نیپال میں تباہ کن سیلاب نے پورے ہمالیائی خطے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے، جہاں آٹھ ممالک میں ہزاروں گلیشیئر پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نگرانی، زیادہ علاقائی تعاون اور مؤثر پیشگی انتباہی نظام ایسے سانحات سے لاکھوں افراد کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ خطرہ صرف نیپال تک محدود نہیں۔
درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث ہمالیہ کے وسیع علاقوں میں گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، جبکہ طویل عرصے سے منجمد زمین بھی پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں متعدد قدرتی خطرات کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جن میں زمین کھسکنے کے واقعات، برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور تیزی سے بپھرنے والے دریا شامل ہیں جو پوری آبادیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صورتحال کی سنگینی تین ہفتے قبل ایک گلیشیئر کے تباہ کن انداز میں ٹوٹنے کے بعد مزید بڑھ گئی۔ اس واقعے کے نتیجے میں نیپال اور چین میں اچانک شدید سیلاب آیا، جس سے 8 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے۔
اس سانحے کے بعد سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین نے پورے ہمالیائی خطے کی حکومتوں اور مقامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل میں ممکنہ آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو مضبوط کریں۔ ان کی سفارشات میں گلیشیئرز، پہاڑوں اور دریائی نظاموں کی نگرانی میں اضافہ، سرحدوں کے آرپار معلومات کا تبادلہ اور مؤثر پیشگی انتباہی و انخلا کے نظام قائم کرنا شامل ہیں۔
ناروے کی حکومت سے وابستہ تحقیقی سائنس دان میریم جیکسن، جو زمین کے منجمد حصوں کے مطالعے کی ماہر ہیں، نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان رابطے اور سائنسی معلومات کے تبادلے میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
جیکسن کے مطابق زمین کے منجمد حصوں میں تیزی سے تبدیلی کے باعث اس نوعیت کی آفات کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اسی دوران ایسے خطرات سے دوچار علاقوں کے قریب رہنے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث بہتر سائنسی معلومات اور مؤثر تیاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
نگرانی کے اس بڑے چیلنج کی نشاندہی رواں ہفتے ماحولیاتی مشاورتی ادارے سسٹمک کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ہندوکش ہمالیائی خطے میں تقریباً 40 ہزار گلیشیئر موجود ہیں، لیکن اس وقت صرف 21 گلیشیئرز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔
ہندوکش ہمالیائی پہاڑی نظام آٹھ ممالک — افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور پاکستان — تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی لیے قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی تیاری محض کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے خطے کا مشترکہ مسئلہ بن چکی ہے۔
چونکہ گلیشیئرز، دریا اور پہاڑی سلسلے سیاسی سرحدوں تک محدود نہیں ہوتے، اس لیے ماہرین کے مطابق کوئی بھی ملک تنہا ان خطرات سے مؤثر طور پر نہیں نمٹ سکتا۔ سائنسی نگرانی میں زیادہ تعاون، معلومات کا بروقت تبادلہ اور مربوط پیشگی انتباہی نظام مستقبل میں پورے ہمالیائی خطے کی آبادیوں کے تحفظ کے لیے مزید اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔









