کہیں اور رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں سے اس کی تزویراتی توجہ ہٹا دی۔

یہ نکتہ آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ بڑی طاقتیں شاذونادر ہی کسی ایک بیرونی حملے سے کمزور ہوتی ہیں۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی بحران کے ردعمل میں وہ ایسے تزویراتی وعدوں اور تنازعات میں الجھ جائیں جن کی قیمت ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہو۔

اسی لیے نائن الیون کی پائیدار جغرافیائی و سیاسی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ اس ستمبر کی صبح القاعدہ نے امریکا کے ساتھ کیا کیا، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس کے بعد امریکا اور بدلتی ہوئی دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں نے کیا فیصلے کیے۔ حملے چند گھنٹوں تک جاری رہے، لیکن ان کے اثرات نے اگلی ربع صدی کی عالمی سیاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]