پاکستان میں اصلاحات کی بحث عموماً بدعنوانی، کمزور اداروں، سیاسی عدم استحکام، سول ملٹری عدم توازن اور ناقص حکمرانی کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سب سنگین مسائل ہیں، لیکن ان کے نیچے ایک زیادہ بنیادی بحران موجود ہے: ایسا تعلیمی نظام جو آزاد، تنقیدی اور سائنسی ذہن پیدا کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ جو معاشرہ بچوں کو سوال اٹھانے کے بجائے جواب یاد کرنا سکھائے، اس کے لیے علم، اختراع اور مؤثر ادارے پیدا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مسئلہ صرف خراب سکولوں، اساتذہ کی ناکافی تربیت یا محدود تحقیق کا نہیں بلکہ ہماری فکری ثقافت کا بھی ہے۔ سائنس اس اعتراف سے آگے بڑھتی ہے کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو ہم نہیں جانتے۔ اسی لاعلمی سے سوال پیدا ہوتے ہیں، سوال تحقیق کو جنم دیتے ہیں اور تحقیق نئے علم تک پہنچاتی ہے۔ جب طالب علم کو پہلے سے طے شدہ جواب دے کر اس کی تصدیق تلاش کرنے کی تربیت دی جائے تو تحقیق کی جگہ توجیہہ اور تجسس کی جگہ یقین لے لیتا ہے۔
پاکستان کو علم کے مختلف شعبوں کی حدود واضح کرنا ہوں گی۔ دینی تعلیم اپنی مناسب جگہ رکھ سکتی ہے، لیکن طبیعیات کو طبیعیات کے اصولوں، حیاتیات کو حیاتیاتی شواہد، تاریخ کو تاریخی تحقیق اور طب کو طبی تحقیق کے مطابق پڑھایا جانا چاہیے۔ ہر علمی شعبے میں دلیل، ثبوت اور اس کا مخصوص طریقۂ تحقیق بنیادی معیار ہونا چاہیے۔
حقیقی اصلاح کا آغاز کلاس روم سے ہونا چاہیے۔ امتحانات کو رٹنے کے بجائے استدلال، تجزیے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت جانچنی چاہیے۔ اساتذہ کو سوال کی حوصلہ افزائی اور اختلاف برداشت کرنے کی تربیت دی جائے۔ سائنس کو کتاب سے تجربہ گاہ تک لایا جائے، جبکہ جامعات کی کامیابی کا معیار ڈگریوں یا تحقیقی مقالات کی تعداد نہیں بلکہ تحقیق اور نئے علم کا معیار ہونا چاہیے۔
یہ تبدیلی ایک نسل کا وقت لے سکتی ہے، لیکن اس کی ضرورت صرف سائنس کو نہیں، جمہوریت کو بھی ہے۔ جو شہری ثبوت پر سوال کرنا سیکھتا ہے، وہ اقتدار سے سوال کرنے، پروپیگنڈے کو پہچاننے اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت آگے بڑھے گا جب اس کے نوجوان یہ پوچھنا چھوڑ دیں گے کہ ”یہ بات پہلے کہاں لکھی ہوئی تھی؟“ اور یہ پوچھنا شروع کریں گے کہ ”اگلی دریافت ہم خود کیسے کریں؟“









