اسرائیلی نظامِ تسلط کو روایتی اصطلاحات میں بیان کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے

[post-views]
[post-views]

تقریباً ایک سال قبل اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’’بتسلیم‘‘، جس کی میں سربراہی کرتا ہوں، میں ہمیں ایک سنگین مسئلے کا احساس ہوا: مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا تھا، اسے بیان کرنے کے لیے ہماری روایتی زبان اب کافی نہیں رہی تھی۔

مسئلہ معلومات یا شواہد کی کمی کا نہیں تھا۔ تقریباً تین برس سے ہم مسلسل تباہی اور تشدد کے واقعات دستاویزی شکل میں محفوظ کر رہے تھے: فلسطینیوں کے گھروں کو جلایا اور مسمار کیا جا رہا تھا، پوری آبادیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا تھا، بچوں کو گولی مار کر ہلاک کیا جا رہا تھا، سڑکیں بند اور نقل و حرکت محدود کی جا رہی تھی، جبکہ آبادکاروں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے یہودی بالادستی کے دعوے پہلے سے زیادہ کھل کر سامنے آ رہے تھے۔ مغربی کنارے میں جو اقدامات کبھی نسبتاً غیر معمولی سمجھے جاتے تھے، جن میں فضائی حملے، رہائشی علاقوں کی وسیع پیمانے پر تباہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی شامل ہیں، وہ اب معمول کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔

اصل مسئلہ انفرادی واقعات کو دستاویزی شکل دینا نہیں بلکہ اس پورے نظام کو سمجھنا تھا جس کے اندر یہ واقعات رونما ہو رہے تھے۔ کسی ایک گھر کی مسماری، ایک ہلاکت، ایک بے دخلی یا ایک سڑک کی بندش اس وسیع تر حقیقت کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتی۔ اس نظام کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی طور پر مختلف سیاسی زبانوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

پہلی وہ زبان ہے جس کے ذریعے اسرائیلی ریاست اپنی پالیسیوں کی وضاحت اور انہیں جائز قرار دیتی ہے۔ دوسری زبان ان فلسطینیوں کی ہے جو روزمرہ زندگی میں اسرائیلی حکمرانی کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ محض ایک ہی واقعے کی دو مختلف تشریحات نہیں۔ سیاسی زبان اس بات کا تعین بھی کرتی ہے کہ طاقت کو کس طرح سمجھا جائے، کن اقدامات کو قابلِ قبول تصور کیا جائے، کس کے دکھ کو اہمیت دی جائے اور کس کی تکلیف کو نظر انداز کر دیا جائے۔

اسرائیلی کنٹرول میں رہنے والے فلسطینیوں اور دنیا بھر میں صورتحال کا مشاہدہ کرنے والے بہت سے لوگوں کے لیے گھروں کی مسماری، سڑکوں کی بندش، بے دخلی اور تشدد ایک غیر منصفانہ نظامِ تسلط کی علامات ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل کے مرکزی سیاسی بیانیے میں انہی اقدامات کو اکثر ضروری، جائز یا ناگزیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ایک یہودی اسرائیلی کی حیثیت سے میری پرورش بھی اسی سیاسی زبان میں ہوئی۔ فوجی تسلط کو ’’سلامتی‘‘، بے دخلی اور زمین پر قبضے کو ’’آبادکاری‘‘ اور وسیع فوجی طاقت کے استعمال کو ’’اپنا دفاع‘‘ قرار دیا جا سکتا تھا۔ اس زبان کی اثر پذیری کا ایک بڑا سبب اسرائیلی معاشرے میں موجود حقیقی خوف ہے۔ یہ خوف فرضی نہیں۔ کئی دہائیوں سے اسرائیلیوں کے خلاف ہونے والے مسلح حملوں نے اسے تشکیل دیا اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں نے اسے مزید شدید کر دیا۔

تاہم خوف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ فلسطینیوں کو بتدریج ایک ہی شناخت، یعنی ’’سلامتی کے لیے خطرہ‘‘، تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بعض فلسطینیوں کے تشدد کو پوری فلسطینی آبادی پر کنٹرول، پابندیوں اور جبر کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق یہی ان طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے نسلی تفریق کا نظام خود کو برقرار رکھتا ہے۔

جس سیاسی زبان میں میری پرورش ہوئی، اس میں فلسطینیوں کے دکھ سے مکمل انکار ضروری نہیں تھا۔ ان کی تکلیف کو تسلیم کرنا، حتیٰ کہ اس پر شدید افسوس محسوس کرنا بھی ممکن تھا، جبکہ اسی وقت اس سیاسی نظام کو بنیادی طور پر جائز سمجھا جا سکتا تھا جو اس تکلیف کا سبب بن رہا تھا۔ تاہم برسوں سے بڑھتی ہوئی غیر انسانی سوچ کے نتیجے میں فلسطینیوں کا دکھ اسرائیلی عوامی مباحثے کے بڑے حصے سے تقریباً غائب ہوتا جا رہا ہے۔

اسی لیے فلسطینیوں کی اپنی گواہی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس نظامِ اقتدار کے تحت زندگی گزارنے والے لوگ ہی بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں کہ روزمرہ زندگی میں اس کا مطلب کیا ہے: عدم تحفظ، خوف، بے بسی اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی، جہاں اکثر مؤثر تحفظ بھی میسر نہیں ہوتا۔

بتسلیم اب مغربی کنارے میں جاری وسیع تر عمل کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ شائع کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کا استدلال حالیہ واقعات سے کہیں پیچھے تک جاتا ہے۔ یہ تاریخی سلسلے کا آغاز 1948 کے نکبہ سے کرتی ہے، جب لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل یا نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد مہاجرین کو واپس آنے کا حق دینے سے انکار کیا گیا۔ اس کے بعد رپورٹ قبضے، آبادکاری اور اس نظام کے ارتقا کا جائزہ لیتی ہے جسے بتسلیم نسلی تفریق قرار دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف ادوار میں اسرائیلی پالیسی نے مسلسل یہودی اقتدار کو مضبوط کیا، جبکہ فلسطینیوں کی موجودگی، حقوق اور سیاسی زندگی کو زیادہ غیر محفوظ بنایا۔

’’آبادکار نوآبادیات‘‘ کی اصطلاح آج بھی بہت سے اسرائیلیوں کے لیے سخت ناگوار ہے۔ اس ردعمل کی تشکیل بھی بڑی حد تک اسرائیلی سیاسی بیانیے نے کی ہے، جہاں اس اصطلاح کو اکثر یہودی تاریخ یا اس سرزمین سے یہودی تعلق کی نفی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم اس سرزمین سے یہودیوں کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات حقیقی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف حصوں میں یہودی برادریوں کو طویل عرصے تک ظلم، تشدد اور جبر کا سامنا بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن ان حقائق کو تسلیم کرنے سے فلسطینی مسئلہ ختم نہیں ہو جاتا اور نہ ہی اس بے دخلی کی حقیقت مٹتی ہے جس کے ذریعے خصوصی یہودی اقتدار قائم کیا گیا۔

وقت کے ساتھ پالیسیاں، ادارے اور سیاسی حالات ضرور تبدیل ہوئے ہیں، لیکن بنیادی استدلال اپنی جگہ موجود ہے: اسرائیل نے ایک ایسا سیاسی نظام برقرار رکھا ہے جس میں یہودیوں اور فلسطینیوں کو مساوی حقوق، مساوی سیاسی طاقت اور زمین پر مساوی اختیار حاصل نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]