پاکستان نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں، بشمول اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد، پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان دونوں دفاعی انتظامات پر ان کی ’’روح اور مقصد‘‘ کے مطابق عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
ان کا یہ بیان سعودی عرب میں حالیہ حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا۔ ایک روز قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے راستے میں تباہ کر دیا گیا۔ تاہم حوثیوں نے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا تھا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ آیا پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی طریقۂ کار وضع کیا ہے، ترجمان نے دونوں دفاعی انتظامات پر اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم عملی نوعیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ کب، کہاں اور کس انداز میں طاقت استعمال کی جائے گی اور اس کے مقاصد کیا ہوں گے، یہ ایسے معاملات ہیں جن پر عملی رازداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
حوثیوں سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد طویل عرصے سے امن و استحکام کی حمایت کرتا آیا ہے، جو نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے مفاد میں ہے۔
سجاد حیدر خان نے باب المندب کی صورتحال کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے حوثیوں سے اپنی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بات چیت کا بنیادی محور جبر کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام کا قیام ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے
دفتر خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور متعدد وفاقی وزرا بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب میں اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیں گے۔
ان کے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور عالمی جنوب سے متعلق معاملات بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورتحال بھی اجاگر کریں گے۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کے علاوہ عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں کثیرالجہتی تعاون، اقوام متحدہ کے منشور، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے پاکستانی سکھ زائرین سے متعلق رپورٹس مسترد کر دیں
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان سے ان پاکستانی سکھ زائرین سے متعلق رپورٹس کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جنہیں گوردوارہ سری ہیم کنڈ صاحب میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بھارت جاتے ہوئے فیصل آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روکا گیا تھا۔
ترجمان نے ان رپورٹس کو بھارت کی جانب سے ’’بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم‘‘ قرار دیا اور اس دعوے کو مسترد کیا کہ زائرین کو محض پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
ان کے مطابق پاکستانی حکام کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے مذکورہ ویزے جاری کیے ہیں۔ یہ ویزے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی مقامات کے دوروں سے متعلق 1974 کے دوطرفہ پروٹوکول کے تحت بھی نہیں آتے تھے اور کسی باہمی رابطے کے بغیر جاری کیے گئے تھے۔
ترجمان نے بھارت کے ویزا نظام کو انتہائی محدود قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ زائرین کے خیرمقدم کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مختلف مذہبی مواقع پر جاری کیے گئے ویزوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعدادوشمار پاکستان کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں بھارتی سکھ زائرین کو ان کے اپنے ملک کی جانب سے پاکستان آنے سے روکا گیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کرتارپور راہداری کے ذریعے سکھ زائرین کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے، جب بھی بھارت انہیں سفر کی اجازت دے، کیونکہ راہداری پاکستان کی نہیں بلکہ بھارتی جانب سے بند ہے۔
بھارت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت اور پاک چین سرحدی طریقۂ کار پر پاکستان کا ردعمل
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بھارت کے ناظم الامور نے شنگھائی تعاون تنظیم کے متعلقہ حکام کی سرحدی خدمات کے سربراہان کے 12ویں اجلاس میں شرکت کی۔
سجاد حیدر خان نے امید ظاہر کی کہ بھارت کی ایسی شرکت جاری رہے گی، کیونکہ امن، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے مشترکہ چیلنجز ہیں۔
علاوہ ازیں، ترجمان نے پاکستان اور چین کی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے قائم مشترکہ طریقۂ کار اور مشترکہ سرحدی حد بندی کمیشن پر بھارتی اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ یہ کمیشن 2 مارچ 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
بھارت نے اس طریقۂ کار کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے، تاہم ترجمان نے کہا کہ 1963 کا معاہدہ بدستور قانونی اور مؤثر ہے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا ہمسایہ اور ’’ہر موسم کا تزویراتی تعاون کا شراکت دار‘‘ قرار دیتے ہوئے نئی دہلی کے علاقائی دعوؤں کو مسترد کیا۔
ترجمان نے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں بھی بھارتی مؤقف پر تنقید کی اور کہا کہ نئی دہلی کو پاک چین سرحدی انتظام کے خلاف علاقائی دعوے پیش کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں اپنے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔









