وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ زیرِ بحث ۱۰ ارب ڈالر کا فنڈ کوئی قرضہ یا کریڈٹ لائن نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد عالمی کیپیٹل مارکیٹ سے طویل المدتی قرضے حاصل کر کے موجودہ دوطرفہ قرضوں کا متبادل تلاش کرنا ہے۔ اس تسہیل کے ذریعے روپئے اور تبادلے کی شرح کو استحکام ملے گا جس سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ پاکستان نے امریکی وزارتِ خزانہ سے ستمبر کے آخر تک ردِعمل کی امید ظاہر کی ہے جبکہ متوازی طور پر امریکی ایگزِم بینک اور ڈی ایف سی سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔
پاکستان پر اس وقت سعودی عرب، چین اور کویت کا ۱۲.۳ ارب ڈالر کا قلیل المدتی قرضہ واجب الادا ہے، جسے ہر سال رول اوور کروانا پڑتا ہے۔ حکومت اب دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کر کے مارکیٹ پر مبنی ۵، ۷ اور ۱۰ سالہ بانڈز (یوروبانڈ، صکوک اور ڈالر سمیٹا روپیہ بانڈ) جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ خزانہ نے تاجروں کے لیے ایک آسان ٹیکس اسکیم کا بھی افتتاح کیا ہے، جس کے تحت سالانہ ۲۰ کروڑ روپے تک کی سیلز والے تاجر صرف ۱ فیصد ٹیکس یا کم از کم ۲۵,۰۰۰ روپے سالانہ ادا کر کے آڈٹ اور دیگر شرائط سے استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔
عنوان (مختصر): امریکہ سے ۱۰ ارب ڈالر کی سہولت قرض نہیں بلکہ مارکیٹ رسائی کے لیے ہے: محمد اورنگزیب









