بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ترکیہ جلد پاکستانی سمندری حدود میں زیرِ آب کھدائی شروع کرے گا: وزیرِ پٹرولیم

[post-views]
[post-views]

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ ترکیہ کی سرکاری توانائی کمپنی ترکش پیٹرولیم جلد پاکستان کی سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے زیرِ آب کھدائی کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت توانائی کے شعبے میں نمایاں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ پٹرولیم نے پاکستان کو درپیش توانائی کے بڑے چیلنجز کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، جبکہ ملک میں خام تیل کی پیداوار تقریباً 70 ہزار بیرل یومیہ ہے اور روزانہ ضرورت تقریباً 5 لاکھ بیرل ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے ملک میں تیل اور گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک معروف بین الاقوامی کمپنی کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ منصوبہ آئندہ چند ماہ میں قومی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

وزیرِ پٹرولیم نے دعویٰ کیا کہ گردشی قرضے میں اضافے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے اور سابق حکومتوں سے ورثے میں ملنے والی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مائع پٹرولیم گیس کی خریداری کے لیے بولیاں پیر کو کھولی جائیں گی جبکہ صارفین کو گیس کے نئے کنکشن فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے جا چکے ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کے بعد اب پائیدار معاشی ترقی کو اپنی اگلی بڑی ترجیح بنانا ہے۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو قومی فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں سلامتی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیہ کی تکنیکی ترقی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں مل کر خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

وزیر نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں اور اب توجہ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے پر مرکوز ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہیں اور خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی اور بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]