ایک نئی نظری تحقیق نے طبیعیات کے سب سے پیچیدہ سوالات میں سے ایک کے ممکنہ حل کی جانب پیش رفت کی ہے: آخر وہ کائنات، جس میں انتشار مسلسل بڑھتا رہتا ہے، کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں اور زندگی جیسی منظم ساختیں کیسے پیدا کرتی ہے؟
یہ تحقیق لندن کی کوئین میری جامعہ کی ریاضی دان پروفیسر جنیسترا بیانکونی نے انجام دی، جنہوں نے اس امکان کا جائزہ لیا کہ انتشار سے پیدا ہونے والی کششِ ثقل کے نظریے کے ذریعے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کائنات میں مجموعی انتشار کے مسلسل بڑھنے کے باوجود پیچیدہ ساختیں کیسے وجود میں آتی ہیں۔
کششِ ثقل اور حرارتی طبیعیات کے باہمی تعلق کا تصور نیا نہیں۔ اس کی بنیاد انیس سو ستر کی دہائی میں جیکب بیکنسٹین اور اسٹیفن ہاکنگ کی تحقیق نے رکھی، جنہوں نے ثابت کیا کہ بلیک ہول بھی انتشار رکھتے ہیں اور حرارتی شعاعیں خارج کرتے ہیں۔ اس دریافت نے مکان، زمان، معلومات، کششِ ثقل اور حرارت کے بارے میں طبیعیات دانوں کی سوچ بدل دی۔ انتشار سے پیدا ہونے والی کششِ ثقل کا نظریہ اسی بنیاد پر استوار ہے۔ اس کے مطابق کششِ ثقل دراصل مکان و زمان کی حقیقی ساخت اور مادّے اور خمیدگی سے وابستہ ایک دوسری ساخت کے درمیان معلوماتی فرق سے جنم لیتی ہے۔ اس فرق کو ریاضیاتی طور پر مقداری ہندسی نسبتی انتشار کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔
معمول کے کم توانائی والے حالات میں اس نظریے کی مساواتیں آئنسٹائن کے نظریۂ اضافیت کے نتائج ہی پیش کرتی ہیں، لیکن انتہائی شدید حالات میں دونوں نظریات کے نتائج مختلف ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر یہ نظریہ ایسی تاریک توانائی کی پیش گوئی کرتا ہے جو مستقل نہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، اور مستقبل میں اس پیش گوئی کو فلکیاتی مشاہدات کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔
پروفیسر بیانکونی نے اس رویے کا مطالعہ ان ریاضیاتی نمونوں کی مدد سے کیا جو وسیع پیمانے پر یکساں طور پر پھیلتی ہوئی کائنات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تحقیق سے ایک دلچسپ حرارتی تصویر سامنے آئی، جس کے مطابق مکان و زمان کی ساخت حرارتی طبیعیات کے پہلے قانون کے ایک نمونے کی پیروی کرتی ہے۔ اس میں تاریک توانائی اندرونی توانائی کا کردار ادا کرتی ہے، جبکہ مقداری ہندسی نسبتی انتشار ہر اکائی حجم میں انتشار کی مقامی مقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ مساواتوں سے درجۂ حرارت اور دباؤ کے مؤثر تصورات بھی قدرتی طور پر سامنے آتے ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ کششِ ثقل کی بنیاد میں موجود مقداری کیفیت حرارتی نوعیت رکھتی ہے۔
کائنات میں بڑھتے ہوئے انتشار اور مقامی نظم کے درمیان مطابقت کی اصل وجہ خود کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔ جیسے جیسے کائنات کا حجم بڑھتا ہے، مجموعی انتشار بھی بڑھتا جاتا ہے، مگر ہر اکائی حجم میں انتشار کی مقدار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ یوں خلا کے پھیلنے کے ساتھ انتشار زیادہ وسیع رقبے میں تقسیم ہو جاتا ہے، جس سے مقامی سطح پر منظم ساختوں اور پیچیدگی کے ظہور کے لیے گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم پروفیسر بیانکونی کا خیال ہے کہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کششِ ثقل اور مکان و زمان دونوں کی بنیاد معلوماتی اور حرارتی اصولوں پر استوار ہو سکتی ہے۔
پروفیسر بیانکونی نے کہا، ’’یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ انتشار سے پیدا ہونے والی کششِ ثقل کا نظریہ اس بنیادی سوال کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ حرارتی طبیعیات کے دوسرے قانون اور کائنات میں پیچیدگی کے ظہور کو ایک ساتھ کیسے سمجھا جائے۔‘‘ ان کے مطابق یہ نتائج اس بات کی مزید تحقیق کے نئے راستے کھول سکتے ہیں کہ کائناتی ناقابلِ واپسی ارتقا، پیچیدہ ساختوں کی تشکیل اور بالآخر زندگی کا ظہور کششِ ثقل کی بنیادی حرکیات سے کس طرح وابستہ ہیں









