نعیم افضل
سب سے پہلے، ہمارے شہر منصوبہ بندی کے مطابق تعمیر نہیں کیے گئے بلکہ بے ہنگم انداز میں پھیلتے چلے گئے ہیں۔ کم آبادی وسیع رقبوں پر بکھری ہوئی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو روزانہ روزگار کے لیے تیس سے چالیس کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ شہری منصوبہ بندی اور زمین کے منظم استعمال کو دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ جہاں دفتری عمارتیں، تجارتی مراکز اور کاروباری مقامات قائم ہونے چاہیے تھے، وہاں موٹر سائیکلوں کی ورکشاپیں قائم کر دی گئیں۔ شہروں کی سب سے قیمتی زمین سرکاری دفاتر کے قبضے میں ہے، کیونکہ سرکاری اہلکار وسیع رقبے پر پھیلے بڑے گھروں کے دلدادہ ہیں۔ انہیں بلند و بالا رہائشی عمارتیں پسند نہیں۔ ہماری معاشرتی سوچ بھی یہی ہے کہ الگ خاندانی مکان کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ فلیٹوں میں رہائش کو ناپسند کیا جاتا ہے۔
دوسرا، ملک کے صرف دو یا تین بڑے شہروں کو چھوڑ کر معیاری عوامی نقل و حمل کا نظام موجود نہیں۔ ہمارے سرمایہ کار بیکریوں اور ادویات کی دکانوں میں سرمایہ لگاتے ہیں، مگر نقل و حمل، تفریح اور دیگر پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ رکشوں جیسے غیر معیاری ذرائع آمدورفت نہ صرف زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں بلکہ شور اور فضائی آلودگی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
تیسرا، ہمارے شہروں میں پیدل چلنے کا تصور تقریباً ناپید ہے۔ معاشیات کا بنیادی اصول ہے کہ قیمتیں لوگوں کے رویے بدل دیتی ہیں۔ جب گاڑی چلانا مہنگا اور سائیکل یا پیدل چلنا آسان بنایا جائے، مثلاً پارکنگ فیس، ہجوم فیس اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے، تو لوگ گاڑیوں کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے شہروں میں پارکنگ تقریباً مفت ہے۔ آپ سارا دن گاڑی چلا سکتے ہیں، ایندھن جلا سکتے ہیں، ماحول آلودہ کر سکتے ہیں اور معمولی لاگت پر کہیں بھی گاڑی کھڑی کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں شہر ترقی اور معاشی نمو کے انجن سمجھے جاتے ہیں، مگر ہمارے شہر جمود کا شکار ہیں۔ زمین کے استعمال سے متعلق قوانین آج بھی نوآبادیاتی دور کی سوچ کے اسیر ہیں۔ ہمارے ہاں بلند عمارتیں، کثیر المنزلہ رہائشی منصوبے اور گنجان شہری آبادیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟
ذرا ایک نوجوان کی مثال لیجیے جس نے ابھی تعلیم مکمل کی ہے اور محدود وسائل کے ساتھ کسی شہر میں رہنا چاہتا ہے۔ اگر مناسب شہری منصوبہ بندی ہوتی تو وہ صرف بیس سے تیس لاکھ روپے میں ایک فلیٹ خرید سکتا تھا، جبکہ ایک خاندان غیر ضروری جائیداد کے دلالوں سے بچتے ہوئے طویل مدت کے لیے کرائے پر رہائش حاصل کر سکتا تھا۔ لندن میں سرکاری رہائشی منصوبے مہنگے رہائشی علاقوں کے ساتھ ہی موجود ہیں، جو متوازن شہری ترقی کی مثال ہیں۔
