پاکستان اور چین کے درمیان نیا تجارتی راستہ، زرعی برآمدات کے لیے وسیع منڈی تک رسائی

[post-views]
[post-views]

پاکستان کو چین کے شہر چینگدو سے ملانے والی نئی بحری و ریلوے تجارتی راہداری نے پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے جنوب مغربی چین تک رسائی کا تیز اور نسبتاً کم لاگت راستہ فراہم کر دیا ہے۔ اس نئے تجارتی راستے کے ذریعے ابتدائی طور پر پاکستانی خشک مرچیں چین پہنچائی جا رہی ہیں، تاہم مستقبل میں دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد کے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

چینگدو انٹرنیشنل ریلوے پورٹ اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈویلپمنٹ زون کی تعمیر و ترقی کی کمپنی میں تجارتی امور کے سربراہ لی جیارن کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف پاکستانی مرچیں چینگدو پہنچانا نہیں بلکہ جنوب مغربی چین کی منڈی کے لیے بین الاقوامی زرعی تجارت کا ایک نیا نظام تشکیل دینا ہے۔

خشک مرچوں کی تجارت اس منصوبے کے لیے ایک اہم نقطۂ آغاز ہے۔ 2025 میں چین نے تقریباً چار لاکھ میٹرک ٹن خشک مرچیں درآمد کیں، جن کے بڑے فراہم کنندگان میں پاکستان، بھارت اور میانمار شامل تھے۔ سیچوان اور چونگ چھنگ میں گرم اور مصالحے دار کھانوں کی مقبولیت اور خوراک و مشروبات کی بڑی صنعت کے باعث مرچوں کی طلب خاص طور پر زیادہ ہے۔

روایتی طور پر جنوب مغربی چین کے لیے درآمد کی جانے والی مرچوں کا بڑا حصہ پہلے شمالی اور وسطی چین کے تقسیم کاری مراکز تک پہنچایا جاتا تھا۔ وہاں سے سامان کو دوبارہ اتارنے، ذخیرہ کرنے اور مختلف علاقوں میں تقسیم کرنے کے متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوتا تھا۔

نئی راہداری اس عمل کو زیادہ براہ راست بنا رہی ہے۔ پاکستانی مرچیں بحری راستے سے چین کے علاقے گوانگشی میں واقع چِن ژو بندرگاہ پہنچتی ہیں، جہاں کسٹم کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ریل کے ذریعے چینگدو کے علاقے چِنگ بائی جیانگ منتقل کیا جاتا ہے۔

چنگ ڈاؤ کے ذریعے استعمال ہونے والے روایتی راستے کے مقابلے میں نئی راہداری سے ترسیل کا وقت تقریباً سات سے 10 دن کم ہوسکتا ہے، جبکہ فی میٹرک ٹن نقل و حمل کی لاگت میں تقریباً ایک ہزار یوآن کی بچت متوقع ہے۔

وقت اور اخراجات میں یہ کمی پاکستان سے چِن ژو تک نسبتاً مختصر بحری سفر اور چین پہنچنے کے بعد سامان کی منتقلی کے مراحل کم ہونے کے باعث ممکن ہوئی ہے۔

تاہم منصوبے کی اہمیت صرف نقل و حمل تک محدود نہیں۔ چِنگ بائی جیانگ میں زرعی تجارت کے لیے ضروری رسد کا بنیادی ڈھانچہ، بانڈڈ گودام اور درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے والی ذخیرہ گاہیں پہلے سے موجود ہیں۔ طویل مدت میں نقل و حمل، ذخیرہ کاری، تجارت، پراسیسنگ اور تقسیم کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ چینگدو کو غیر ملکی زرعی پیداوار اور جنوب مغربی چین کی منڈیوں کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز بنایا جاسکے۔

متعلقہ کمپنی پاکستانی خشک مرچوں کی تجارت کو بنیاد بنا کر جنوب مغربی چین کے لیے مرچوں کا ایک بڑا تقسیم کاری مرکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان سے آٹھ کنٹینروں میں 80 میٹرک ٹن سے زیادہ اعلیٰ معیار کی خشک مرچیں پہلے ہی چینگدو انٹرنیشنل ریلوے پورٹ پہنچ چکی ہیں۔ یہ کھیپ پہلے چِن ژو بندرگاہ پہنچی اور وہاں سے نئی بین الاقوامی زمینی و بحری تجارتی راہداری کے تحت ریل کے ذریعے چینگدو منتقل کی گئی۔

یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک زرعی تعاون کے منصوبے کے تحت چین پہنچنے والی پہلی کھیپ ہے۔

ابتدائی آٹھ کنٹینروں کے بعد پاکستان سے مزید 900 میٹرک ٹن سے زیادہ خشک مرچیں چین بھیجی جا رہی ہیں، جبکہ اس تجارتی سروس کو مستقبل میں مستقل بنیادوں پر چلانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

چینگدو انٹرنیشنل ریلوے پورٹ اپنے اہم جغرافیائی اور نقل و حمل کے روابط کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ یہ بندرگاہ نئی بین الاقوامی زمینی و بحری تجارتی راہداری اور چین یورپ مال بردار ریل سروس کے درمیان ایک اہم رابطے کی حیثیت رکھتی ہے اور سرحد پار نقل و حمل، بانڈڈ ذخیرہ کاری، تقسیم اور تجارت کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

لی جیارن کے مطابق چین میں اس وقت چنگ ڈاؤ، ہینان اور گوئی ژو میں مرچوں کے تین بڑے تقسیم کاری مراکز موجود ہیں۔ اس کے برعکس سیچوان اور چونگ چھنگ، مرچوں کی بڑی منڈیاں ہونے کے باوجود، اب تک کسی بڑے اور مخصوص تقسیم کاری مرکز سے محروم رہے ہیں۔

نئی راہداری کے ذریعے چین پہنچنے والی پاکستانی مرچیں خوراک سے وابستہ مختلف کاروباروں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں بڑے کیٹرنگ ادارے، مقامی ہاٹ پاٹ ریستوران اور مصالحہ جات تیار کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔

اس طرح یہ منصوبہ بتدریج ایک وسیع تر رسدی نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس میں بیرون ملک زرعی پیداوار سے لے کر سرحد پار نقل و حمل، علاقائی تقسیم، خوراک کی پراسیسنگ اور حتمی صارف تک تمام مراحل کو ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ نئی راہداری اپنی زرعی مصنوعات کو چینی منڈی تک پہنچانے کا ایک اضافی اور زیادہ براہ راست راستہ فراہم کرتی ہے، جبکہ جنوب مغربی چین کے لیے اس سے مرچوں، مصالحہ جات اور خوراک کی پراسیسنگ کی بڑھتی صنعتوں کو درآمدی زرعی مصنوعات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔

چینگدو میں پاکستانی خشک مرچوں کی آمد محض ایک نئے نقل و حمل کے راستے کا آغاز نہیں بلکہ اس امر کی مثال بھی ہے کہ بین الاقوامی راہداریاں کس طرح تجارت، زرعی تعاون اور صنعتی روابط کے مراکز میں تبدیل ہوسکتی ہیں اور پاکستانی زرعی پیداوار کو چین کی بڑی علاقائی منڈیوں سے براہ راست جوڑ سکتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]