پارلیمانی امور کے وزیر نے ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق بحث کو امن و امان کی صورتحال سے جوڑ دیا، صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی میں ناکافی تعاون کا الزام
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو کہا کہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق جاری غور و فکر کا تعلق صوبے کی سکیورٹی صورتحال سے ہے اور اسے پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مبینہ عدم تعاون سے منسلک کیا۔
لانگ مارچ اور ایمرجنسی الگ معاملات ہیں، وفاقی وزیر
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بات چیت میں سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی وفاقی حکومت سے کسی رعایت کا مطالبہ کرتی ہے تو اس پر آئینی اور قانونی دائرۂ کار کے اندر غور کیا جائے گا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت کا مبینہ عدم تعاون ایک الگ اور اہم مسئلہ ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے مجوزہ لانگ مارچ ملتوی کیے جانے سے خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی سے متعلق بحث خود بخود ختم نہیں ہوگی کیونکہ دونوں معاملات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب صوبائی حکومت کی توجہ بار بار مبذول کرانے کے بعد ایمرجنسی اقدامات پر غور شروع کیا گیا۔
خیبر پختونخوا حکومت پر عدم تعاون کا الزام
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت، انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ رابطہ کاری اور تعاون کی اس کمی کے نتیجے میں جانی نقصانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت وفاقی حکام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں عملی طور پر شریک ہے۔
اس کے برعکس انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے اقدامات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ الزامات صوبائی حکومت کے کردار کے بارے میں وفاقی وزیر کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
گورننس، جرائم اور اسمگلنگ کا معاملہ بھی اٹھا دیا
طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گورننس کی کمزوریوں نے دہشت گردی، جرائم اور اسمگلنگ کے درمیان روابط کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق ایسی صورتحال بالواسطہ طور پر دہشت گرد گروہوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں ان معاملات پر بھی بات ہوگی اور صوبائی حکمران جماعت کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کو مطلوبہ تعاون فراہم کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا پی ٹی آئی کی سیاسی اور وسیع تر ذمہ داری ہے۔
حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہوگا
خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومتی وزرا اور ترجمان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور کوئی بھی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاجی مارچ کے باعث سیاسی کشیدگی جاری ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور ممکنہ آئینی اقدامات پر بھی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔









