اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا اسکینڈینیوین حل

[post-views]
[post-views]

تعلیمی امور کی سیکریٹری لنڈا میک موہن جب بھی ٹیلی وژن پر اس محکمے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں جسے ختم کرنے کا وہ عزم ظاہر کرچکی ہیں، تو ان کی گفتگو مزید الجھن پیدا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اتوار کے روز اسکولوں کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں بھی یہی صورتحال نظر آئی۔ یہ اسی عہدیدار کی بات ہے جنہوں نے ایک مرتبہ مصنوعی ذہانت کو غلطی سے ’’اے ون‘‘ کہہ دیا تھا، جو دراصل ایک مشہور اسٹیک ساس کا نام ہے۔

جب میزبان نے جماعت اول سے بارہویں تک کے کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں سوال کیا اور نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے کہ تعلیمی نتائج پر اس کے حقیقی اثرات کی پیمائش تقریباً ناممکن ہوتی جارہی ہے، تو انہوں نے براہِ راست پوچھا کہ کیا طلبہ چیٹ بوٹس کے تجربات کے لیے آزمائشی نمونے بننے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

اس پر میک موہن نے گزشتہ سال آسٹن میں قائم ایک نجی اسکول الفا اسکول کے دورے کا حوالہ دیا۔ یہ اسکول ایک مصنوعی ذہانت کے کاروباری شخص کی معاونت سے قائم کیا گیا تھا۔ یہاں طلبہ روزانہ دو گھنٹے انفرادی نوعیت کی، اسکرین پر مبنی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

میک موہن نے بتایا کہ طلبہ اسکول کے دن کے ابتدائی حصے میں ہیڈ فونز لگائے رکھتے ہیں اور کمپیوٹرز پر مختلف مضامین کا مواد پڑھتے ہیں، جبکہ اساتذہ ان کی پیش رفت کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس طریقۂ کار کا موازنہ ذاتی استاد کی سہولت سے کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ طریقہ ایک مناسب نمونہ ہوسکتا ہے تو میک موہن نے کہا کہ یہ ’’بہترین طریقے سے کام کررہا ہے‘‘ اور کئی برس سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے، اس لیے اس کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ دعویٰ کرنے سے گریز کیا کہ یہ طریقہ ہر جگہ کامیاب ہوسکتا ہے۔

میک موہن نے جس بات کا ذکر نہیں کیا وہ یہ ہے کہ الفا اسکول کے طریقۂ تعلیم اور اس کی کامیابی کے دعووں کی کبھی آزادانہ طور پر تصدیق یا سائنسی تحقیق نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ ایک نجی ادارے کی حیثیت سے اسکول کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن طلبہ کو داخلہ دیتا ہے۔

اسکول کے طلبہ جن تعلیمی ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان میں خان اکیڈمی بھی شامل ہے۔ تاہم اس ادارے کے بانی خود تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کے بارے میں اپنی سابقہ پرامید رائے میں نرمی لاچکے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے طلبہ کے لیے ادارے کے چیٹ بوٹ کا متعارف ہونا محض بے اعتنائی یا معمولی ردعمل کا باعث بنا۔

گزشتہ اکتوبر میں سامنے آنے والی رپورٹس میں الفا اسکول کے ایک دوسرے کیمپس سے بچوں کو واپس لینے والے خاندانوں کے بیانات بھی شامل تھے۔ بعض خاندانوں نے تعلیمی سال کے دوران ہی اپنے بچوں کو اسکول سے نکال لیا، کیونکہ انہیں وہاں کا تعلیمی اور سماجی تجربہ انتہائی غیر تسلی بخش محسوس ہوا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]