ایپل کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اگلے سال کے اوائل تک اپنے پہلے مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ گلاسز پیش کر دے گا۔ ان گلاسز میں وژول انٹیلی جنس کو شامل کیا جائے گا جس سے سِری کو حقیقی دنیا میں استعمال کرنا ممکن ہو جائے گا۔
بنیادی خصوصیات یہ گلاسز بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی ہوں گے نہ کہ آگمینٹڈ ریلیٹی گلاسز، یعنی ان میں اندرونی ڈسپلے کے بجائے زیادہ تر انحصار آواز اور کیمرے کی صلاحیتوں پر ہوگا۔ ان میں موجود کیمروں کی مدد سے سِری صارف کے ارد گرد کے ماحول کا ریئل ٹائم میں جائزہ لے سکے گی، سوالات کے جوابات دے گی، سیاق و سباق فراہم کرے گی اور سائن بورڈز کا ترجمہ کرے گی۔ میک او ایس کی ایک لیک میں سامنے آنے والی ایک اور توقع کی جانے والی خصوصیت یہ ہے کہ صارف سِری کو کسی بھی چیز کی تصویر محفوظ کرنے اور اس سے متعلق بعد میں یاد دہانی سیٹ کرنے کا کہہ سکیں گے۔
ان اسمارٹ گلاسز میں موسیقی اور آواز سننے کے لیے اسپیکرز بھی شامل ہوں گے جو اوپن ایئر ہیڈ فونز کی طرح کام کریں گے۔ ایک قابلِ ذکر حد یہ ہے کہ بلومبرگ کے مارک گورمین کے مطابق، شاید یہ گلاسز عام تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی سہولت فراہم نہ کریں۔ یہ فیصلہ غالباً پرائیویسی کے ان خدشات اور تنقید سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے جو میٹا کے اسمارٹ گلاسز کے سامنے انے پر دیکھنے میں آئی تھی۔
ڈیزائن اور اسٹائل میٹا کے برعکس—جس نے ایک معروف برانڈ کے ساتھ شراکت داری کی تھی—ایپل ان گلاسز کو مکمل طور پر خود تیار کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے متعدد اسٹائلز پر کام جاری ہے:
- کلاسک طرز کا بڑا مستطیل فریم
- ایک باریک مستطیل ڈیزائن جیسا کہ ایپل کے سربراہ ٹِم کُک پہنتے ہیں
- ایک بڑا بیضوی یا دائرہ نما فریم
- ایک چھوٹا اور نفیس بیضوی یا دائرہ نما انتخاب
ان فریموں کو عام پلاسٹک کی بجائے ‘ایسیٹیٹ’ سے بنائے جانے کی توقع ہے جو زیادہ پائیدار اور اعلیٰ معیار کا مواد ہے۔ یہ سیاہ، سمندری نیلا اور ہلکا بھورا سمیت مختلف رنگوں میں دستیاب ہوں گے۔
صحت سے متعلق خصوصیات کہا جا رہا ہے کہ ایپل اس مصنوعات کے مستقبل کے ماڈلز کو صحت سے متعلق ایک آلے کے طور پر پیش کرنے کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس میں دل کی دھڑکن کی پیمائش اور ایپل واچ کی مانند سافٹ ویئر خصوصیات شامل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم، ایپل صحت کے اس شعبے کو کس طرح مکمل شکل دے گا یہ ابھی غیر واضح ہے اور ابتدائی ماڈل میں اس کی شمولیت کی توقع نہیں