لیکن پاکستان میں ایسا ممکن نہیں، کیونکہ طاقتور سرکاری طبقہ بلند عمارتوں کے حق میں نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ شہروں کی قیمتی زمین پر واقع ان کے وسیع گھروں پر نظر ڈال سکیں۔ انہیں گالف کے میدان، وسیع پارک، بڑی سبزہ زاریں اور آرام دہ شاہراہیں درکار ہیں تاکہ وہ آسانی سے اپنی گاڑیاں چلا سکیں۔ جب تک ہم اپنے شہروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو منظم نہیں کریں گے، معاشی ترقی محض ایک خواب ہی بنی رہے گی۔جہاں دفتری عمارتیں، تجارتی مراکز اور کاروباری مقامات قائم ہونے چاہیے تھے، وہاں موٹر سائیکلوں کی ورکشاپیں قائم کر دی گئیں۔ شہروں کی سب سے قیمتی زمین سرکاری دفاتر کے قبضے میں ہے، کیونکہ سرکاری اہلکار وسیع رقبے پر پھیلے بڑے گھروں کے دلدادہ ہیں۔ انہیں بلند و بالا رہائشی عمارتیں پسند نہیں۔ ہماری معاشرتی سوچ بھی یہی ہے کہ الگ خاندانی مکان کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ فلیٹوں میں رہائش کو ناپسند کیا جاتا ہے۔
دوسرا، ملک کے صرف دو یا تین بڑے شہروں کو چھوڑ کر معیاری عوامی نقل و حمل کا نظام موجود نہیں۔ ہمارے سرمایہ کار بیکریوں اور ادویات کی دکانوں میں سرمایہ لگاتے ہیں، مگر نقل و حمل، تفریح اور دیگر پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ رکشوں جیسے غیر معیاری ذرائع آمدورفت نہ صرف زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں بلکہ شور اور فضائی آلودگی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
تیسرا، ہمارے شہروں میں پیدل چلنے کا تصور تقریباً ناپید ہے۔ معاشیات کا بنیادی اصول ہے کہ قیمتیں لوگوں کے رویے بدل دیتی ہیں۔ جب گاڑی چلانا مہنگا اور سائیکل یا پیدل چلنا آسان بنایا جائے، مثلاً پارکنگ فیس، ہجوم فیس اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے، تو لوگ گاڑیوں کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے شہروں میں پارکنگ تقریباً مفت ہے۔ آپ سارا دن گاڑی چلا سکتے ہیں، ایندھن جلا سکتے ہیں، ماحول آلودہ کر سکتے ہیں اور معمولی لاگت پر کہیں بھی گاڑی کھڑی کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں شہر ترقی اور معاشی نمو کے انجن سمجھے جاتے ہیں، مگر ہمارے شہر جمود کا شکار ہیں۔ زمین کے استعمال سے متعلق قوانین آج بھی نوآبادیاتی دور کی سوچ کے اسیر ہیں۔ ہمارے ہاں بلند عمارتیں، کثیر المنزلہ رہائشی منصوبے اور گنجان شہری آبادیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟
ذرا ایک نوجوان کی مثال لیجیے جس نے ابھی تعلیم مکمل کی ہے اور محدود وسائل کے ساتھ کسی شہر میں رہنا چاہتا ہے۔ اگر مناسب شہری منصوبہ بندی ہوتی تو وہ صرف بیس سے تیس لاکھ روپے میں ایک فلیٹ خرید سکتا تھا، جبکہ ایک خاندان غیر ضروری جائیداد کے دلالوں سے بچتے ہوئے طویل مدت کے لیے کرائے پر رہائش حاصل کر سکتا تھا۔ لندن میں سرکاری رہائشی منصوبے مہنگے رہائشی علاقوں کے ساتھ ہی موجود ہیں، جو متوازن شہری ترقی کی مثال ہیں۔
لیکن پاکستان میں ایسا ممکن نہیں، کیونکہ طاقتور سرکاری طبقہ بلند عمارتوں کے حق میں نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ شہروں کی قیمتی زمین پر واقع ان کے وسیع گھروں پر نظر ڈال سکیں۔ انہیں گالف کے میدان، وسیع پارک، بڑی سبزہ زاریں اور آرام دہ شاہراہیں درکار ہیں تاکہ وہ آسانی سے اپنی گاڑیاں چلا سکیں۔ جب تک ہم اپنے شہروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو منظم نہیں کریں گے، معاشی ترقی محض ایک خواب ہی بنی رہے گی۔









