بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

انتخابات سے قبل سیاسی حمایت مستحکم کرنے کے لیے نیتن یاہو کی متنازع قانون سازی

[post-views]
[post-views]

ایوان میں شدید احتجاج، وزیرِ اعظم اجلاس چھوڑ گئے

اسرائیلی پارلیمان میں اس ہفتے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ حزبِ اختلاف کے ارکان نے “شرم کرو”، “ایوان چھوڑ دو” اور “چلے جاؤ” کے نعرے اس قدر بلند کیے کہ وہ رائے شماری میں شریک ہوئے بغیر ہی ایوان سے باہر چلے گئے۔ تاہم ان کی عدم موجودگی کے باوجود متنازع قانون منظور کر لیا گیا۔

پارلیمان کی تحلیل سے قبل قانون سازی کی دوڑ

پارلیمان کی تحلیل اور ۲۷ اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی اتحادی حکومت نے متعدد متنازع قوانین تیزی سے منظور کرائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان قوانین کا بنیادی مقصد حکومت کے انتہائی قدامت پسند مذہبی اور سخت گیر دائیں بازو کے اتحادیوں کو مطمئن رکھنا تھا۔

اس تمام پیش رفت کے پس منظر میں ایک اہم سیاسی حقیقت کارفرما ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت ۱۹۸۸ء کے بعد پہلی اسرائیلی حکومت بن گئی ہے جس نے اپنی آئینی مدت مکمل کی، جبکہ اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے والے نیتن یاہو خود بھی اس سے قبل کبھی اپنی حکومت کی مکمل مدت پوری نہیں کر سکے تھے۔

سیاسی تجزیہ کار نداو ایال کے مطابق نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں کی حمایت ان کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ ان جماعتوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے مطالبات صرف وہی پورے کر سکتے ہیں۔

فوجی خدمت سے استثنا کا تنازع

سب سے زیادہ متنازع قانون انتہائی قدامت پسند مذہبی نوجوانوں کو فوجی خدمت سے وسیع پیمانے پر استثنا دینے سے متعلق تھا۔

اسرائیلی قانون کے مطابق اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے والے تمام شہریوں پر فوجی خدمت لازم ہے، تاہم انتہائی قدامت پسند مذہبی طبقہ برسوں سے مختلف انتظامات کے تحت اس ذمہ داری سے مستثنیٰ رہا ہے، جنہیں اعلیٰ عدالت متعدد بار غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

جاری جنگ کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کو کم از کم بارہ ہزار اضافی اہلکاروں کی ضرورت ہے، جبکہ اندازاً بہتر ہزار اہل نوجوان اب بھی فوجی خدمت میں شامل نہیں ہوئے۔

عوامی دباؤ کے پیشِ نظر حکومت نے مکمل استثنا دینے کے بجائے دو مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی اختیار کی۔

پہلے قانون کے تحت تورات کی تعلیم کو ریاست کی بنیادی اقدار میں شامل کیا گیا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے فوجی خدمت سے استثنا کو آئندہ عدالتی چیلنجوں سے تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسرے قانون کے ذریعے فوجی خدمت سے گریز کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کو جنوری ۲۰۲۷ء تک عارضی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے اس قانون کو ناقابلِ تصور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کا اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کے اس بیان پر حکومتی اتحادیوں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا، یہاں تک کہ حکمران جماعت کے بعض ارکان نے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کر دیا۔

اگرچہ قانون پارلیمان سے منظور ہو گیا، تاہم بعد ازاں حزبِ اختلاف کی درخواست پر اعلیٰ عدالت نے اس پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا۔

اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت

فوجی خدمت سے متعلق قانون دراصل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان وسیع تر سیاسی مفاہمت کا حصہ تھا۔

اپنی حمایت کے بدلے انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں نے ایک ایسے قانون کی حمایت کی جس کے ذریعے ملک کے اعلیٰ قانونی مشیر کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام حکومت کی عدالتی اصلاحات کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے اور اس سے حکومت کو قانونی تشریحات کو نظرانداز کرنے اور موجودہ اعلیٰ قانونی مشیر کو ہٹانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسی دوران ذرائع ابلاغ کی نگرانی سے متعلق قانون میں بھی تبدیلی کی گئی، جسے ناقدین نے حکومت کے اثر و رسوخ میں اضافے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ایک اور قانون کے ذریعے جامعات میں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ تعلیمی پروگراموں کی گنجائش بڑھا دی گئی، جس کی جامعات اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے مخالفت کی۔

دوسری جانب وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کے لیے تقریباً دو ارب چالیس کروڑ شیکل کی اضافی مالی معاونت کا اعلان کیا، جبکہ چونتیس نئی آبادکاریوں کو قانونی حیثیت بھی دے دی گئی۔ اس طرح موجودہ حکومت کے دور میں منظور کی جانے والی یہودی بستیوں کی مجموعی تعداد ایک سو چار ہو گئی۔

عوامی مخالفت اور سیاسی نتائج

عوامی رائے ان اقدامات کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔

جولائی میں کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق چھیاسٹھ فیصد اسرائیلی تورات کی تعلیم سے متعلق قانون کے مخالف ہیں، جبکہ اکسٹھ فیصد شہری چاہتے ہیں کہ آئندہ حکومت میں انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں کو شامل نہ کیا جائے۔

نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین نے بھی اس معاملے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کے نمایاں حریف گادی آئزن کوٹ نے اسے “ریاست کے بدلے سیاسی اتحاد کا غیر ذمہ دارانہ سودا” قرار دیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کے مطابق یہ اقدام فوجیوں اور عوام دونوں کی توہین کے مترادف ہے۔

نیتن یاہو کی سیاسی حکمتِ عملی

سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کو یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوامی ردِعمل کی شدت کم ہو جائے گی۔

حکمران جماعت کے ایک باخبر ذریعے کے مطابق عوام کی سیاسی یادداشت زیادہ طویل نہیں ہوتی اور حکومت کے لیے اپنے اتحادی اتحاد کو برقرار رکھنا کسی ایک غیر مقبول قانون سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

ذریعے کے مطابق اگر عدالت ان قوانین میں مداخلت بھی کرتی ہے تو اس سے نیتن یاہو کو زیادہ تشویش نہیں، کیونکہ عدالتی تنازع ان کی انتخابی مہم میں عدلیہ پر تنقید کے بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]