محمد زبیر، سرکاری افسر
ہم یہ یقین رکھنا پسند کرتے ہیں کہ ہمارے خیالات ہمارے اپنے ہیں۔ ہم انہیں اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں، جو ہماری عقل و شعور سے تشکیل پاتے ہیں اور ہمارے ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بہت سے خیالات ایسے ہیں جنہیں ہم نے خود تشکیل ہی نہیں دیا۔ یہ خیالات ہمیں خاندان، معاشرے، تعلیمی اداروں، مذہبی و سیاسی وابستگیوں اور اپنے عہد کی غالب ثقافت سے ملتے ہیں۔ ہم انہیں قبول کرتے ہیں، انہی کی روشنی میں دنیا کو دیکھنا شروع کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم شاذونادر ہی رک کر یہ سوال کرتے ہیں کہ جسے ہم آزاد فکر سمجھتے ہیں، کہیں وہ کسی دوسرے کے تشکیل دیے ہوئے فکری نظام کی پیداوار تو نہیں؟
جدید نفسیات میں اس مسئلے کی ایک صورت کو ذہن میں فوری دستیاب معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا تعصب کہا جاتا ہے۔ ہم اکثر دنیا کے بارے میں اپنی رائے زیادہ قابلِ اعتماد حقائق کے بجائے ان معلومات کی بنیاد پر قائم کرتے ہیں جو ہمارے ذہن میں آسانی سے آ جاتی ہیں۔ آج ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے ذرائع مسلسل اس رجحان کو تقویت دے رہے ہیں۔ جب کوئی خبر، خیال یا مخصوص بیانیہ بار بار ہمارے سامنے آتا ہے تو وہ ہماری سوچ پر غالب آنے لگتا ہے۔ ہم اسے حقیقت سے زیادہ اہم یا عام سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں ہمارے فیصلے محض عقل و استدلال کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ ان معلومات سے بھی تشکیل پاتے ہیں جو مسلسل ہمارے ذہنوں میں منتقل کی جاتی ہیں۔
افلاطون نے اپنے مشہور تمثیلی قصے، غار کی تمثیل، میں انسانی شعور کی اسی محدودیت کو بیان کیا تھا۔ ایک غار میں زنجیروں سے بندھے قیدی دیوار پر حرکت کرتے ہوئے سائے دیکھتے ہیں اور انہیں ہی حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان اشیا کو نہیں دیکھا ہوتا جن کے باعث یہ سائے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک دیوار پر نظر آنے والی دنیا ہی مکمل حقیقت ہوتی ہے۔ ہم بھی اپنے عہد کے ایک ایسے ہی غار میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جو حقیقت ہم تک پہنچتی ہے، اسے ہماری نظروں کے سامنے آنے سے پہلے ہی کسی مخصوص زاویے سے ترتیب دیا جا چکا ہوتا ہے۔
فرانسس بیکن نے انسانی ذہن کے تعصبات کو بتوں سے تعبیر کیا تھا۔ ان کے مطابق بعض غلط تصورات انسانی فطرت سے پیدا ہوتے ہیں، بعض ہماری تربیت سے، بعض زبان اور سماجی تعلقات سے، جبکہ بعض ہمارے زمانے میں رائج فکری نظاموں سے جنم لیتے ہیں۔ یہ ذہنی بت ہماری سمجھ بوجھ پر اس قدر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں کہ ہم چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم انہیں ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسا ہمارے پہلے سے قائم تصورات ہمیں دکھاتے ہیں۔
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ جب ہم کسی سیاسی رہنما سے وابستگی اختیار کر لیتے ہیں تو اس کے ہر فیصلے میں دانش مندی تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی مذہبی یا علمی شخصیت کو غیرمعمولی عقیدت کا مقام دے دیتے ہیں تو اس کے خیالات پر سوال اٹھانا ہمیں نامناسب محسوس ہونے لگتا ہے۔ دفتر میں کسی بااختیار شخصیت کی پسند اور ناپسند خاموشی سے ہماری سوچ کا رخ متعین کرنے لگتی ہے۔ دوستوں کی صحبت، خاندان کی توقعات اور معاشرتی قبولیت کی خواہش ہمارے فیصلوں پر اپنے اثرات چھوڑتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اکثر ان اثرات کو محسوس تک نہیں کرتے، لیکن انہی کے تحت اختیار کیے گئے مؤقف کے دفاع میں مسلسل دلائل پیش کرتے رہتے ہیں۔
یہی عمل تہذیبی سطح پر بھی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ دنیا کی غالب طاقتیں محض معاشی اور سیاسی غلبہ نہیں رکھتیں بلکہ ان کی زبان، علمی اصطلاحات، حسن کے معیارات اور ترقی کا تصور دوسری معاشرتوں کے ذہنوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بعض اوقات ہم کسی معقول وجہ کے بغیر اپنی تہذیب کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف، کبھی اس کے دفاع میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اس کی حقیقی خامیوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ہمارا فیصلہ آزادانہ غوروفکر کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ کسی بیرونی اثر کے جواب میں پیدا ہونے والا ردعمل ہوتا ہے۔
اس تمام بحث کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں سے متاثر ہونا بذاتِ خود کوئی خرابی ہے۔ ہم زبان، علم اور ثقافت دوسروں ہی سے سیکھتے ہیں۔ انسانی شعور کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اثرپذیری غیرشعوری اطاعت میں تبدیل ہو جائے، جب ہم کسی خیال کو محض اس لیے قبول کر لیں کہ وہ ہمارے گروہ، ہمارے رہنما یا ہمارے زمانے کی غالب رائے ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ بعض اوقات انسان کو اپنی ذہانت پر جتنا زیادہ اعتماد ہوتا ہے، وہ اپنے تعصبات کا اتنا ہی کم جائزہ لیتا ہے۔ وہ پہلے نتیجہ اخذ کرتا ہے اور بعد میں اس کے حق میں دلائل تلاش کرتا ہے۔ اس کی ذہانت پھر سچائی کی تلاش میں مصروف نہیں رہتی بلکہ پہلے سے قائم عقائد کے دفاع کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
شاید فکری آزادی کا مطلب ہر قسم کے اثر سے نجات حاصل کرنا نہیں، کیونکہ انسانی زندگی میں ایسا ممکن ہی نہیں۔ آزادی کا آغاز آگاہی سے ہوتا ہے۔ یہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم پہچاننے لگتے ہیں کہ کون سی قوتیں ہماری سوچ کو تشکیل دے رہی ہیں اور ہم کس حد تک ان سے اختلاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لہٰذا اپنے آپ سے اصل سوال پوچھیے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کی سوچ پر کس کا اثر ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا آپ یہ تسلیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ آپ کا سب سے عزیز اور مضبوط عقیدہ بھی غلط ہو سکتا ہے؟
جو ذہن اپنے یقین پر سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ خود کو آزاد تو سمجھ سکتا ہے، لیکن فکری آزادی کا حقیقی تجربہ کبھی نہیں کر سکتا۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، ملک بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر کتب فروش اداروں پر دستیاب ہیں۔
گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501









