لاہور — پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے جمعہ کو ساہیوال کے نور شاہ تھانے میں ایک شہری سے مبینہ طور پر رشوت طلب کیے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔
وزیر قانون نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو ہدایت کی کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف، غیر جانب دار اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے بروقت کارروائی پر محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی ٹیم کو بھی سراہا اور کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بدعنوانی سے پاک پنجاب کے وژن پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیر قانون نے کہا، ’’سرکاری اداروں میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا شہریوں کے ساتھ ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
تحقیقات کو کسی دباؤ یا مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے رانا محمد اقبال خان نے نور شاہ تھانے کے ایس ایچ او اور متعلقہ محرر کو تحقیقات مکمل ہونے تک موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹانے کی ہدایت کی۔
وزیر قانون نے کہا کہ شہریوں کو فوری اور مساوی انصاف کی فراہمی پنجاب حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سرکاری اہلکار کو اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں کو ہراساں کرنے یا کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سرکاری محکموں سے بدعنوان عناصر کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اپنے عہدے یا اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔









