خیبر پختونخوا کو پن بجلی کے صافی منافع سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے: معاونِ مالیات

[post-views]
[post-views]

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مالیات مزمل اسلم نے بدھ کے روز کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ملک کی کل پن بجلی کی پیداوار کا ستر فیصد پیدا کرتا ہے، جبکہ پنجاب کا حصہ صرف تیس فیصد ہے، اس کے باوجود وفاقی حکومت نے گزشتہ تین سالوں کے دوران پن بجلی کے صافی منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کو صرف 71.5 ارب روپے ادا کیے، جبکہ پنجاب کو 177.7 ارب روپے دیے۔

ایک بیان میں مزمل اسلم نے بتایا کہ سال 2024 سے 2026 کے درمیان پنجاب کو خیبر پختونخوا کی بنسبت 106.2 ارب روپے زیادہ موصول ہوئے، باوجود اس کے کہ بجلی کی پیداوار میں خیبر پختونخوا کا حصہ کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی اور وفاقی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 161(2) کی نفی کے باعث خیبر پختونخوا گزشتہ تین سالوں سے پن بجلی کے صافی منافع کے اپنے آئینی حق سے محروم چلا آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کے باعث بین الصوبائی سطح پر گندم کی نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں، جس سے خیبر پختونخوا اور ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال گندم کی قیمتوں میں پچاسی فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزمل اسلم نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کسی بھی پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والا صافی منافع اس صوبے کا بنیادی حق ہے جہاں وہ بجلی گھر واقع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو صوبہ ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات برداشت کرتا ہے وہ آئینی طور پر اس منافع کا مکمل حقدار ہے۔

ان کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران خیبر پختونخوا کے بارہ پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 61.2 ارب یونٹ بجلی پیدا کی، جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب کے پن بجلی گھروں نے اسی عرصے میں صرف 23.5 ارب یونٹ بجلی پیدا کی۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے پنجاب کو اسی مد میں 106.2 ارب روپے اضافے کے ساتھ ادا کیے اور خیبر پختونخوا کو اس کے قانونی اور آئینی حق سے محروم رکھا۔ ان کا کہنا تھا: “یہ صورتحال وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور پنجاب حکومت کی طرف واضح جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔”

مزمل اسلم نے کہا کہ اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اضافی وسائل پنجاب حکومت کی مضبوطی کے لیے منتقل کر رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کا سامنا ہے۔ وفاقی وسائل کی اس غیر مساوی تقسیم سے خیبر پختونخوا کے عوام میں احساسِ محرومی اور ناانصافی بڑھ رہی ہے اور ان کے معاشی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت کا واضح مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو اس کا جائزہ آئینی حق فوری طور پر دیا جائے اور پن بجلی کے صافی منافع کے بقایا 106.2 ارب روپے بغیر کسی تاخیر کے جاری کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھا جائے تاکہ وسائل کی آئینی و منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور خیبر پختونخوا کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]