افغانستان پر امریکی پالیسی: ماضی کی ایک متروک یادگار

[post-views]
[post-views]

کابل کی ایک سرد دوپہر کو آٹو ریپیئر کی دکان کا ایک معمولی سا واقعہ آج کے افغانستان کی حقیقت کو بہترین انداز میں بیان کرتا ہے۔ ایک درمیانی عمر کا مکینک، جو ماضی میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کے لیے طالبان کے خلاف خطرناک ترین جنگیں لڑ چکا ہے، اب ایک طالبان اہلکار کی گاڑی ٹھیک کر رہا ہے۔ پانچ سال پہلے جو دو افراد ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے، آج بغیر کسی معاندانہ رویے کے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بظاہر معمولی واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے اور عام افغان اب آپس میں مل جل کر رہنے اور زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ تاہم، مغربی اور امریکی پالیسی اس بدلی ہوئی حقیقت کا ساتھ دینے میں ناکام رہی ہے۔

اس صورتِ حال سے جڑے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:

  • جمود کا شکار امریکی پالیسی: ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء کو کابل کے سقوط کے پانچ سال بعد بھی مغرب کی پالیسیاں پرانی اور غیر عملی سوچ پر قائم ہیں۔
  • معاشی پابندیاں اور عوام کا نقصان: امریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں اور بینکنگ سسٹمز پر پابندیاں عائد ہیں۔ ۲۰۲۵ء سے امریکی امداد مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کا نقصان طالبان کے بجائے مہنگائی اور معاشی بحران سے جوجھنے والے عام افغان شہریوں کو ہو رہا ہے۔
  • حقیقت اور پالیسی میں تضاد: اگرچہ حقوق بالخصوص خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں سے متعلق تحفظات موجود ہیں، لیکن یہ سوچ کہ معاشی طور پر الگ تھلگ رکھنے سے طالبان پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، افغان عوام کی روزمرہ کی زندگی سے مکمل طور پر غیر مربوط معلوم ہوتی ہے۔

شہر کے مکینکس اور عام شہری جنگ کی خندقوں سے باہر نکل چکے ہیں، لیکن واشنگٹن میں پالیسی ساز ابھی تک ۵ سال پرانی جنگی سوچ کے اسیر ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]