برسلز: یورپی یونین منگل کو ہسپانوی خودمختار علاقے سیوٹا میں مہاجرین کے بحران پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جہاں مراکش سے تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن کے داخلے کے بعد اسپین اور دیگر رکن ممالک کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
نیدرلینڈز، فن لینڈ اور بیلجیم سمیت 22 یورپی ممالک نے مشترکہ خط کے ذریعے بحران سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن اور یورپی یونین کی کونسل کی موجودہ صدارت رکھنے والے آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم مائیکل مارٹن کے نام لکھے گئے خط میں خبردار کیا گیا کہ غیر قانونی داخلے کو ممکن ظاہر کرنے والے ہائبرڈ خطرات مزید مہاجرین کو یورپ کا رخ کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں، جس سے مشترکہ یورپی امیگریشن پالیسی پر اعتماد متاثر ہوگا۔
دوسری جانب اسپین نے بعض یورپی ممالک کے ردعمل کو “خود غرض، تقسیم پیدا کرنے والا اور غیر قانونی” قرار دیا۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت سرحدی آزادانہ آمدورفت کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا، جس کی فن لینڈ اور ڈنمارک نے بھی حمایت کی۔
ہسپانوی حکام کے مطابق 30 جولائی کو سیوٹا پہنچنے والے تقریباً تمام مہاجرین اب وہاں سے جا چکے ہیں، تاہم اس بحران سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔
ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن کی صدر کو لکھے گئے الگ خط میں بعض یورپی حکومتوں کے رویے پر “شدید تشویش” کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین نے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سرحد پر مکمل کنٹرول بحال کر لیا اور کسی بھی غیر قانونی مہاجر کو یورپ کے دیگر حصوں کی طرف جانے سے روک دیا۔ ان کے مطابق بیشتر یورپی ممالک نے اسپین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن بعض حکومتوں نے تعصب، جھوٹی خبروں، لاعلمی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا، حالانکہ سیوٹا خود شینگن علاقے کا حصہ نہیں ہے۔
گزشتہ جمعہ کو پیڈرو سانچیز نے الزام لگایا کہ انسانی اسمگلر ہسپانوی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس نے سمندر کے راستے آنے والے مہاجرین کی فوری بے دخلی پر بعض قانونی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ وزیرِ داخلہ فرنینڈو گراندے مارلاسکا نے کہا کہ سیوٹا میں حالات تقریباً معمول پر آ چکے ہیں، کاروباری سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں اور حکومت سمندر کے راستے غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے عارضی تیرتی رکاوٹ (Inflatable Barrier) نصب کر رہی ہے۔
شینگن معاہدہ دباؤ میں
اس بحران نے ایک بار پھر شینگن معاہدے پر بحث چھیڑ دی ہے، جس کے تحت 29 یورپی ممالک میں 45 کروڑ سے زائد افراد بغیر سرحدی چیک کے سفر کر سکتے ہیں۔ اٹلی کے فیصلے کے علاوہ فن لینڈ، فرانس اور پرتگال بھی سرحدی چیک دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ شینگن تعاون کی معطلی سمیت تمام آپشنز پر غور کرے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن نے سیوٹا کی صورتحال کو “ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کسی کو بھی اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے مراکش سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی مہاجرین کو فوری واپس لے، جبکہ برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانیہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اسپین کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔
افریقہ اور یورپ کے درمیان حساس سرحد
سیوٹا اور میلیلا افریقہ میں یورپی یونین کی واحد زمینی سرحدیں ہیں، جہاں مہاجرین اکثر سمندر میں کئی کلومیٹر تیر کر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ رواں سال آنے والی لہر غیر معمولی ہے، تاہم سیوٹا طویل عرصے سے یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کا اہم راستہ رہا ہے۔ 2021 میں بھی تقریباً 8 ہزار افراد چند ہی دنوں میں سیوٹا پہنچ گئے تھے، جس کے باعث اسپین اور مراکش کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
اسپین عمومی طور پر امیگریشن کے حوالے سے نسبتاً نرم پالیسی رکھتا ہے۔ رواں سال اپریل میں حکومت نے پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دے کر انہیں باقاعدہ افرادی قوت کا حصہ بنانے کے منصوبے کی منظوری بھی دی تھی۔








