اختلافات برقرار، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں تعلقات بہتر بنانے کی کوشش

[post-views]
[post-views]

لاہور: کئی ماہ سے جاری کشیدہ تعلقات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اختلافات دور کرنے کے لیے ایک بار پھر کوششیں شروع کردی ہیں۔ دونوں اتحادی جماعتوں کی رابطہ کمیٹیوں کا اجلاس ہفتے کے روز ہوا جس میں باہمی مسائل اور تحفظات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی حمایت سے مسلم لیگ ن کی قیادت میں وفاقی حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے، اس لیے حکمران اتحاد کے استحکام کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون اہم ہے۔

اجلاس سے واقف افراد کے مطابق بات چیت مکمل طور پر خوشگوار نہیں رہی۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سخت انتخابی مہمات کے دوران دونوں جماعتوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے وفد میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، حسن مرتضیٰ، قمر زمان کائرہ اور علی قاسم گیلانی شامل تھے۔ مسلم لیگ ن کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور خواجہ سعد رفیق نے کی۔

پیپلز پارٹی نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ اتحادی جماعت ہونے کے باعث اسے حکومت کی مختلف شعبوں میں ناکامیوں کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پارٹی نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں، زرعی بحران، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے مؤقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی اتحادی جماعت کے بجائے حزب اختلاف کا کردار ادا کررہی ہے اور عوامی مسائل کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کررہی ہے، حالانکہ وہ جانتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی جیسے بعض معاملات پر حکومت کا مکمل اختیار نہیں۔

اجلاس کے ایک شریک کے مطابق بعض مواقع پر بحث میں شدت بھی آئی، تاہم بعد میں ماحول معمول پر آگیا۔ دونوں جماعتوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ سیاسی نظام کے اہم ضامن ہونے کی وجہ سے ان کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے پولیس سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے مسلم لیگ ن نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم کو بھی اجلاس میں مدعو کیا۔ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو ترقیاتی منصوبوں میں اس کا طے شدہ حصہ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

پیپلز پارٹی نے جواباً کہا کہ اس نوعیت کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

اجلاس کے شریک کے مطابق کئی ماہ کے سیاسی اختلافات کے باعث پیدا ہونے والا عدم اعتماد ایک ملاقات میں ختم ہونا مشکل ہے اور اس کے لیے مزید مذاکرات اور اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم دونوں جماعتوں نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، رابطہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے اور حکمرانی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں فریقوں نے مشاورت کا عمل جاری رکھنے اور اتحادی معاملات سے متعلق اختلافات کو باہمی افہام و تفہیم اور قومی مفاد میں حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات خاص طور پر کشیدہ ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف عوامی سطح پر بیانات بھی سامنے آئے تھے۔

حال ہی میں پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پیپلز پارٹی اس سے قبل مؤقف اختیار کرچکی ہے کہ کسی بھی نئی وفاقی اکائی کا قیام آئین میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرائی جس میں پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کی مزید تقسیم کی مخالفت کی گئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]