بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

شمالی پاکستان میں چیک پوسٹ پر حملے میں 15 افراد ہلاک، شدت پسند حملوں میں اضافہ

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد — شمالی پاکستان میں بدھ کی شب ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم سات پولیس اہلکار اور آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ بائیس اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی صوبے میں ایک اور حملے میں دو درجن سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پیش آیا۔ ضلعی پولیس افسر طارق حبیب نے بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا، جبکہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل ضلع ٹانک میں بھی ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا۔ افغانستان سے ملحقہ خیبرپختونخوا گزشتہ کچھ عرصے سے تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کی لپیٹ میں ہے۔

گزشتہ جمعے کے حملے میں شدت پسندوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی سکیورٹی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی تھی، جس کے نتیجے میں فوجی، پولیس اہلکاروں اور دیگر سرکاری ملازمین سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فوج کے مطابق جوابی کارروائی میں بارہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی جڑیں افغانستان میں موجود ہیں، تاہم افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ان الزامات کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں مسلح جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان کے اندر فضائی حملے کر چکا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف شدت پسند تھے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون میں مشرقی افغانستان پر ہونے والے تازہ پاکستانی حملوں میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]