حکومت کا لیسکو اور میپکو کو موجودہ حالت میں ہی فروخت کرنے کا فیصلہ

[post-views]
[post-views]

وزارتِ نجکاری نے ملک کی دو بڑی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں—لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO)—کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے موجودہ حالت میں ہی نجی شعبے کے حوالے (Privatise) کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نجکاری کمیشن کی قائم کردہ تکنیکی کمیٹی کی سفارشات پر کیا گیا ہے، جس کا ماننا ہے کہ تقسیم کاری کے عمل سے نجکاری کے منصوبے میں تاخیر ہوگی۔

اس فیصلے اور دونوں کمپنیوں سے متعلق اہم حقائق درج ذیل ہیں:

  • مالیاتی مشیر کا تقرر: نجکاری کمیشن نے نجی شعبے کی شمولیت کے لیے ایک فنانشل ایڈوائزر کی خدمات حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے لیے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے درخواستیں (RFPs) طلب کر لی گئی ہیں۔
  • میپکو (MEPCO): ملک کی سب سے بڑی تقسیم کار کمپنی ہے جو جنوبی پنجاب کے ۱۳ اضلاع کے تقریباً ۸۷ لاکھ ۶۰ ہزار صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ۸۲,۰۰۰ کلومیٹر طویل لائنوں اور ۷۸۰ سے زائد گرڈ اسٹیشنز پر مشتمل ہے۔
  • لیسکو (LESCO): لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کے تقریباً ۷۰ لاکھ ۵۰ ہزار صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔
  • عملکردگی کے چیلنجز: دونوں کمپنیاں بجلی چوری، لائن لاسز اور بلوں کی عدم وصولی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کی آڈٹ رپورٹس کے مطابق دونوں اداروں کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی، تاہم اب دونوں کمپنیاں سمارٹ میٹرنگ (AMI) اور ڈیجیٹل بلنگ کے ذریعے نظام کو جدید بنانے پر کام کر رہی ہیں۔

حکومت کے اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامی پیچیدگیوں سے بچنا اور نجکاری کے عمل کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]