نئے صوبوں پر بحث میں آٹھ ماہ تک لگ سکتے ہیں، رانا ثناء اللہ

[post-views]
[post-views]

لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس معاملے کو پارلیمان اور اس کی کمیٹیوں کے مختلف مراحل سے گزرنے میں چھ سے آٹھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن نے اس تجویز کا آغاز نہیں کیا۔

اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز پارلیمان میں پیش کی جاتی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کو اس پر اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا۔ بعد ازاں معاملہ تفصیلی غور کے لیے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبوں کی تقسیم سے متعلق کوئی تجویز پارلیمان میں آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے۔ ان کے مطابق اس بحث کے نتیجے میں نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی تجاویز سامنے آ سکتی ہیں یا معاملہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اتنی اہم آئینی اور سیاسی تبدیلی سے متعلق بحث کا آغاز ایک اقتصادی فورم پر کیوں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے آئینی اور سیاسی اثرات رکھنے والے منصوبے کے آغاز کے لیے اقتصادی فورم مناسب پلیٹ فارم نہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس تجویز کے حامیوں نے ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کے بعض رہنماؤں سے بات چیت کی ہو، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ منصوبہ خود مسلم لیگ ن نے شروع کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ محض اس بنیاد پر کسی تجویز کی مخالفت بھی نہیں کی جانی چاہیے کہ اس کا آغاز کسی دوسرے حلقے نے کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کی تقسیم کے حق میں مسلم لیگ ن کے اندر سے اب تک کوئی بڑی تجویز سامنے نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت نے ابھی اس معاملے کو باضابطہ طور پر اختیار نہیں کیا۔

بہاولپور ڈویژن کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بہاولپور کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے میں شامل کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق جماعت کے اندر اس معاملے پر مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض رہنما الگ بہاولپور صوبے کے حامی ہیں، جبکہ کچھ چاہتے ہیں کہ یہ خطہ بدستور لاہور کے ساتھ انتظامی طور پر منسلک رہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم سے متعلق بحث سے پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچا ہے کیونکہ اس معاملے پر اس کے کارکنوں میں جذباتی وابستگی پیدا ہوئی ہے۔

متنازع نہری منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے ابتدا میں اس کی تعمیر کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں پیپلز پارٹی نے اس منصوبے کے خلاف عوامی سطح پر مہم چلائی، جس کے نتیجے میں بالآخر منصوبہ روک دیا گیا۔

تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے ساتھ مبینہ پس پردہ رابطوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ایسے رابطے ہو رہے ہوں، تاہم اس راستے کو اختیار کرنے کی ایک سیاسی قیمت ہے اور جو بھی یہ راستہ اختیار کرے گا اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ سے متعلق اختلافات کی اطلاعات پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر سے وفاقی کابینہ یا سینیٹ میں ان کے موقف کی وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر ان کی موجودگی میں تقریباً ہر دوسرے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ دعویٰ سمجھ نہیں آتا کہ ان کی وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوئی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بعض سیاسی اور حکومتی معاملات داخلی غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر معاملے کو عوامی سطح پر زیر بحث لایا جائے۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے چیف وہپ رانا محمد ارشد، مسلم لیگ ن کے رہنما زبیر گل، رانا عمران، غلام مصطفیٰ اور ڈاکٹر سعید الٰہی کے علاوہ متعدد سینئر صحافی بھی شریک تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]