امریکی جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک جدید ترین تحقیقاتی رپورٹ نے کائنات کے سب سے پراسرار عنصر “تاریک مادے” (ڈارک میٹر) کی تلاش کے حوالے سے پچھلی تمام مفروضاتی حدود کو چیلنج کر دیا ہے। نئی تحقیق کے مطابق، اگر تاریک مادہ “تاریک فوٹونز” (Dark Photons) پر مشتمل ہے، تو اس نے ابتدائی کائنات کو اس طرح گرم نہیں کیا ہوگا جیسا کہ سائنسدان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے فرض کرتے آ رہے تھے।
مسئلے کا پسِ منظر
کائنات میں عام مادے (ستارے، سیارے اور انسان) کے مقابلے میں تاریک مادہ پانچ گنا زیادہ مقدار میں موجود ہے، لیکن روشنی یا برقی مقناطیسی شعاعوں کے ساتھ تعامل (Interaction) نہ کرنے کی وجہ سے اسے براہِ راست دیکھنا یا تلاش کرنا ناممکن رہا ہے。 فزکس دان ایک عرصے سے ایسے نادیدہ ذرات کی تلاش میں ہیں جو اس پراسرار مادے کی وضاحت کر سکیں۔ ان میں سے ایک اہم فرض کردہ ذرہ “تاریک فوٹون” ہے، جو عام فوٹون کی طرح برقی مقناطیسیت کے بجائے ایک الگ نادیدہ قوت کا حامل ہوتا ہے。
سابقہ مفروضہ اور نیا تحققیاتی موڑ
گزشتہ ۱۵ سالوں سے قائم ماڈلز کے مطابق یہ سمجھا جاتا تھا کہ ابتدائی کائنات کے انتہائی گرم اور گنجان پلازما میں تاریک فوٹونز عام فوٹونز میں تبدیل ہوتے رہے، جس نے کائنات کی حرارت میں مزید اضافہ کیا ہوگا۔ اس مفروضے کے تحت سائنسدانوں نے تاریک فوٹونز کی موجودگی کے امکانات کو تقریباً رد کر دیا تھا۔
تاہم، مشی گن اور پیرامیٹر انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی جدید کمپیوٹر شبیہ سازی (Simulations) نے یہ ثابت کیا ہے کہ:
- خطی ماڈل (Linear Model) کی غلطی: ماضی میں اس تبدیلی کے عمل کو ایک مسلسل اور یکساں عمل سمجھا گیا، جو کہ ایک غلط تخمینہ تھا۔
- غیر خطی ردِعمل (Non-linear Dynamics): تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب توانائی کی معمولی مقدار بھی عام پلازما میں منتقل ہوتی ہے، تو کائنات کا ابتدائی پلازما انتہائی شدید ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔
- خودکار رکاوٹ: یہ غیر خطی عمل مزید توانائی منتقل ہونے سے پہلے ہی اس تبدیلی کو خود بخود روک دیتا ہے، جس کی وجہ سے کائنات میں ماضی کے مفروضوں کے برعکس اضافی حرارت پیدا نہیں ہوئی۔
تحقیق کی اہمیت
اس نئی دریافت نے تاریک مادے کی تلاش کے لیے ان تمام بند راستوں کو دوبارہ کھول دیا ہے جنہیں ماضی میں ناممکن سمجھ کر چھوُڑ دیا گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کائنات کے ابتدائی پلازما کے درست حساب کتاب سے اب تجربہ گاہوں میں تاریک مادے اور دیگر نادیدہ ذرات کا پتہ لگانا پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو جائے گا۔








